کرۂ ہوا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مزید استعمالات کیلئے دیکھئے: فضاء (ضد ابہام)

سیارہ مشتری کی فضاء کا ایک منظر

کرۂ ہوا (اور کرۂ فضاء) (انگریزی: atmosphere)، دراصل گیسوں کا ایک غلاف ہے جو کافی کمیت والے مادّی جسم کے کششِ ثقل کی وجہ سے اُس کے گرد محیط ہوتا ہے[1] مثال کے طور پر کرۂ ارض اور چاند کے گرد پیدا ہونے والے کرۂ ہوا۔ اگر اس جسم کی ثقل زیادہ ہو اور درجۂ حرارت کم ہو تو یہ کرۂ ہوا اسی نسبت سے زیادہ طویل مدت تک قائم رہتا ہے۔

سیاروی اور ستاروی[ترمیم]

کرۂ ارض اور دیگر ٹھوس سیاروں کے گرد تو یہ کرۂ ہوا ایک غلاف کی صورت میں موجود ہوتا ہے جہاں اس کا نچلا اختتام اس سیارے کی ٹھوس سطح پر ہوتا ہے لیکن بعض ایسے سیاروں پر کہ جو محض متعدد اقسام کی گیسوں پر ہی مشتمل ہوتے ہیں ، جیسے گیسی ضخام (gas giants) ، تو ان میں یہ کرۂ ہوا بہت گہرا ہوتا ہے یعنی اس کا نچلا اختتام اس سیارے کے مرکز تک جاسکتا ہے۔

چونکہ ستاروں سے تعلق ظاہر کرنے والی صفت کو ستاروی یا نجمی کہا جاتا ہے جبکہ انگریزی میں اسے stellar کہتے ہیں ، لہٰذا ستاروں کے گرد پاۓ جانے والے کرۂ ہوا کو ستاروی کرۂ ہوا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اب چونکہ ستارے عام طور پر پگھلے ہوۓ اور گیسوں کے مرکب پر مشتمل ہوتے ہیں اس لیۓ ان میں یہ کرۂ ہوا ان کے اس بیرونی غلاف کو ظاہر کرتا ہے کہ جو ان کے مکدر کرۂ نور (opaque photosephere) سے شروع ہو کر اوپر کی جانب پھیلا ہوا ہوتا ہے، مکدر[2] یعنی ناشفاف کا لفظ ، کدر[3] سے ماخوذ ہے۔

وجۂ تسمیہ[ترمیم]

atmosphere کا لفظ اصل میں یونانی کے atmos بمعنی بخارات یا vapor اور spharia بمعنی کرہ سے مل کر بنا ہے۔ چند لغات کے مطابق اسکا استعمال انگریزی میں سب سے چاند کی فضاء کے لیۓ کیا گیا تھا جو بعد میں وسعت اختیار کر کہ کسی بھی قسم کی فضاء کے لیۓ ادا کیا جانے لگا۔ خواہ وہ کوئی تصوراتی یا خیالی فضاء ہی کیوں نا ہو ، جیسے کسی محفل کی فضاء یا جیسے دوران گفتگو بات چیت کی فضاء وغیرہ۔

اردو میں atmo + sphere کے لیۓ خلا ، فضاء ، اور ہوا جیسے الفاظ عام طور پر دیکھنے میں آتے ہیں ؛ مذکورہ بالا الفاظ کو اگر استعمال کیا جاۓ تو سائنسی مضامین میں عام آدمی کے لیۓ نا سہی ان افراد کے لیۓ نہایت پیچیدہ صورتحال پیدا ہو جانے کا احتمال ہے جو خالصتاً سائنسی تحقیق کے لیۓ اصطلاحات کے متلاشی ہیں۔ اب اگر غور کیا جاۓ تو اردو میں اس لفظ atmosphere کے لیۓ چند الفاظ مہوی ، غلاف ہوا ، غلاف فضاء اور کرۂ ہوا کے سامنے آتے ہیں ان پر فردا فردا تذکرہ ذیل میں دیا جارہا ہے۔

  1. مہوی یا مھوی اصل میں ہوا سے بنا ہوا لفظ ہے جس کے معنی تمام تر ہوا کے ہوتے ہیں ، جیسے کہ اردو میں لفظ کمل میں میم کی اضافت سے مکمل بنایا جاتا ہے۔ اگر مفہوم کے لحاظ سے دیکھا جاۓ تو چونکہ atmosphere کا مفہوم بھی تمام تر فضاء یا ہوا کا ہوتا ہے اس لیۓ مہوی ایک نہایت درست مفہومی متبادل ہے لیکن اردو میں خاصہ اجنبی محسوس ہوتا ہے اس لیۓ اسے اختیار نہیں کیا گیا۔
  2. دوسرا لفظ غلاف ہوا یا غلاف فضاء جیسے الفاظ ہیں جو کہ کرۂ ارض کو ایک گول (sphere) غلاف کی مانند ڈھانپے ہوۓ فضائی یا ہوائی کرے کے مفہوم میں آتا ہے اور درست بھی ہے لیکن غلاف کا لفظ sphere سے نہایت مختلف معنوں میں بھی آجاتا ہے اس لیۓ اس کو اختیار نہیں کیا جارہا۔
  3. تیسرا متبادل ، کرۂ ہوا کا رہ جاتا ہے جو کہ اردو میں قابل فہم بھی ہے اور مفہوم کے اعتبار سے درست بھی اس لیۓ اس کو ویکیپیڈیا پر atmosphere کے لیۓ اختیار کیا جارہا ہے۔ صرف ایک نکتہ چینی جو اس پر قابل امکان ہے وہ یہ ہوسکتی ہے کہ کرے کا لفظ کسی گیند نما چیز (جیسے کرۂ ارض یا زمین) کے لیۓ آتا ہے ؛ تو اس پر تجاوب یوں ہے کہ ؛ کرے کا مطلب اصل میں گول شۓ کا ہی ہے اور یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہے کہ زمین یا کرۂ ارض کے گرد موجود غلاف ہوا اصل میں گول ہی ہے، مزید یہ کہ اردو میں کرۂ ہوا اور کرۂ باد کے الفاظ کوئی عرصہ سو سال سے atmosphere کے لیۓ موجود بھی ہیں[4]۔ آخری حجت تمام کے لیۓ یہ تذکرہ کہ ، atmo کا لفظ فضاء سے زیادہ ہوا یا بخارات سے زیادہ قریب ہے۔

دباؤ[ترمیم]

کرۂ ہوائی دباؤ (atmospheric pressure) اصل میں وہ قوت ہوتی ہے جو کہ محاصری (ambient) گیسوں کی وجہ سے عموداً کسی سطح پر اثر انداز ہوتا ہے، یعنی کسی بھی جسم پر اس کے ارد گرد موجود کرۂ ہوائی کی گیسوں کی وجہ سے پڑنے والا دباؤ ، کرۂ ہوائی دباؤ کہلایا جاتا ہے۔ اس کی پیمائش کرنے کے لیۓ ؛ اس سیارے کی کشش ثقل اور اس ہوائی ستون کی کمیت کو ملحوظ رکھا جاتا ہے جو کہ اس جسم پر ایک نادیدہ عمود کی صورت میں موجود ہو جس پر دباؤ کی پیمائش مقصود ہو۔ کرۂ ہوائی دباؤ کی اکائی کو atm علامت کی صورت میں لکھا جاتا ہے اور اسکی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ یہ 101,325 Pa (or 1,013,250 dynes / cm²) کے برابر دباؤ ہوتا ہے ، یعنی مذکورہ بالا دباؤ کو ایک atm تسلیم کیا جاتا ہے۔

کسی بھی کرۂ ہوائی کا دباؤ ، ارتفاع (altitude) بڑھنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ ارتفاع (یعنی اس سیارے یا ستارے کی سطح سے بلندی) جیسے جیسے بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے اس مقام کے اوپر موجود گیسوں کی کمیت کم ہوتی جاتی ہے۔ وہ بلندی کہ جس پر جاکر کرۂ ہوا ایک کسر e کے برابر کم ہو جاۓ اس کو پیمانی بلندی (scale height) کہا جاتا ہے، یہ پیمانی بلندی اصل میں ایک غیرمنطقی عدد ہوتا ہے جس کی قیمت 2.71828.. ہوتی ہے اور اسے H سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ کسی ایسے کرۂ ہوا کے لیۓ کہ جس کا درجۂ حرارت یکساں ہوتا ہو، پیمانی بلندی اس کے درجۂ حرارت کے راست متناسب (proportional) جبکہ خشک ہوا کے اوسط سالماتی وزن اور اس سیارے کے ثقلی اسراع کے حاصل ضرب کے بالعکس متناسب (inversely proportional) ہوتی ہے۔ کرۂ ہوا کی مذکورہ بالا پیمائیش وضاحت ایک ایسے معیاری کرۂ ہوا کے لیۓ ہے کہ جس کا درجۂ حرارت یکساں رہتا ہو، حقیقت میں کرۂ ہوا کے درجۂ حرارت یکساں نہیں ہوتا اور ایسی صورت میں کرۂ ہوائی دباؤ کی پیمائش ديگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوۓ خاصی پیجیدہ ہوتی ہے۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ایک انگریزی موقع روۓ خط پر کرۂ ہوا کی تعریف۔
  2. ^ اردو لغت میں مکدر کی وضاحت۔
  3. ^ اردو لغت میں کدر کی وضاحت۔
  4. ^ ایک روۓ خط اردو لغت پر کرۂ ہوائی کا اندراج۔