یوکرینی رقص

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یوکرینی رقص ملک کے ڈاک ٹکٹ پر

ماقبل تاریخ اور قدیم دور میں رقص قدرت اور الہیاتی قوتوں کے ساتھ تال میل کا ایک رسمی ذریعہ تھا۔ رقص کی اس قدیم جنتری پرمبنی رسم اور فرقوں کے رقص صرف الگ تھلگ عناصر ساتھ ہی صدیوں کے بدلنے کے ساتھ بچ گئے ہیں۔ یوکرین میں مسیحیت کے تعارف کے ساتھ یہ رقص مسیحی رسومات کے ساتھ مرکب اور چرچ کی جنتری اور مسیحی تہوار کے مطابق ڈھال لیے گئے تھے۔ قدیم باقیات (دیکھیے: یوکرین کا مسیحیانا) اور کچھ قدیم رقص کے بعض تذکرے تحریری ذرائع میں پائے جا سکتے ہیں، لیکن ان میں سے سب سے بڑی تعداد کو قدیم یوکرینی لوک گیتوں پا سکتے ہیں۔ رقص کے لیے سب سے قدیم سلاوی لفظ پلیاس ہے جبکہ جدید لفظ تانیتس مغربی یورپی زبانوں سے ادھار لیا گیا ہے۔[1]

قدیم رقص کا پس منظر[ترمیم]

خورووودی رقص در اصل ایک مخصوص طرز کا سلاوی رقص ہے۔ یہ گول دائرہ یا گھیرا بندی بنانے سے تعلق رکھتا ہے۔ پیش نظر تصویر میں ایک مرد اور کچھ عورتیں شامل ہیں۔ تاہم اصل رقص میں مرد حضرات اور خواتین کا تناسب مساوی یا تقریبًا مساوی بھی ہو سکتا ہے۔ اس رقص کو روسی زبان میں خراووت، بلغاریائی زبان میں کاراووت اور پولستانی زبان زبان میں کورووود کہتے ہیں۔ اس طرح سے یہ رقص سبھی سلاوی زبانوں میں مشترک ہے۔ اس رقص میں گھیرابندی کے علاوی گلوکاری میں لوگ ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔

قدیم یوکرین رقص دراصل زرعی رقص کھیل تھے۔ ان کی بنیادی شکلیں شمس پرستی تھی جو عظیم ترین زندگی دینے کی طاقت سمجھی جاتی تھی۔ سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر معلوم موسم بہار خورووودی (گولائی دار ہم آوازی رقص) تھے، جنہیں کریویی تانیتس، پودولیانوچکا، پیرے پیلکا، یہیلوچکا اور ویربووا دوشچیچکا ہیں۔ رفتہ رفتہ، - ویسنیانکی-ہاہیلکی نئے موضوعات کے ساتھ سے بہتر سے بہت بہتر ہوتے گئے اور ان میں سے کچھ غلامی کے دور (زیلمان، بوندریونا اور دیگر) کے تحت زندگی کی تصویر انداز پہنچاتے گئے۔ عام طور پر، ویسنا ہاہیلکی ایک نغمہ سے سجاکر پیش کیا جانے والا کردار ہے؛ ان تحریکوں، نرم اورپرسکون اور مجتنب نوعیت کا حامل ہوتا ہے۔[1]

جدید یوکرینی رقص[ترمیم]

جدید یوکرینی رقص قدیم طرزکے رقص کے ساتھ ساتھ نئے اطوار کا بھی مظاہرہ کرتا ہے۔ اس میں ایک جدید طرز 2012ء کے ٹیلی ویژن شو یوکرینز گاٹ ٹیلنٹ کے عطائی عمرزاکوف کی طرف سے متعارف اور مقبول رقص کا طرز روبوٹ ڈانس ہے جس میں رقاصوں پر روبوٹوں کی طرح رقص کرنا لازم ہے۔[2]

بین الاقوامی رقص تقاریب میں شرکت[ترمیم]

بھارتی ریاست شمالی ہماچل پردیش اور کچھ دیگر ریاستوں میں ہرسال ہونے والے بین الاقوامی لوک رقص میلے میں دنیا بھر سے آنے والے لوک ناچ کے ماہرین حصہ لیتے ہیں۔ یہ لوک ناچ کے فیسٹیول یا تقاریب عمومًا ہندو تہوار دسہرہ/ وجیا دشمی کے موقع پر رکھے جاتے ہیں۔ رقص کی تقاریب میں شراکت دار کئی ممالک سے جمع ہوتے ہیں۔ ان میں خاص طور سے حصہ لینے والے ممالک یوکرین، سوریہ، نیپال،اور روس سے آنے والے فنکاروں نے اپنے اپنے ثقافتی رقص دکھاکر شائقین سے داد وصول کرتے ہیں۔ اس طرح یوکرین شرکاء اپنے انفرادی تہذیبی رقص کا دنیا کے آگے مظاہرہ کرتے ہیں۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

خارجی روابط[ترمیم]

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • Lysenko, M. Molodoshchi: Zbirnyk tankiv ta vesnianok (Kyiv 1875)
  • Famintsyn, A. Skomorokhy na Rusi (Saint Petersburg 1889)
  • Hnatiuk, V. ‘Kolomyiky,’ Etnohrafichnyi zbirnyk NTSh (Lviv 1905)
  • Verkhovynets', V. Teoriia ukraïns’koho narodnoho tanka (Poltava 1920)
  • Baryliak, O. Iahilky (Lviv 1932)
  • Avramenko, V. Ukraïns’ki narodni tanky, muzyka i strii (Winnipeg 1941)
  • Tkachenko, T. Ukraïns’ki narodni tantsi (Kyiv 1955)
  • Humeniuk, A. (ed). Ukraïns’ki narodni tantsi (Kyiv 1962)
  • Pasternakova, M. Ukraïns’ka zhinka v khoreohrafiï (Winnipeg 1963)
  • Boryms’ka, H. Samotsvity ukraïns’koho tantsiu (Kyiv 1974)