زلزلۂ ہیٹی 2010ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Current event marker.png یہ مضمون عہد حاضر کے واقعات سے تعلق رکھتا ہے

اس میں درج معلومات تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہیں

ہیٹی میں 12 جنوری 2010ء کو آنے والا زلزلہ مطلق 7.0 کا تھا۔ اس کا مرکز شہر پرنس کا پورٹ سے 25 کلومیٹر فاصلے پر تھا، جہاں سخت تباہی ہوئی۔ صدارتی محل سمیت متعدد عمارتیں خاک بوس ہو گئیں۔ ہلاک شدگان کا تخمینہ 200000 افراد لگایا گیا۔[1]

امدادی کاروائیاں[ترمیم]

امریکہ اور کینیڈا میں خیراتی اداروں، جیسا کہ صلیب احمر، کے لیے عوام سے امداد لینے کے لیے ان کی حکومتوں نے خاصا زور لگایا۔[2] امریکی صدر بارک اوبامہ نے سابقہ صدور کلنٹن اور بُش کی زیر صدارت انجمن بنائی جو امدادی پیسے اکٹھے کرے گی۔[3] امریکہ نے 5000 فوجی امدادی کاروائیوں کے لیے روانہ کیے۔ نظام مواصلات کی تباہی کے باوجود ابتدائی دنوں میں امریکہ نے فضا سے خوراک گرانے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اس سے افراتفری پھیلے گی۔ پورٹ اؤ پرنس کے ہوائی اڈہ پر امریکیوں نے قبضہ کر لیا۔ بظاہر امداد کے لیے گئےامریکی فوج اس انداز میں کاروائی کر رہی ہے کہ ہیٹی کے سابقہ استعماری آقا فرانس کے وزیر نے اسے امریکی "قبضہ" جانا اور اقوام متحدہ سے امریکی کردار کی وضاحت طلب کی۔[4] اخبارات اور موقع پر موجود خیراتی اداروں کے مطابق ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی امریکی ترجیح امدادی کام کے بجائے زیادہ فوج ملک میں لانے پر ہے۔[5] [6]

کینیڈا کے عوام نے ابتدائی دنوں میں بیس ملین ڈالر امدادی چندہ دیا۔ کینیڈا نے بھی فوجی بھیجے، مگر وزیراعظم اسٹیفن ہارپر نے عجیب زبان میں بیان دیا کہ

“This time we have to go into Haiti and finish the job,”
—Harper, [7]

عبدالستار ایدھی نے پانچ لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کیا۔[8]

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]