ریشماں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ریشماں پاکستان سے تعلق رکھنے والی کی ایک مشہور لوک گلوکارہ ہیں جو پاکستان کے علاوہ ہندوستان میں بھی مقبول ہیں۔ ان کا ایک مشہور گانا لمبی جدائی زبان زد عام ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہ ہندوستان کی تحصیل رتن گڑھ، راجستھان کے علاقے بیکانیر کے ایک گاؤں لوحا میں 1947ء میں پیدا ہوئیں، ان کا تعلق ایک خانہ بدوش خاندان سے تھا۔ ان کا خاندان ہندوستان کی تقسیم کے دوران پاکستان کراچی میں منتقل ہو گیا۔[1]

آغاز[ترمیم]

ریشماں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ ان کا کہنا ہے انہوں نے کلاسیکی موسیقی کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی[2]۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی عمر بارہ برس تھی جب ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی (سلیم گیلانی بعد ازاں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل بھی بنے۔) نے شہباز قلندر کے مزار پر انہیں گاتے ہوئے سنا اور انہیں ریڈیو پر گانے کا موقع دیا۔ اس وقت انہوں نے ’لعل میری‘ گیت گایا جو بہت مشہور ہوا۔

شہرت[ترمیم]

دھیرے دھیرے ریشماں پاکستان کی مقبول ترین فوک گلوکارہ بن گئیں۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشمان نے ٹی وی کے لیے بھی گانا شروع کر دیا۔ انہوں نے پاکستانی فلموں کے لیے بھی متعدد گیت گائے۔ ان کی آواز سرحد پار بھی سنی جانے لگی۔

بیرون ملک شہرت[ترمیم]

معروف بھارتی ہدایت کار سبھاش گھئی نے ان کی آواز اپنی ایک فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ریشماں ان کی فلم ’ہیرو‘ کے لیے ’لمبی جدائی‘ گایا جو آج بھی سرحد کے دونوں جانب انتہائی مقبول ہے۔ سن 1983ء کی اس فلم کو آج بھی ریشماں کے اس گانے کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔
2004 ء میں ان کا گانا عاشقاں دی گلی وچ مقام دے گیا بھارتی چارٹ کے ٹاپ ٹین میں شامل تھا[3]۔

مقبول گیت[ترمیم]

ریشماں کے کچھ دیگر مقبول گیتوں میں

’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک ماہیا مینوں یاد آؤندا‘،
’وے میں چوری چوری‘،
’دما دم مست قلندر‘،
’انکھیاں نوں رین دے انکھیاں دے کول کول‘ اور
’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘
شامل ہیں۔

ایوارڈ[ترمیم]

انہیں پاکستان میں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔ انہیں ستارۂ امتیاز اور ’لیجنڈز آف پاکستان کا اعزاز بھی دیا گیا تھا۔

وفات[ترمیم]

پاکستان کی لیجنڈری لوک گلوکارہ ریشماں 3 نومبر 2013ء کو طویل علالت کے بعد چھیاسٹھ برس کی عمر میں لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کر گئی۔ وفات سے قبل ایک ماہ سے کوما میں تھیں۔ اور اس سے ایک برس پہلے ان میں [[گلے کا سرطان|گلے کے سرطان کی تشخیص ہوئی تھی[4]۔
ریشماں کی موت کی خبر پھیلتے ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹوں ٹوئٹر اور فیس بُک پر تعزیتی پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔ انہوں نے سوگواروں میں بیٹا عمیر اور بیٹی خدیجہ چھوڑی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]