ترسیمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

خطی تخطیط یا typography میں ترسیمہ (grapheme) اصل میں تحریری زبان کے ان ترسیموں (graphs) یا یوں کہہ لیں کہ لکیروں کو کہا جاتا ہے کہ جو ایک منفرد اور بنیادی اکائی کی صورت رکھتی ہوں ؛ مثال کے طور پر ----- اُس ----- اور ----- اوس ----- دونوں میں ہی تین تین ترسیمے موجود ہیں ، اول الذکر میں الف پیش اور سین جبکہ بعد الذکر میں الف واؤ اور سین ؛ چونکہ اعراب بھی ایک ترسیم یا graph ہی ہے اس ليے اعراب سمیت تمام اقسام کی ان لکیروں کو جو کہ زبان کو تحریری طور پر پیش کرنے میں استعمال ہوتی ہیں ترسیمہ میں شمار کیا جاتا ہے ان میں اعداد بھی شامل ہیں اور تمام دوسری لکیری اشکال بھی۔

صوتی املانویسی (phonemic orthography) کی حامل زبانوں (مثال کے طور پر منگولی اور جاپانی وغیرہ) میں ایک ترسیمہ ، ایک ہی صوتیہ (phoneme) کے ليے استعمال ہوتا ہے (ہوسکتا ہے) جبکہ ایسی زبانیں جن میں یا تو تہجیہ (spelling) نظام (جیسے انگریزی) ہو یا ان میں مکمل صوتی املانویسی نا ہو (جیسے اردو ، عربی وغیرہ) تو ان میں ایک صوتیہ ایک سے زیادہ لیکروں یعنی ترسیمات پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اردو الفاظ ؛ کانا اور کھانا ؛ دونوں الفاظ ہی میں دو عدد صوتی حرکات یعنی دو عدد صوتین (phoneme) موجود ہیں اول الذکر میں کا اور نا جبکہ بعد الذکر میں کھا اور نا شامل ہیں۔ اب اگر ان دونوں الفاظ میں شامل ترسیمات پر غور کیا جاۓ تو پہلے لفظ کانا میں چار ترسیمے اور دوسرے لفظ کھانا میں پانچ ترسیمے ہیں جن کو ربطات (ligatures) سے جوڑا گیا ہے۔

ایک ہی ترسیمہ ، ایک اسے زیادہ اشکال میں بھی لکھا جاسکتا ہے اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے اردو کا ترسیمہ یا حرف ، ج ، نستعلیق میں لکھا جاۓ اور نسخ میں لکھا جاۓ۔ ایسی شکلی اختلافی اقسام جو کہ ایک ہی ترسیمے کا اظہار کرتی ہیں انہیں منقوشات (glyphs) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ہ اور ھ بھی حرف ہے کے منقوشے ہیں، اس قسم کر منقوشات آپس میں ایک دوسرے کے مخطط اختلافیہ (allographs) کہلائے جاتے ہیں۔