برنامج تحقیق فعال شفق اعلی تعدد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
برنامج تحقیق فعال شفق اعلی تعدد
Aerial view of the HAARP site, looking towards Mount Sanford, Alaska
قیام 1993
میدان تحقیق آئونی کرہ
مدیر John Heckscher
مقام گاکونا، الاسکا
الحاقات جامعہ الاسکا
موقع حبالہ www.haarp.alaska.edu

برنامج تحقیق فعال شفق اعلی تعدد (انگریزی: high frequency active auroral research program) جس کو مختصراً HAARP کہا جاتا ہے، آئونی کرہ سے متعلق ایک تحقیقی برنامج (program) ہے جس میں مشترکہ طور پر امریکی فضائیہ، امریکی بحریہ، جامعہ الاسکا اور ڈارپا سرمایہ فراہم کررہے ہیں۔ [1]
اس برنامج کا مقصد کرۂ ہوا کا سب سے بالائی حصہ آئونی کرہ کا تحلیلی و تجزیاتی مطالعہ اور کرہ آئونی طرزیات کی صلاحیت کی تحقیق کرنا ہے تاکہ لاسلکی اطلاعات و ابلاغیات اور مواصلاتی کارکردگی اور نگرانی میں بہتری لائی جاسکے۔
یہ برنامج ایک قطب شمالی ادارہ ہارپ ریسرچ اسٹیشن کے زیرانتظام مکمل کیا جارہا ہے۔ یہ ادارہ امریکی صوبہ الاسکا کے علاقہ گاکونا سے قریب ایک جگہ پر واقع ہے جو امریکی فضائیہ کی ملکیت ہے۔ [2]
ہارپ ریسرچ اسٹیشن میں سب سے اہم آلہ کرہ آئونی تحقیقی آلہ (انگریزی: ionospheric research instrument) ہے۔ یہ ایک طاقتور ترین برقناطیسی تعددات کو نشر کرنے والے ترسیلہ (transmitter) کی صلاحیت کا حامل آلہ ہے جس میں 180 محاسات (antennas) موجود ہے۔ اس آلہ کو کرہ آئونی کے کسی محدود خطہ کو عارضی طور پر ظاہر و فعال کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ہارپ اسٹیشن پر کام کا آغاز 1993ء میں ہوا۔ اور موجودہ کرہ آئونی آلہ کی تکمیل 2007ء میں ہوئی۔ اس کام میں ہارپ کا سب سے بڑا ٹھیکیڈار ایک برطانوی ادارہ BAE Systems تھا۔
بعض قدرتی آفات کے حوالہ سے ہارپ کے متعلق نظریہ سازش بھی فروغ پارہا ہے۔ بعض سائنسدانوں کے خیال میں ہارپ برنامج سازشی نظریہ سازوں کے لیے ایک پرکشش ہدف ثابت ہورہا ہے۔ کیونکہ ایک شمارندی سائنسداں کے مطابق سائنس سے ناواقف افراد کو اس کا مقصد انتہائی پراسرار نظر آتا ہے۔ [3]








حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "HAARP fact sheet" (in انگریزی)، ہارپ، 15 جون 2007، http://www.haarp.alaska.edu/haarp/factSheet.html۔
  2. ^ "purpose and objectives of the HAARP program [ہارپ برنامج کے اہداف و مقاصد]" (in انگریزی)، ہارپ، http://www.haarp.alaska.edu/haarp/prpeis.html۔
  3. ^ "Is baked Alaska half-baked?" (in انگریزی)، Skeptic Magazine، 2003، http://www.skeptic.com/eskeptic/10-03-03/#feature۔