آگسٹو پنوشے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
آگسٹو پنوشے

جنرل آگسٹو پنوشے (پیدائش: 25 نومبر 1915ء۔ وفات: 10 دسمبر 2006ء) جنوبی امریکہ کے ملک چلی کے جرنیل اور صدر تھے۔ انہوں نے 1973ء میں منتخب رہنما سلواڈور آلندے کی مارکسسٹ حکومت کے خلاف ہونے والی فوجی بغاوت کی قیادت کی تھی۔ اس فوجی بغاوت کے خلاف جدوجہد اور اس کے ردعمل میں ہونے والے سرکاری جبرو استبداد نے دنیا کو ہلا کر رکھا دیا۔ وہ 1974ء سے 1990ء تک چلی کے صدر رہے۔

جنرل پنوشے کے دور اقتدار میں ان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ کئی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظمیوں کے کوششوں کے باوجود جنرل پنوشے پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکا۔جنرل پنوشے پر الزام ہے کہ ان کے دور میں تین ہزار سیاسی مخالف لاپتہ ہو گئے اور ان کا کبھی بھی سراغ نہ مل سکا۔آخری عمر میں کافی حد تک بیمار رہے۔ اس کے علاوہ انھیں نظر بندی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔دل کے دورے سے ان کا انتقال ہوا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

آگسٹو پنوشے 1915ء میں پیدا ہوئے اور اپنے چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ انہوں نے فوجی تربیت حاصل کرنے کے بعد 18 سال کی عمر میں فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔

1973ء میں وہ چیف آف سٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے اور اسی سال انہیں ترقی دے جنرل اور کمانڈر ان چیف بنا دیا گیا۔

1973ء کی فوجی بغاوت[ترمیم]

پنوشے (بائیں) اور آلندے 1973ء

جب پنوشے کمانڈر ان چیف بنے اس وقت چلی کے مارکسس رہمنا سلواڈور آلندےکو منتخب ہوئے ابھی تین سال کا عرصہ ہوا تھا۔ سیاسی کشمکش، افراط زر اور اقتصادی بدحالی کی وجہ سے جون میں ان کی حکومت کے خلاف ایک ناکام فوجی بغاوت ہوئی۔

دو ماہ بعد آلندے نے جنرل پنوشے پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں فوج کا کمانڈر ان چیف یا سپہ سلار اعلی مقرر کیا۔ صرف چند ماہ بعد ستمبر میں جنرل پنوشے نے آلندے کو اقتدار سے علیحدہ ہونے یا فوجی بغاوت کا سامنا کرنے کی دھمکی دی۔

آلندے کے محل پر فوج کشی کے وقت انہیں مردہ حالت میں پایا گیا۔ ان کی بیوہ کے مطابق انہیں بغاوت کرنے والوں نے قتل کیا جبکہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ انہوں نے خودکشی کر لی تھی۔

دو دن بعد جنرل پنوشے کو صدر نامزد کر دیا گیا۔ شہری حقوق معطل کر دیئے گئے اور مارکسسٹ جماعت پر پابندی لگادی گئی۔ اس کے ساتھ ہی مزدور تنظیموں کے اختیارات کو کم کر دیا گیا اور ملک میں سنسر شپ نافذ کر دی گئی۔ اس صورت حال میں بہت سے دانشور ملک چھوڑ کر چلے گئے۔

اس بات کا انکشاف بعد میں ہوا کہ سیلواڈور منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے کروڑوں ڈالر مہیا کیئے تھے تاہم جنرل پنوشے کے انتقال پر امریکی حکومت نے ان کے دور میں ہونے والے مظالم پر چلی کے عوام سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔

دور حکومت[ترمیم]

1974ء میں جنرل پنوشے نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا اور 1978ء میں قوم سے مشورے کے نام پر ہونے والے ریفرنڈم میں انہیں 75 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔

1980ء میں نئے آئین کو منظور کیا گیا اور جنرل پنوشے 8 سال کے لیے دوبارہ صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔

1980ء میں پنوشے کی سیاسی مشکلات بڑھ گئیں۔ پنوشے کے اقتصادی اصلاحات سے افراط زر کم ہوا جس سے معاشرے کے کچھ حصوں کو فائدہ ہوا۔

1981ء میں بے روز گاری اتنی بڑھ گئی اور معاشی کساد بازاری کی وجہ سے ملک میں بدامنی پھیل گئی۔

1982ء کی جنگ فاک لینڈ میں چلی نے ارجنٹائن کے خلاف برطانیہ کی خفیہ طور پر مدد کی اور اسی کے عوض مارگریٹ تھیچر نے چلی پر ہتھیاروں کی فروحت پر پابندی اٹھالی۔

جنرل پنوشے نے کچھ برسوں میں عالمی طور پر اپنے لئے جگہ بنالی اور انہوں نے کچھ جمہوری رعایات دے دیں۔ لیکن 1988 میں عوام کو ووٹ ڈالنے کا حق ملا تو 54 فیصہ اکثریت نے پنوشے کی حکومت کے خلاف رائے دی۔

آگستو پنوشے

انہوں نے بڑے لیت و لعل کے بعد انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوگئے لیکن پھر بھی انہوں نے فوری طور پر اقتدار سےعلیحدہ ہونے سے انکار کر دیا اور دو سال بعد صدر کے عہدے سے دستبردار ہوگئے۔

اس کے باوجود انہوں نے فوج کے سپہ سالار کا عہدہ مزید 7 سال تک چھوڑنے سے انکار کر دیا اور ملک کی نو منتخب پارلیمنٹ میں تاحیات سینیٹر بن گئے۔

گرفتاری[ترمیم]

آگسٹو پنوشےکا خیال تھا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد پرسکون زندگی گزار سکیں گے۔ وہ برطانیہ اکثر جاتے رہتے تھے جہاں ان کے بہت سے دوست تھے۔ 1988ء میں وہ برطانیہ ہی میں علاج کے دوران گرفتار کرلئے گئے۔

اسپین کی ایک عدالت نے انہیں انسانی حقوق کی پامالی کے الزام میں اسپین کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ برطانیہ اور اسپین میں یہ قانونی رسا کشی بہت دنوں تک چلتی رہی اور برطانوی حکومت نے انہیں نظر بند کر دیا۔

مارگریٹ تھیچر اور کچھ پرانے دوستوں نے نظر بندی کے دوران ان کا خیال رکھا۔ ان کے مخالفیں کو اس وقت بہت غصہ آیا جب برطانیہ میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے کہا کہ پنوشےکی صحت اس قابل نہیں ہے کہ ان پر مقدمہ چلایا جائے اور برطانوی حکومت نے انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی۔

وطن واپسی[ترمیم]

مارچ 2000ء میں وہ ایک خصوصی طیارے کے ذریعے چلی واپس چلے گئے جہاں فوج اور ان کے حامیوں نے ان کا زبردست استقبال کیا۔

کچھ ہفتوں بعد سانتیاگو میں ایک عدالت نے ان پر مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی۔ مارچ 2005ء میں ایک اعلی عدالت نے ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنوشے پر آپریشن کونڈور کے دوران سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے الزام میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

وفات[ترمیم]

دسمبر 2006ء میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد ان کا آپریشن کیا گیا اور بالآخر 10 دسمبر 2006ء کو وہ چل بسے۔ بوقت انتقال ان کی عمر 91 برس تھی۔

مرتے دم تک ان پر سیاسی مخالفین کو قتل کرنے کے علاوہ کی کروڑ ڈالرز کے گھپلے کا الزام لگتا رہا۔ بعد میں آنے والی چلّی کی حکومت کے مطابق پنوشے کی لوٹ کھسوٹ میں برطانیہ کے مَصرِف ان کے مددگار رہے۔[1]

  1. ^ انڈپنڈنٹ، 23 اگست 2009ء، "Pinochet's lost millions: the UK connection "