دابشدہ فطری فارغہ
CNG سے مراد compressed natural gas یعنی وہ قدرتی گیس ہے جسے دباو کے تحت رکھا گیا ہو۔ عام طور پر یہ دباو ہوا کے دباو سے 200 گنا زیادہ ہوتا ہے یعنی 200 atm ہوتا ہے۔ اسکے مقابلے میں کار کے ٹائر کے اندر ہوا کا دباو صرف 2 atm ہوتا ہے۔
سی این جی وہی گیس ہوتی ہے جو عام طور پر گھروں میں چولہا جلانے کے لیئے پائپ لائن سے آتی ہے اور پاکستان میں یہ سوئی گیس کہلاتی ہے۔ یہ میتھین پر مشتمل ہوتی ہے جسے کیمیاء میں CH4 سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ پٹرول اور ڈیزل کے متبادل کے طور پر گاڑیوں میں استعمال کی جاتی ہے۔
پاکستان میں سی این جی کے اعداد و شمار کچھ یوں ہیں۔
| صارف | قدرتی گیس کے نرخ | موجودہ ٹیکس | اضافی ٹیکس | گیس کا استعمال |
|---|---|---|---|---|
| سی این جی انڈسٹری | 748 روپیہ فی MmBTU | 141 روپیہ | 300 روپیہ | 7.2% |
| جنرل انڈسٹری | 494.86 روپیہ فی MmBTU | 13روپیہ | 100روپیہ | 24.82% |
| آئی پی پی | 437.86 روپیہ فی MmBTU | صفر | 100روپیہ | %27.71 |
| فرٹیلائزر | 116.87 روپیہ فی MmBTU | 200روپیہ | 300روپیہ | 16.42% |
| گیس چوری | 10% |
قدرتی گیس کا صرف %7.2 سی این جی پر صرف ہوتا ہے۔ اگر ہفتے میں ساتوں دن سی این جی مہیا ہو تو بھی یہ %9.1 بنتا ہے۔ پورے ملک میں استعمال ہونے والی سی این جی ملک بھر میں ہونے والی گیس چوری سے کم ہے۔
اگر حکومت پاکستان گاڑیوں کے لیئے سی این جی مکمل طور پر بند کر دے اور اس طرح بچ جانے والی گیس سے بجلی بنائے تو 600 میگا واٹ بجلی بنے گی جو شارٹ فال کا صرف 8 فیصد ہے۔
مزید دیکھیئے [ترمیم]
حوالہ [ترمیم]
- Ministry of Petroleum and Natural Resources-year book 2010-2011
- روزنامہ جنگ کراچی 6 جون 2012
| ویکیمیڈیا العام میں دابشدہ فطری فارغہ سے متعلق وسیط موجود ہے۔ |