غدہ فوق الکلیہ
| غدہ فوق الکلیہ | |
|---|---|
![]() | |
![]() Adrenal gland | |
| تفصیلات | |
| نظام | Endocrine |
| شریان | superior suprarenal artery, middle suprarenal artery, Inferior suprarenal artery |
| ورید | suprarenal veins |
| عصب | celiac plexus, renal plexus |
| لمف | lumbar glands |
| شناخت کنندگان | |
| لاطینی | glandula suprarenalis |
| میش | properties |
| TA98 | A11.5.00.001 |
| TA2 | properties |
| FMA | 9604 |
| تشریحی اصطلاحات | |
غدۂ فوق الکلیہ یا غدۂ کلاہ گردہ (ایڈرینل غدود) یہ دروں افرازی غدود ہیں اور گردوں کے بالائی حصے پر واقع ہوتے ہیں۔ یہ دروں افرازی نظام (Endocrine system) کا ایک حصہ ہیں۔ یہ غدود مخصوص کیمیائی مرکبات پیدا کرتے ہیں۔ یہ مرکبات ہارمون کہلاتے ہیں۔ ہارمون جسم کے افعال کو کنٹرول کرنے کے لیے براہ راست خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ہر ہارمون جسم میں ایک مخصوص فعل کو کنٹرول کرتا ہے۔
غدہ فوق الکلیہ کے دو حصے ہوتے ہیں: قشر الکلیہ / ایڈرینل کارٹیکس (بیرونی جانب ) اور لب الکلیہ / ایڈرینل میڈولا (اندرونی جانب)۔ ایڈرینل کارٹیکس کے ہارمونوں میں سے کئی ہارمون جسم میں شکر کے استعمال کو باقاعدہ بناتے ہیں۔ شکر جسم کے لیے توانائی کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ ہارمون خون میں نمک کی مقدار کو بھی اعتدال پر رکھتے ہیں۔ اگر یہ اپنا کام کرنا بند کر دیں تو موت واقع ہو سکتی ہے۔

ایڈرینل کارٹیکس اس وقت ہارمون بناتا ہے جب دماغ کی بنیاد پر واقع غدۂ نخامیہ (پیچوٹری غدود) کا ایک ہارمون ACTH ایڈرینل غدود کو اس کام کی تحریک (Stimulation) دیتا ہے۔ ایڈرینل کاٹیکس کا سب سے معروف ہارمون کورٹیسول ہے۔
جب ایڈرینل غدود میڈولا دماغ سے ایک خاص اشارہ وصول کرتا ہے، تو یہ ایک ہارمون کلاہ گردہ (ایڈرینالین) بناتا ہے۔ یہ ہارمون دباؤ کی حالت میں جسم کو زیادہ توانائی دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص خوفزدہ ہو تو وہ عام حالت کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اور دیر تک بھاگ دوڑ سکتا ہے۔ کیونکہ ایڈرینالین اس کے خون میں شامل ہو چکا ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص خوف کی حالت میں ہوتا ہے لیکن بھاگتا نہیں، تو ایسی صورت میں دوران خون میں شامل ایڈرینالین کی وجہ سے اس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگتے ہیں۔

