ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

Dwight David Eisenhower

پیدائش؛ 1890 انتقال؛ 1969

Eisenhowerofficial.jpg

امریکی جنرل اور مدبر امریکہ کے 34 ویں صدر۔ ڈینی سن (ٹیکساس) میں پیدا ہوئے۔ 1915ء میں فوج میں بھرتی ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم شروع ہونے پر امریکی چیف آف سٹاف، جنرل مارشل کے آفس میں بریگیڈیر جنرل کی حیثیت سے جنگی منصوبہ بندی کے سربراہ مقرر ہوئے۔ جون 1942ء میں یورپ میں امریکی افواج کے کمانڈر بنا دیے گئے۔ نومبر1942ء میں شمالی افریقہ پر اتحادی فوجوں کے حملے کی قیادت کی۔ جنوری 1943ء میں مغربی یورپ میں مصروف پیکار اتحادی افواج کے سپریم کمانڈر بنائے گئے۔1944ء میں جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 6جون 1946ء کو فرانس پر حملہ کیا اور پھر مغربی یورپ اور جرمنی پرحملوں کی کمان کی۔ 1945تا1948 امریکی افواج کے چیف آف سٹاف رہے۔ بعد ازاں ریٹائر ہو کر کولمبیا یونیورسٹی کے صدر بنے۔ 1951ء میں نیٹو کی افواج کے کمانڈر بنائے گئے۔ 1952میں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ایڈلائی سٹیونسن کو شکست دی۔1956 میں دوبارہ انتخاب لڑا اور کامیاب رہے۔ ان کی پہلی مدت صدارت کا اہم واقعہ کوریا میں گفت و شنید کے ذریعے، جنگ بندی ہے۔ 1960 میں ایک بلند پرواز امریکی جاسوس طیارہ روس نے مار گرایا اور اس کے پائلٹ فرانسس گیری پاورز کو پکڑ لیا۔ اس اور چند دیگر واقعات سے آئزن ہاور کی ساکھ کو سخت دھکا لگا۔ اور وہ 1961ء میں عملی سیاست سے ریٹائر ہوگئے۔ ویت نام میں ایٹمی اسلحہ استعمال کرنے کے زبردست حامی تھے۔

اپنے الوداعی خطاب میں اس نے امریکی قوم کو فوجی-صنعتی مختلط کے گٹھ جوڑ سے محتاط رہنے کی وصیت کی تھی اور اس کا یہ فقرہ محققین میں بہت مشہور ہے۔[1]


حوالہ جات[ترمیم]