ہائیڈیز (نجمی جھرمٹ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہائیڈیز (عربی: القصائص) جس کو میلوٹ 25 یا کولنڈر 50 سے بھی جانا جاتا ہے نظام شمسی کا ایک قریبی کھلا ہوا جھرمٹ ہے۔ تمام نجمی جھرمٹوں میں اس پر سب سے زیادہ اچھے طریقے سے تحقیق کی گئی ہے۔ ہپارکوس سیارچہ، ہبل خلائی دوربین اور زیریں سرخ رنگی قدری خاکے کی پیمائش کا استعمال کرکے جھرمٹ کے مرکز سے اس کا فاصلے کا اندازہ لگ بھگ 153 نوری برس کا لگایا گیا ہے۔ ان تین خود مختار طریقوں سے پیمائش کیے گئے فاصلے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں اس طرح سے یہ ہائیڈیز کو کائناتی فاصلے کی سیڑھی کا ایک اہم ڈنڈا بناتے ہیں۔ جھرمٹ لگ بھگ سینکڑوں ستاروں کے کروی گرہ پر مشتمل ہے جن کی نہ صرف عمر لگ بھگ ایک جتنی ہی ہیں بلکہ کیمیائی اجزاء اور خلاء میں جاری حرکت بھی ایک جیسی ہی ہیں۔ زمین پر موجود ناظر کے نقطۂ نگاہ سے، ہائیڈیز جھرمٹ برج ثور میں نظر آتا ہے جہاں اس کے روشن ستارے اپنے ساتھ موجود روشن سرخ دیو الدبران کے ساتھ مل کر ایک انگریزی حرف "V" کی شکل بناتے ہیں۔ بہرحال الدبران کا ہائیڈیز سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ زمین سے کافی قریب ہے (لہٰذا اس کی ظاہری درخشندگی ) اتفاقی طور پر اسی خط نظر پر واقع ہے ۔ 

ہائیڈیز کے تمام پانچ روشن ارکان اہم سلسلے سے دور ارتقائی منزل طے کر چکے ہیں اور اب وہ دیو ستاروں کی شاخ کے آخری حصّے میں ہیں۔ ان ستاروں میں سے چار ستارے بایر شناخت کے ساتھ گیما، ڈیلٹا اول، ایپسیلو ن اور تھیٹا ثور ایک عقد النجموم کو بناتے ہیں جو روایتی طور پر ثور یعنی بیل کے سر کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ دوسرا زیٹا اول ثور ہے جو جنوب میں مزید 2° پر واقع ہے۔ ایپسیلون ثور جو عین (بیل کی آنکھ) سے جانا جاتا ہے، اس کے پاس ایک گیسی دیو ماورائے شمس سیارے کا امید وار موجود ہے، یہ پہلا سیارہ ہوگا جو کھلے ہوئے جھرمٹ میں دریافت ہوگا۔

ہائیڈیز کی عمر کا تخمینہ 62 کروڑ 50 لاکھ کا لگایا گیا ہے۔ جھرمٹ کے قلب کا نصف قطر 2.7 پار سیک (17.6 نوری برس کے برابر نصف قطر )ہے جہاں پر ستارے زیادہ تکثیفی طرح موجود ہیں اور جھرمٹ کا مد وجزر کا نصف قطر 10 پار سیک (65 نوری برس کے برابر) ہے۔ بہرحال اس حد کے باہرایک تہائی  گروہ کے ستاروں کے  اراکین کے مشاہدے کی تصدیق ہو چکی ہے، جھرمٹ کے توسیعی  ہالے میں؛ یہ ستارے ممکنہ طور پر اس کے ثقلی اثر سے فرار حاصل کر رہے ہیں ۔

حرکت صحیح [ترمیم]

ہائیڈیز کے ستارے سورج اور نظام شمسی کے پڑوسی ستاروں کی نسبت بھاری عناصر سے زیادہ افزودہ ہیں، پورے جھرمٹ کی دھاتی خاصیت کی پیمائش +0.14 کی گئی ہے۔

حرکت صحیح کی متحرک تصویر +/- 300000 برس (ناک کی سمت کا منظر)
سہ جہتی عینک کی مدد سے حرکت صحیح کی متحرک تصاویر کروڑ ہا برس کے دوران  (سرخ - سبز یا  سرخ - نیلی)

ہائیڈیز جھرمٹ سورج کے پڑوس میں دوسرے نجمی گروہوں سے تعلق رکھتا ہے جبکہ اس کی حرکت صحیح دوسرے بڑے اور زیادہ دور موجود قصیر جھرمٹ سے ملتی ہے اور دونوں جھرمٹوں کی خط پرواز اسی خلاء کے علاقے میں ماضی میں ان کا پتا بتاتی ہے جس سے دونوں کے مشترک ماخذ کا عندیہ ملتا ہے۔ ایک اور ساتھی ہائیڈیز بہاؤ ہے جو ایک بڑا اور منتشر ستاروں کا مجموعہ ہے اس کی خط پرواز بھی ہائیڈیز جھرمٹ جیسی ہی ہے۔ حالیہ دور میں حاصل ہونے والے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ہائیڈیز بہاؤ میں کم از کم 15 فیصد ستاروں میں وہی دھاتی نقش پا موجود ہیں جو ہائیڈیز جھرمٹ کے ستاروں میں ہیں۔ تاہم ہائیڈیز بہاؤ میں موجود لگ بھگ 85 فیصد ستارے مکمل طور پر اصل جھرمٹ سے عمر و دھاتی افزودگی کی بنیاد پر الگ ہیں؛ ان کی مشترک حرکت صحیح کی وجہ ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود ضخیم گھومتی ہوئی سلاخ کے موجی اثرات ہیں۔ ہائیڈیز بہاؤ کے باقی بچے ہوئے اراکین میں سے، ماورائے شمس سیارے رکھنے والا ستارہ حبہ ساعت کو حال ہی میں قدیمی ہائیڈیز جھرمٹ کا مفرور رکن تجویز کیا گیا ہے۔

ہائیڈیز دو قریبی نجمی گروہ خوشہ پروین اور دب اکبر بہاؤ سے غیر متعلق ہے جو رات کے صاف آسمان میں خالی آنکھ سے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

تاریخ [ترمیم]

ہائیڈیز جھرمٹ کے قلب میں موجود روشن ستارے 

یونانی اساطیر میں ہائیڈیز اٹلس کی پانچ بیٹیاں اور خوشہ پروین کی سوتیلی بہنیں تھیں۔ اپنی بھائی ہیاس کی موت کے بعد روتی ہوئی بہنیں ستاروں کے جھرمٹ میں تبدیل ہو گئی تھیں جن کو بعد میں بارش سے جوڑ دیا گیا تھا۔

خالی آنکھ سے دیکھے جانے والے جسم کے طور پر، ہائیڈیز جھرمٹ کو ماقبل تاریخی دور سے جانا جاتا ہے۔ اس کا ذکر بہت سے کلاسیکل مصنفین ہومر سے لے کر اوویڈتک نے کیا ہے۔ ایلیڈ کی 18 ویں کتاب میں ہائیڈیز کے ستارے خوشہ پروین، دب اکبر اور جوزا کے ساتھ ایک ڈھال میں ظاہر ہوئے تھے جس کو آگ کے دیوتا نے ایکیلز کے لیے بنایا تھا۔ 

انگلستان میں اس جھرمٹ کو " برساتی اپریل" سے جانا جاتا ہے جس کی نسبت لوک گیت "ہریالی تیزی سے ہو " میں درج کی ہوئی اپریل کی بارش سے دی گئی ہے۔

اس جھرمٹ کی فہرست ممکنہ طور پر سب سے پہلے جیوانی بتستا ہودرنا نے 1654ء میں ترتیب دی تھی، بعد میں یہ سترویں اور اٹھارویں صدی کے کافی سارے ستاروں کے نقشے میں شامل ہو گیا تھا۔ بہرحال چارلس میسی نے اپنی 1781ء والی آسمانی اجسام کی فہرست میں اس کو شامل نہیں کیا تھا۔ لہٰذا اس کو میسی کا کوئی عدد نہیں دیا گیا، جس طرح دوسرے دور کے کھلے ہوئے جھرمٹوں مثلاً ایم 44 (قصیر)، ایم 45 (خوشہ پروین) اور ایم 67 کو عدد دیے گئے تھے۔

1869ء میں ماہر فلکیات آر اے پراکٹر نے مشاہدہ کیا کہ ہائیڈیز سے دور کافی سارے ستاروں کو خلاء میں حرکت کرنے کا عمل اس جیسا ہی تھا۔ 1908ء میں لوئس باس نے 25 برس کے مشاہدات کو پیش کیا جو اس بات کی تائید کر رہا تھا، اس نے دلیل دی کہ ایک ساتھ حرکت کرتے ہوئے ستاروں کا گروپ وجود رکھتا ہے جس کو اس نے ثور بہاؤ کا نام دیا (جس کو اب عام طور پر ہائیڈیز بہاؤ یا ہائیڈیز فوق جھرمٹ سے جانا جاتا ہے)۔ باس نے ایک جدول کو شایع کیا جس نے منتشر ستاروں کی حرکت کو ماضی میں ایک مشترک مقام پر سمٹتا ہوا دکھایا ۔

1920ء تک یہ تصوّر کہ ہائیڈیز، قصیر جھرمٹ کے ساتھ ہی اصل ماخذ کا شریک ہے قبول عام ہو گیا تھا، روڈولف کلین واسینک نے 1927ء میں درج کیا کہ دو جھرمٹ ممکنہ طور پر کائناتی تعلق رکھتے ہیں۔ بیسویں صدی کی زیادہ تر ہائیڈیز پر ہونے والی تحقیق نے اس کے فاصلے کے تعین، اس کے ارتقائی نمونے، اراکین کے شمولیت یا اس کا رد اور انفرادی ستاروں کی خصلت پر زور رکھا۔ 

شکلیات اور ارتقا[ترمیم]

تمام ستارے جھرمٹوں کی صورت میں بنتے ہیں تاہم زیادہ تر جھرمٹ اپنی تشکیل کے ٥ کروڑ برس میں ہی ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس عمل کو فلکیاتی اصطلاح میں "عمل تبخیر" کہتے ہیں۔ صرف بہت ہی زیادہ ضخیم جھرمٹ جو کہکشانی مرکز سے کافی دور رہ کر چکر لگاتے ہیں وہ اس عمل تبخیر کے عمل کو تھوڑا اور عرصہ تک کھینچ سکتے ہیں۔ اس طرح کا ایک باقی بچا رہنے والا ہائیڈیز جھرمٹ شاید اپنی پیدائش کے وقت ستاروں کی کافی زیادہ آبادی کا حامل تھا۔ اس کی اصل کمیت کے تخمینہ جات اس کی کمیت کو ہمارے سورج کی کمیت کے 800تا 1600 گنا زیادہ تک بتاتے ہیں اس کا مطلب اب بھی اس میں ستاروں کی کافی تعداد کو موجود ہونا ہے۔

ستاروں کی تعداد [ترمیم]

نظریہ بتاتا ہے کہ ایک اس حجم کے نوجوان جھرمٹ میں ہر طیفی قسم کے ستارے اور ذیلی نجمی اجسام، بڑے سے لے کر گرم O ستارے تک اور دھندلے بھورے بونوں تک کے ستارے پیدا ہوتے ہیں۔ بہرحال ہائیڈیز کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس میں دونوں طرف کے شدید کمیت والے ستاروں کی کمی ہے۔ 62کروڑ 50 لاکھ برس کی عمر میں جھرمٹ کا اہم سلسلے سورج کی کمیت کے 2.3 گنا کے ستاروں میں بدل گئے، یعنی کہ تمام بھاری ستارے ذیلی دیو، دیو یا سفید بونوں میں تبدیل ہو گئے، جبکہ کم کمیت کے ستاروں نے ہائیڈروجن کو ضم کرنے کے اہم سلسلے میں جاری رکھا۔ مفصل سروے میں معلوم ہوا کہ کل ملا کر آٹھ سفید ستارے جھرمٹ کے مرکز میں موجود ہیں جو اصل B جماعت کے ستاروں (جس میں سے ہر ایک کی کمیت لگ بھگ سورج کی کمیت کے تین گنا ہے)کی اصل آبادی کی حتمی ارتقائی منزل کو ظاہر کرتے ہیں۔ فی الحال اس سے پہلے کا ارتقائی مرحلہ ایک چار سرخ دیو کے ڈھیر کی صورت میں موجود ہے۔ ان کی حالیہ طیفی قسم K0 III ہے، تاہم ان میں سے تمام اصل میں " جماعت A کے سبکدوش ستارے" ہیں جن کی کمیت سورج کی کمیت کا 2.5 گنا ہے۔ ایک اضافی "سفید دیو" جماعت A7 III کا ستارہ تھیٹا ثور سے قدیم ہے، جو ایک ثنائی نظام ہے جس میں ایک کم ضخامت والا طیفی جماعت A ساتھی ہے؛ یہ جوڑا بصری طور پر تھیٹا ثور سے تعلق رکھتا ہے، جو ان چار سرخ دیو میں سے ایک ہے جن کے جماعت A کے ثنائی ساتھی بھی ہیں۔

تصدیق ہوئے جھرمٹ کے اراکین میں سے باقی بچی ہوئی آبادی میں کافی تعداد میں روشن ستارے جن کی قسم جماعت A (کم از کم 21)، F (لگ بھگ 60) اور G (لگ بھگ 50) کی ہے۔ ستاروں کی یہ تمام اقسام ہائیڈیز کے مدوجذر کے نصف قطر کے اندر زیادہ تکثیف ہو کر مرتکز ہیں بجائے زمین کے 10 پار سیک کے نصف قطر میں مرتکز ہوں۔ مقابلے کے لیے ہمارا مقامی 10 پار سیک کرہ میں صرف جماعت A کے چار ستارے، F کے 6 ستارے اور G کے 21 ستارے ہوتے ہیں۔

ہائیڈیز قبیلے کے کم کمیت کے ستارے – طیفی جماعت K اور M –اپنی قربت اور لمبے عرصے کے مشاہدات کے باوجود اب بھی اچھی طرح سے جانے جانا باقی ہیں۔ کم از کم 48 جماعت K کے بونے ستاروں کی تصدیق بطور رکن ہو چکی ہے، ساتھ ساتھ تقریباً درجن بھر M بونے ستارے طیفی جماعت M0-M2 بھی ساتھ ہی موجود ہیں۔ مزید M بونوں کے بارے میں خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم اس میں سے کچھ ہی M3 کے بعد کے ہیں، جبکہ صرف 12 بھورے بونے ہی فی الوقت درج کیے گئے ہیں۔ کمیت کے نچلے حصّے میں ہونے والی یہ کمی نظام شمسی کے 10 پار سیک کے اندر ہونے والی ستاروں کی تقسیم سے زبردست طرح سے مخالفت میں ہے، جہاں کم از کم 239 M بونے موجود ہوتے ہیں اور یہ آس پاس کے پڑوس کا 76فیصد ہیں۔  

کمیت کی علیحدگی[ترمیم]

ہائیڈیز جھرمٹ میں مشاہداتی نجمی تقسیم کمیت کی علیحدگی کی تاریخ کو ظاہر کرتی ہے۔ سفید بونے کو چھوڑ کر، جھرمٹ کا مرکز 2 پار سیک (6.5 نوری برس) میں صرف ستاروں کا وہ نظام شامل ہے جس کی کمیت کم از کم ایک سورج کی کمیت کے برابر ہے۔ بھاری ستاروں کی اس قدر تکثیف کی وجہ سے ہائیڈیز کو اپنی وہ ساخت ملی ہے، جس کا قلب روشن، قریبی کسے ہوئے نجمی نظام اور ایک ہالہ جو کافی الگ تھلگ ستاروں پر مشتمل ہے جس میں بعد الذکر طیفی جماعت عام ہے۔ قلب کا طیف 2.7 پار سیک (8.8 نوری برس یعنی لگ بھگ سورج اور شعرائے یمانی کے فاصلے سے تھوڑا زیادہ ہے )، جبکہ آدھی کمیت کا نصف قطر، جس میں جھرمٹ کی کمیت کا آدھا حصّہ شامل ہے اس کا فاصلہ 5.7 پار سیک (18.6 نوری برس )کا ہے۔ مدو جذرکا نصف قطر 10پار سیک (32.6 نوری برس) ہائیڈیز کی اوسط باہری حد کو ظاہر کرتا ہے، جس کے بعد کوئی ستارا جھرمٹ کے مرکز سے ثقلی طور پر جڑا نہیں رہ سکتا۔ 

نجمی عمل تبخیر جھرمٹ کے ہالے میں اس وقت واقع ہوتا ہے جب ستارے زیادہ ضخیم اندرونی ستاروں کی وجہ سے منتشر ہوتے ہیں۔ ہالے سے وہ کہکشانی قلب سے نکلنے والی مدو جذر کی وجہ سے یا پھر تیرتے ہوئے ہائیڈروجن کے بادلوں کے تصادموں سے پیدا ہونے والی صدماتی موجوں کی وجہ سے کھو جاتے ہیں۔ اس طرح سے ممکنہ طور پر ہائیڈیز نے اپنی M بونوں کی زیادہ تر آبادی کو روشنی ستاروں کی کافی تعداد کے ساتھ کھویا ہے۔ 

نجمی کثرت [ترمیم]

کمیت کی علیحدگی کا ایک اور نتیجہ یہ نکلا کہ جھرمٹ کے قلب میں ثنائی نظام مرتکز ہو گئے۔ معلوم F اور G جماعت کے ستاروں کے آدھے سے زیادہ تعداد ثنائی ہے اور یہ ترجیحی طور پر اس مرکزی قلب کے علاقے میں ہی وقوع پزیر ہوئے ہیں۔ جیسا کہ قریبی شمسی پڑوس میں ہوتا ہے، ثنائیت نجمی کمیت کے بڑھنے کے ساتھ بڑھتی ہے۔ ہائیڈیز میں ثنائی نظام K جماعت کے ستاروں کے درمیان 26 فیصد تا جماعت A ستاروں کے درمیان 87فیصد تک ہے۔ ہائیڈیز کی ثنائیت میں دوری بہت کم ہوتی ہے، زیادہ تر ثنائی جوڑوں کے مدار مشترک ہیں جن کے نصف محوار عظم50 فلکی اکائی سے بھی کم ہیں۔ ہرچند کہ جھرمٹ کے واحد سے کثیر نظاموں کے درمیان موجود صحیح تناسب اب بھی ٹھیک طرح سے معلوم نہیں ہے، اس نسبت کے ٹھیک طرح سے معلوم ہونے سے ہماری اس کی آبادی کی تفہیم پر کافی فرق پڑے گا۔ مثال کے طور پر پیری مین و دیگر نے 200 کے قریب ہائیڈیز کے اراکین کا بلند امکان ظاہر کیا ہے۔ اگر ثنائیت اس کا 50 فیصد ہوتی ہے،تب پورے جھرمٹ کی آبادی میں سے کم از کم 300 انفرادی ستارے ہوں گے۔

مستقبل میں ہونے والا ارتقا [ترمیم]

سروے بتا رہے ہیں کہ 90 فیصد کھلے ہوئے جھرمٹ اپنی تخلیق کے ایک ارب برس کے دوران تحلیل ہو جاتے ہیں، جبکہ ان میں سے بہت ہی معمولی نوعیت نظام شمسی کی عمر جتنا باقی رہتی ہے (لگ بھگ 4.6 ارب برس)۔ اگلے چند کچھ کروڑ ہا برسوں کے دوران، ہائیڈیز کمیت و اراکین کو کھونا جاری رکھے گے کیونکہ اس کے روشن ستارے اہم سلسلے سے آگے بڑھ جائیں گے اور اس کے دھندلے ستارے بھی جھرمٹ کے ہالے میں سے غائب ہو جائیں گے۔ بالآخر یہ کم ہو کر چند درجن نظام ہائے نجمی کی باقیات کی صورت میں رہ جائے گا۔ ان میں سے اکثریت یا تو ثنائی نظام کی ہوگی یا اس سے زیادہ کی اور ان کو بھی ضائع کرنے والی قوّتوں سے دھڑکا لگا رہے گا۔ 

روشن ترین ستارے [ترمیم]

یہ فہرست ہائیڈیز جھرمٹ کے ستاروں کے اراکین کی فہرست سے جو آسمان پر نظر آنے والے چوتھے روشن ترین اجسام ہیں۔

ہائیڈیز کے روشن ترین ستارے
ستاروں کی شناخت ہینری ڈریپر کی فہرست ظاہری قدر نجمی جماعت بندی
تھیٹا ثور 28319 3.398 A7III
ایپسیلون ثور 28305 3.529 K0III
گیما ثور 27371 3.642 G8III
ڈیلٹا ثور 27697 3.753 G8III
تھیٹا ثور 28307 3.836 G7III
کاپا ثور 27934 4.201 A7IV-V
90ثور 29388 4.262 A6V
اپسیلون ثور 28024 4.282 A8Vn
ڈیلٹا ثور 27962 4.298 A2IV
71 ثور 28052 4.480 F0V...

مزید دیکھیے [ترمیم]

  • ہائیڈیز میں موجود ستاروں کی فہرست 

حوالہ جات [ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]