ہوا محل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہوا محل
Hawa Mahal 2011.jpg
ہوا محل کے سامنے کا حصہ
ہوا محل is located in راجستھان
ہوا محل
محل وقوع راجستھان میں
عمومی معلومات
معماری طرز راجپوت فن تعمیر
ملک بھارت
متناسقات 26°55′26″N 75°49′36″E / 26.9239°N 75.8267°E / 26.9239; 75.8267متناسقات: 26°55′26″N 75°49′36″E / 26.9239°N 75.8267°E / 26.9239; 75.8267
تکمیل 1799
مؤکل مہاراجہ سوائی پرتاپ سنگھ
تکنیکی تفصیلات
ساختی نظام سرخ اور گلابی پتھر

ہوا محل (انگریزی: Hawa Mahal) بھارت کی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں واقع ایک محل ہے۔ یہ محل سرخ اور گلابی سینڈ اسٹون کا بنا ہے۔ اس کے قریب جنتر منتر، جےپور اور سٹی پیلیس، جےپور واقع ہیں۔ یہ جے پور پوری عمارت 1799ء میں جےپور کے بانی جے سنگھ دوم کے پوتے سوائی پرتاپ سنگھ کے زمانہ میں بن کر تیار ہوا۔[1] مہاراجہ پرتاپ سنگھ کھتری محل سے اس قدر متاثر تھا کہ اس نے ایک یادگار عمارت بنا ے کا فیصلہ کیا اور اس طرح ہوام محل وجود میں آیا۔ اسے استاد لال چند نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی پانچوں منزلوں پر بنی چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں ہیں جنہیں جھروکا کہا جاتا ہے۔[2] ان جھروکوں کو بنانے کا مقصد راجپوت خاندان کی شاہی خواتین کے لئے شہر میں ہونے والے تہوار اور جلسے جلوس کو دیکھنے کا انتظام کرنا تھا کیونکہ ان خواتین پر پردہ کی سخت پابندی تھی اور انہیں عوام میں چبغیر حجاب کے آنا سخت منع تھا۔ ان جھروکوں سے وہ تو باہر دیکھ سکتی تھیں مگر انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ کھڑکیوں میں ایسی نقش نگاری کی گئی ہیکہ اس میں کئی سارے سوراخ ہیں جن سے ہر وقت ہوائیں آی رہتی ہیں اور موسم گرما میں درجہ حرارت متعدل رہتا ہے۔[2][3][4] ہوا محل کے سامنے کا حصہ دراصل اس کے عقب کا حصہ ہے اور اس کا دروازہ دوسری جانب ہے۔[5] سال 2006ء میں ہوا محل میں تزئین کی گئی جس کا کل خرچ 4.568 ملین روپئے تھا۔ [6]

فن تعمیر[ترمیم]

ہوا محل پانچ منزلہ اہرامی شکل کی عمارت ہے جس کی کل اونچائی 50 فٹ (15 میٹر) ہے۔اوپر کی تین منزلیں محض ایک کمرے کے برابر ہیں جبکہ نیچے کی دو منزلیں کے سامنے وسیع برآمدے ہیں۔[7][8] استاد لال چند عظیم ماہر تعمیر تھے اور انہوں نے ہوا محل کو ایک منفرد شکل دی اور اسے سرخ اور گلابی پتھروں کا بنایا۔ گلابی پتھر جے پور کے تمام محلات اور عمارتوں میں لگے ہیں جس کی وجہ جےپور پو گلابی نگر کہا جاتا ہے۔ ہوا محل راجپوت فن تعمیر، اسلامی فن تعمیر اور مغلیہ طرز تعمیر کا ایک شاندار نمونہ ہے۔[9] ہوا محل کا باب الداخلہ سٹی پیلیس کی جانب سے ہے۔ ایک شاہی دروازہ وسیع صحن میں کھلتا ہے جس کے تینوں جانب دو منزلہ عمارتیں ہیں۔ تینوں جانب سے ہوا محل میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ صحن میں آثار قدیمہ کا ایک میوزیم بھی موجود ہے۔[10]

اب یہ محل حکومت راجستھان کی تحویل میں ہے اور وہی اس کی دیکھ ریکھ کی ذمہ دار ہے۔[10]

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "About Hawa Mahal | Hawa Mahal" (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-07-04۔
  2. ^ ا ب Vinay Rai؛ William L. Simon۔ Think India: the rise of the world's next superpower and what it means for every American۔ Hawa Mahal۔ Dutton۔ صفحہ 194۔ آئی ایس بی این 0-525-95020-6۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 دسمبر 2009۔
  3. "Hawa Mahal"۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 دسمبر 2009۔
  4. "Jaipur, the Pink City"۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 دسمبر 2009۔
  5. Amit kumar pareek and Agam kumar pareek۔ "Hawa Mahal the crown of Jaipur"۔ amerjaipur.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-03-03۔
  6. "Restoration of Hawa Mahal in Jaipur"۔ Snoop News۔ 22 مارچ 2005۔ مورخہ 17 جولائی 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2009۔
  7. "Hawa Mahal – Jaipur"۔ مورخہ 9 دسمبر 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 دسمبر 2009۔
  8. Sacheverel Sitwell۔ The red chapels of Banteai Srei: and temples in Cambodia, India, Siam, and Nepal۔ Hawa Mahal۔ Weidenfeld and Nicolson۔ صفحہ 174۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 دسمبر 2009۔
  9. "Hawa Mahal of Jaipur in Rajasthan, this is wrongIndia"۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 دسمبر 2009۔
  10. ^ ا ب "Hawa Mahal"۔ مورخہ 29 جنوری 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2009۔