بارک اوبامہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بارک اوبامہ نیو ہیمپشائر میں انتخابی مہم کے دوران

بارک حسین اوبامہ 1961ء میں امریکی ریاست ہوائی میں پیدا ہوا۔ اس نے 2 فروری 1961ء کو شادی کر لی۔[1]والد کا تعلق کینیا سے جبکہ والدہ کا ہوائی سے تھا۔

والدین کی ملاقات دوران طالب علمی ہوائی یونیورسٹی میں ہوئی جہاں پر والد وظیفہ پر پڑھنے آیا ہوا تھا۔ اوبامہ کی عمر دو سال تھی جب والدین میں علیحدگی ہو گئی۔ طلاق کے بعد اوباما اپنی والدہ کے ساتھ امریکہ اور کچھ عرصے کے لیے انڈونیشیا میں بھی رہا کیونکہ اس کے سوتیلے باپ کا تعلق انڈونیشیا سے تھا۔ اس نے کولمبیا یونیورسٹی اور جامع ہارورڈ کے قانون مدرسہ سے تعلیم حاصل کی اور ہارورڈ میں وہ ہارورڈ قانون مجلے کا پہلا سیاہ فام امریکی صدر بنا۔ اس نے شکاگو میں پہلے سماجی پرورگراموں میں اور پھر بطور وکیل کام کیا۔ وہ آٹھ سال تک ریاست الینوائے کی سیاست میں سرگرم رہا اور سنہ دو ہزار چار میں وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہوا۔

خاندان[ترمیم]

اوباما کی اہلیہ میشیل رابنسن بھی وکیل ہے اور پرنسٹن اور ہارورڈ کی پڑھی ہوئی۔ اس کی دو بیٹیاں ہیں جن کی عمریں نو اور چھ سال ہیں۔

آؤما اوبامہ اس کی سوتيلی بہن ہے۔. وہ 1960 میں کینیا میں پيدا ہوئی. اس نے جرمنی کی ہايڈل يونيوسٹی سے پرھنے کے بعد، 1996 میں جرمنی ہی کی بيريوتھ يونيوسٹی سے ڈاکٹريٹ کی ڈگری لی. اس نے ايان مينرز نامی ايک انگريز تاجر سے لندن ميں شادی بنائی جو زيادہ عرصہ تک نہيں چل سکی. اس شادی سے اسکی ايک بيٹی ہے جس کا نام ا کينی ای ہے. اس وقت آؤما اوبام کینیا میں ترقياتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

سیاست[ترمیم]

باراک اوباما نے پچھلے سال فروری میں امریکی صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس نے عراق سے فوجی واپس بلانے کا وعدہ کيا ہے اور بش کے خلاف عراق پر فوج کشی اور عراق کے جنگ کے خلاف ايک امريکی جلوس مي شامل ہوئے اور وعدہ کيا کے اگر وہ صدر منتخب ہوا تو وہ ايران سے بھی جنگ نہیں لڑے گا بلکہ کسی بھی ملک سے نہیں لڑے گا۔

باراک اوبامہ نے ہيلری کلنٹن کو شکست دی اور اپنی کاميابی کا اعلان کر ديا اور وہ امريکہ کا پہلے سياہ فام[2] صدر ہے۔ 4 نومبر 2008 کو صدرارتی اليکشن میں کامياب ہو گیا ليکن اس کی نانی یہ خوشی نہیں ديکھ سکی کيونکہ وہ ايک دن پہلے انتقال کر گئی تھی۔

گوتانمو عقوبت خانہ کو بند کرنے کے وعدہ سے مکر گیا اور مارچ 2011ء میں گوتانامو میں فوجی عدالتیں دوبارہ قائم کا اعلان کیا۔[3] اپریل 2011ء میں اوبامہ نے اپنا سندِ پدائش جاری کی یہ بتانے کے لیے کہ وہ واقعی امریکہ میں پیدا ہوا اور اس لیے امریکی صدارت کا اہل ہے۔ [4] مئی 2011ء میں اوبامہ نے اسامہ بن لادن کے قتل کا سہرا اپنے سر سجایا۔ [5]

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ صدارت سے پہلے اوبامہ جدت پسند تھا مگر صدارت میں قدامتی ہو گیا۔[6]

جنگیں[ترمیم]

2011ء تک اوبامہ امریکہ کو چار جنگوں میں ملوث رکھ رہا تھا، افغانستان، عراق، لیبیا، اور یمن، جس میں سے آخری دو اس نے خود شروع کیں۔ابھی تک کسی جنگ کو نھی جیت سکا[7]

ڈرون حملے[ترمیم]

اوبامہ پاکستان پر ڈرون حملے بھی شدت سے کرتا رہا۔[8] جنگی جرائم کے الزام سے بچنے کے لیے اس نے سرکاری وکیلوں کی ایک مجلس قائم کی جو بذریعہ ڈرون قتل کی اجازت دیتی ہے۔[9] نیویارک ٹائمز کے مطابق اوبامہ ہر ہفتہ قتل کے لیے افراد خود چنتا ہے۔[10][11] اپنے نشانوں پر مشتمل مصفوفہ انجامیہ تشکیل دیتا ہے۔[12]

معیشت[ترمیم]

چین سے قرض لے کر اپنی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں اور فوج پر جنگی اخراجات سے امریکہ کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ اوباما کو امریکی کانگریس سے قرضہ چھت بڑھانے کی اجازت بڑی مشکل سے ملی۔ سود خور قرض خواہوں نے پھر امریکہ کے قرض شرح سود بڑھا دی۔[13]


مزید[ترمیم]


  1. ^ اوبامہ کی ماں کی کہانی۔ اخبار ٹائمز
  2. ^ اوبامہ کی ماں گوری جبکہ باپ کالا تھا۔
  3. ^ ایڈ پلکنگٹن (7 دسمبر 2011ء). "Obama lifts suspension on military terror trials at Guantánamo Bay". دی گارجین. http://www.guardian.co.uk/world/2011/mar/07/guantanamo-military-terrorism-trials-resume۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 March 2011. 
  4. ^ جیک کیسہل. "How the Media Falsify Obama's Origins Story". امریکی تھنکر. http://www.americanthinker.com/2011/05/how_the_media_falsify_obamas_o.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 May 2011. 
  5. ^ "Obama on “60 Minutes:” A political assessment". عالمی اشتراکی موقع. http://wsws.org/articles/2011/may2011/obam-m10.shtml۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 May 2011. 
  6. ^ پال حارث (2 جون 2012ء). "Drone wars and state secrecy – how Barack Obama became a hardliner". گارجین. http://www.guardian.co.uk/world/2012/jun/02/drone-wars-secrecy-barack-obama. 
  7. ^ "U.S. Is Intensifying a Secret Campaign of Yemen Airstrikes". 8 جون 2011ء. http://www.nytimes.com/2011/06/09/world/middleeast/09intel.html?hp۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 June 2011. 
  8. ^ "پاکستان میں ڈرون حملے کر رہے ہیں: اوباما". بی بی سی اردو موقع. 31 جنورہ 2012ء. http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/01/120131_obama_confirms_rwa.shtml. 
  9. ^ ہارون رشید (13 اکتوبر 2011ء). "ڈرون حملے پر خاموشی". بی بی سی موقع. http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/10/111013_drone_protest_gel_fz.shtml۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 October 2011. 
  10. ^ "Obama’s role in the selection of drone missile targets". عالمی اشتراکی موقع. 1 جون 2012ء. http://wsws.org/articles/2012/jun2012/pers-j01.shtml. 
  11. ^ "Secret ‘Kill List’ Proves a Test of Obama’s Principles and Will". نیو یارک ٹائمز. 29 مئی 2012ء. http://www.nytimes.com/2012/05/29/world/obamas-leadership-in-war-on-al-qaeda.html?_r=1&hp&pagewanted=all. 
  12. ^ آئیں کوبین (14 جوالائی 2013ء). "Obama's secret kill list – the disposition matrix". گارجین. http://www.guardian.co.uk/world/2013/jul/14/obama-secret-kill-list-disposition-matrix. 
  13. ^ "Debt crisis: the key questions". گارجین. 7 اگست 2011ء. http://www.guardian.co.uk/business/2011/aug/07/debt-crisis-the-key-questions۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 August 2011. 


بیرونی روابط[ترمیم]