سنگ لاجورد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Lapis lazuli
A polished specimen of lapis lazuli.
General
Category Rock
Chemical formula mixture of minerals
Identification
Color نیلا, mottled with white calcite and brassy pyrite
Crystal habit Compact, massive
Crystal system None, as lapis is a rock. Lazurite, the main constituent, frequently occurs as dodecahedra
Cleavage None
Fracture Uneven-Conchoidal
Mohs scale hardness 5 - 5.5
Luster dull
Streak light blue
Specific gravity 2.7-2.9
Refractive index 1.5
Other characteristics The variations in composition cause a wide variation in the above values.

سنگ لاجورد جسکو صرف لاجورد (و پر زبر) بھی کہا جاتا ہے دراصل جواہر کے زمرے میں آنے والا ایک مشہور اور قیمتی پتھر ہے۔ اس پتھر کے مختلف زبانوں میں نام کچھ یوں ہیں

  • اردو --- لاجورد (فارسی سے ماخوذ)
  • فارسی --- سنگ لاجورد (فارسی ہی کے لاژورد سے ماخوذ جو ایک مقام کا نام)
  • عربی --- حجر اللازورد (hajr-al-lazward) فارسی سے ماخوذ
  • انگریزی --- Lapis Lazuli (یہاں lapis ، لاطینی لفظ بعمنی سنگ اور lazuli عربی لفظ لازورد سے ماخوذ ہے)
  • جاپانی --- روری (و پر پیش) 瑠璃
انگریزی کا لفظ azure اور اسپانوی کا لفظ azul بھی دراصل اسی عربی لفظ سے ماخوذ ہے۔

یہ پتھر انسانی تہذیب میں اپنی ایک قدیم تاریخ رکھتا ہے جو عہدرفتہ میں پانچ ہزار قبل مسیح تک جاتی ہے۔ مصر میں فرعونوں نے بھی اسکو خاص اہمیت دی جو کہ انکے مقبروں سے ملنے والی اشیاء پر اسکے استعمال سے ثابت ہے۔

لاجورد ایک چٹان یا صخرہ ہے نہ کہ معدن ، کیونکہ یہ بذات خود اپنے جزیات میں مختلف معدنیات پر مشتمل ہوتا ہے۔ معدن اس شے کو کہتے ہیں کہ جسکا جز صرف ایک ہو۔
سنگ لاجورد کا اہم جز (25 تا 40 فیصد) لاجوردیہ (lazurite) ہوتا ہے، جو کہ سوڈئم، سلیکان، آکسیجن، گندھک اور کلورین سے بننے والا ایک مرکب ہے۔ اکثر اسمیں سفید کیلسائٹ، نیلا سوڈالائٹ اور زرد پائرائٹ بھی پایا جاتا ہے۔ اسکا کیمیائی فارمولا یوں لکھاجاتا ہے۔
لاجورد کا کیمیائی فارمولا (Na,Ca)8(AlSiO4)6(S,SO4,Cl)1-2[1] مزید تفصیل کیلیۓ رابطے پر ٹک کیجیۓ

اجزاء[ترمیم]

اسکی صاف و عالی ترین قسم اسکو کہتے ہیں کہ جسکا رنگ تیز نیلا ہوتا ہے جسمیں قلیل مقدار میں ہلکے زرد رنگ کے دھبے اور ریشے پاۓ جاتے ہیں جو کہ پائرائٹ سے بنے ہوتے ہیں اور اسمیں سفید کیلسائٹ کی آمیزش نہ ہو۔ جبکہ وہ لاجورد جسمیں زیادہ مقدار میں کیلسائٹ اور پائرائٹ ہوں اپنی قیمت کھو دیتے ہیں۔ کسی لاجورد میں موجود پائرائٹ کے دھبے اسکی قدروقیمت کے معیار کو ناپنے کیلیۓ مفید ثابت ہوتے ہیں۔ کم قدر اور پست قیمت لاجورد کو اکثر رنگدار اور چمکیلا بنایا جاتا ہے مگر اسکا رنگ گہرا نیلا ہوجاتا ہے کہ جسمیں خاکستری آمیزش پہچانی جاسکتی ہے۔

سـنـگ لاجـورد
ذکر عمومی
زمرہ صـخـرہ
کیمیائی فارمولا

a(Na,Ca)8(AlSiO4)6
b(S,SO4,Cl)1-2

شـنـاخـت
رنگ نیلا، جو کہ نیلے پائرایٹ پر سفید کیلسائٹ سے لکہ دار ہوتا ہے
بلوری (کرسٹل) عادات حجیم، اجتمتع (ٹھساہوا)
نظام بلور یہ پتھر ایک صخرہ یا چٹان ہے جسکو لاجوردیہ (lazurite) کہتے ہیں اور اکثر بارپہلوی (dodecahedra) ساخت میں پائی جاتی ہے۔
شگافتگی غیرموجود
سکستگی Uneven-Conciodal ناہموار
Mohs Scale سختی 5 - 5.5
تـاب شیشہ تا روغنی
انکساری اشارہ (refractive index) 1.5
Pleochroism دستیاب نہیں ہوسکی
Streak ہلکا نیلا
کثافت مخصوصہ 4.4
دیگر خصوصیات ترکیب میں اختلاف کی وجہ سے اوپر بیان کردہ خواص میں بھی اختلاف مل سکتا ہے۔

ماخذ[ترمیم]

دنیا کا بہتریں لاجودر افغانستان کے علاقے بدخشاں سے حاصل ہوتا ہے۔ اور اسکے بارے میں خیال ہے کہ یہ دنیا کا قدیم تریں کانوں کا نظام ہے اور اسی سے نکلنے والا لاجودر فرعونوں تک کے استعمال کیلیۓ برآمد ہوا۔ افغانستان کے علاوہ لاجورد کو Andes, Chile سے بھی حاصل کیا جاتا ہے جہاں اسکا رنگ تیز نیلے کے بجاۓ نسبتا ہلکا اور پھیکا ہوتا ہے کم مقدار میں لاجورد Lake Baikal، سائبیریا، انگولا، برما، پاکستان، امریکہ اور کینیڈا سے بھی حاصل ہوتا ہے۔

استعمالات[ترمیم]

لاجورد کو بہترین چمک دی جاسکتی ہے اور اسی خصوصیت کے باعث اسکو زیورات اور زیبائیشی اشیاء میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ اسکو دنیا کی اہم عمارات (بشمول تاج محل) کی تزین و آرائش میں بھی استعمال کیا گیا (تاج محل کے اکثر جواہر و لاجودر برطانیہ کی فوج نے کھرچ کر نکال کے برطانیہ بھیج دیۓ [2])