کوہ چلتن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کوہ چلتن واقع کوئٹہ بلوچستان
کوہ چھلتن واقع چشت افغانستان

چلتن کا شمار بلوچستان کے سب سے اونچی چوٹیوں میں ہوتا ہے۔ ہزار گنجی اور چلتن کے پہاڑی علاقے ایک دوسرے کے ساتھ واقع ہیں۔ کوہ چلتن کو جنگلی حیات کے لیے محفوظ کردیا گیا ہے۔ ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک پاکستان کا ایک خوبصورت نیشنل پارک ہے۔

چلتن پہاڑ کے نام کے بارے میں کئی من گھڑت کہانیاں مشہور ہیں، مگر جو بات تاریخ سے ثابت ہے وہ یہ کہ خواجہ قطب الدین مودود چشتی کے اولاد میں سے ان کے تین نواسوں نے چھ سو برس قبل چشت ہرات افغانستان سے بلوچستان کی طرف ہجرت کی، جن میں سے ایک بھائی خواجہ نظام الدین علی نے پشین منزکی میں سکونت اختیار کی، دوسرے بھائی خواجہ ابراہیم یکپاسی نے مستونگ بلوچستان کا رخ کیا اور وہاں سکونت اختیار کی اور تیسرے بھائی خواجہ نقرالدین شال پیر بابا نے کوئٹہ میں سکونت اختیار کی۔ خواجہ نقرالدین شال پیر بابا کو افغانستان کے بادشاہوں کی طرف سے وادی کوئٹہ کا مغربی حصہ دیا گیا تھا۔ خواجہ نقرالدین شال پیر بابا کے فرزند خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کے مقام پر آباد ہوئے۔ کرانی اسی جاگیر کے اندر واقع ہے۔ کوہ چلتن کو چلتن کا نام خواجہ نقرالدین شال پیر بابا کے دور میں ملا۔ اس کے علاوہ میان غنڈی اور دشت کو بھی اسی دور یہ نام ملے کیونکہ یہ بھی خواجہ نقرالدین شال پیر بابا کے جاگیر کا حصّہ تھے۔

چشت ہرات افغانستان میں بھی چلتن کے نام سے ایک پہاڑ مشہور ہے۔ چونکہ یہ اولیاء چشت شریف سے ہجرت کر کے آئے تھے اور چشت شریف میں بھی اسی نام سے با لکل اسی مشابہت کی ایک چوٹی موجود ہے، اس لئے سادات چشتیہ نے اپنے سابقہ وطن اور اجداد کی محبت میں اس پہاڑ کو بھی چلتن کا نام دیا۔ علاوہ ازیں چشت اور کرانی کے موسم بھی ایک جیسے ہیں، اس لیے دونوں ہم نام پہاڑوں کے درخت اور پودے بھی ایک جیسے ہیں۔

کوہ چلتن واقع کوئٹہ بلوچستان[ترمیم]


کوہ چلتن واقع چشت افغانستان[ترمیم]


فارسی ویب سائٹ[ترمیم]

اس فارسی ویب سائٹ میں چشت شریف میں واقع چلتن [1] پہاڑ کا ذکر کیا گیا ہے، اس کے دامن میں ایک اوطا ق (مہمان خانہ) کا ذکر کیا گیا ہے اور چشت شریف میں آنے والے مہمانوں کا ذکر ہے، جو حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمۃ اللہ عليہ (430ہجری  527 ہجری) بمطابق (پیدائش 1038ء وفات 1142ء) سے درس اور فیض حاصل کرتے تھے۔

سلام به همه مسافران عزیز که به چشت شریف مظهر طریقه چشتیه تشریف میاورند بلی در چشت شریف قطب وقوس تشریف دارند که از انجمله حضرت سید سلطان مودود چشتی در رس قرار دارند بلی در چشت شریف یک کوه بنام چهلتن یاد می کنند در انجا زیارت از سنگ جور شده وسه اطاق دارد که هر چی مسافر زیارتی که میاید شب خود را در ان سپری می کنند ولی اب دورتر است ضرورت و پیپ دارد که نل کشی شود یاد اورشوم که مردم چشت مردم با طریقت هستند اما از اقتصاد ضعیف هستند نیکه وقت پیپ کشی خواهد کردی چشمه که از داخل کوه میاید بسیار اب شرین دارد شما در باره بی نظافتی که در داخل ولسوالی یاد اور شدیند واقعت دارد ان بی نظافتی همه از دست قوماندان امنیه ان ولسوالی است چرا؟ان حق ندارد که در داخل ولسوالی اطاق داشته باشد چونکه ق سیباست و برای هر عسکر خود یک حمام از داخل وتسوالی گرفته ان چند مشکل دارد ق درباره سالون مجلس بی کفایتی از ولسوال است چرا؟ اینکه یک نفر از بابت تمیزی ان معاش می گیرد ولسوال میتواند به جای ان دیگری را انتخاب کند تشکر از معلومات شما در باره بزگان با طریقت چشتی باز هم تشکر [2]


  1. ^ کوہ چھلتن واقع چشت افغانستان
  2. ^ در چشت شریف یک کوه بنام چهلتن یاد می کنند