مندرجات کا رخ کریں

یو نو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یو نو
 

نو (انگریزی: U Nu) (ولادت: 25 مئی 1907ء - وفات: 14 فروری 1995ء) جن کو یو نو کے نام سے جانا جاتا ہے، 20 ویں صدی کے برمی سیاست دان، قوم پرست اور سیاسی شخصیت تھے۔ وہ میانمار کی آزادی کے بعد کے ابتدائی دور کے سب سے اہم سیاسی رہنماؤں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں اور برمی جمہوری سیاست کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔[1]

تعلیم و سیاست

[ترمیم]

یو نو نے اپنی تعلیم میانمار میں حاصل کی اور بعد ازاں مذہبی اور فلسفیانہ تعلیم میں دلچسپی لی۔ ابتدائی طور پر وہ ایک استاد کے طور پر کام کرتے تھے، مگر جلد ہی سیاست میں قدم رکھا اور برمی نیشنل کانگریس اور بعد میں ’’آل برمی لیگ‘‘ کے قیام میں حصہ لیا۔ وہ برمی قوم پرستی اور آزادی کی تحریک کے سرگرم رکن بنے اور برطانوی راج کے خلاف سیاسی و عوامی سرگرمیوں میں نمایاں رہے۔[2]

حکومت سازی

[ترمیم]

1948ء میں میانمار کی آزادی کے فوراً بعد یو نو پہلی منتخب حکومت کے وزیرِ اعظم بنے۔ ان کے دور حکومت میں انھوں نے ملک میں جمہوری اصولوں کو مستحکم کرنے، تعلیمی اصلاحات، بنیادی صحت کی سہولیات اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں بہتری کی کوششیں کیں۔ یو نو کے نظریات میں مہاتما گاندھی اور بدھ مت کی تعلیمات سے متاثرہ غیر تشدد، اخلاقیات اور سماجی انصاف کی ترجیح واضح نظر آتی تھی۔[3]

اصول

[ترمیم]

یو نو کی حکومت کو داخلی چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑا، خصوصاً قومی اقلیتوں کی علیحدگی کی تحریکوں اور فوجی بغاوت کے خطرات۔ ان کے دور میں کئی بار سیاسی بحران آیا، لیکن انھوں نے مذاکرات، مصالحت اور سیاسی مکالمے کے ذریعے حالات کو نسبتاََ قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔ وہ میانمار کی قومی زبان، ثقافت اور بدھ مت کی تعلیمات کے فروغ کے بھی بڑے حامی تھے۔[4]

فوجی بغاوت

[ترمیم]

1962ء میں فوجی بغاوت کے بعد یو نو کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور وہ کئی سال تک جلاوطن اور سیاسی قید کا سامنا کرتے رہے۔ ان کے جلاوطن کے دوران بھی وہ عوامی سیاست اور قومی یکجہتی کے لیے سرگرم رہے اور اپنی جماعت کی قیادت کے ذریعے میانمار میں جمہوریت کی بحالی کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔[5]

مذہبی پہلو

[ترمیم]

یو نو کی سیاسی زندگی میں ایک اور اہم پہلو ان کی مذہبی وابستگی اور اخلاقی قیادت تھی۔ وہ بدھ مت کے اصولوں کو حکومت کی پالیسیوں میں شامل کرنے کے حامی تھے اور اس مقصد کے لیے کئی مذہبی اصلاحاتی پروگرامز متعارف کرائے۔ ان کی کوشش تھی کہ میانمار میں جمہوریت، مذہبی ہم آہنگی اور معاشرتی انصاف ایک ساتھ چلیں۔ ان کے نظریات اور سیاسی عمل نے بعد کی نسل کے برمی سیاست دانوں کے لیے ایک رہنمائی کی حیثیت اختیار کی۔[6]

ورثہ

[ترمیم]

یو نو 1995ء میں وفات پا گئے، مگر آج بھی وہ میانمار کی آزادی، جمہوریت اور قومی تعمیر کے اہم ستون کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی اور کارنامے آج بھی تحقیق اور سیاسی مطالعہ کے لیے اہم موضوع ہیں اور انھیں برمی عوام کی سیاسی تاریخ میں ایک بنیادی شخصیت کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔[1]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 Thant Myint-U (1990), "U Nu: Architect of Burmese Independence", Journal of Southeast Asian Studies.
  2. Aung Thwin (1955), "Early Political Career of U Nu", Yangon Historical Review.
  3. Ko Hlaing (1960), "U Nu’s Policies and Governance", Burma Policy Journal.
  4. Win Min (1972), "Cultural Policies under U Nu", Southeast Asian Cultural Review.
  5. Thura Aung (1975), "U Nu in Exile: Political Struggles", Journal of Burmese History.
  6. Maung Maung (1985), "The Legacy of U Nu", Asian Political Review.