عافیہ صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عافیہ صدیقی
عافیہ صدیقی
پیدائش 2 مارچ 1972 (1972-03-02) ‏(42)
کراچی، سندھ، پاکستان
شہریت پاکستانی
مادر علمی میساچوسٹس ادارہ طرزیات(علمائی)
پیشہ ماہر علم الاعصاب
قد 5' 4"
وزن 90 پاونڈ (استغاثہ کے وقت)
Board member of ادارہ اسلامی تحقیق و تدریس (صدر)
مجرمانہ الزام امریکی افراد، افسران اور ملازمین کے قتل کی کوشش، خطرناک اسلحہ کا استعمال
مجرمانہ سزا امریکی عدالت کے مطابق سزایاب، 86 سال کی سزا
شریک حیات

امجد محمد خان (1995 – اکتوبر 21, 2002) (طلاق)

عمار بلوچی(فروری 2003–تاحال)
اولاد محمد احمد (پ. 1996);
مریم بنت محمد (پ. 1998); اور
سلیمان (پ. ستمبر 2002)

ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والی سائنسدان ہے جسے امریکی حکومت نے 2003ء میں اغوا کر کے غیرقانونی طور پر قید کیا ہؤا ہے۔

پیدائش[ترمیم]

ڈاکٹر عافیہ صدیقی (پیدائش مارچ 2 1972) کراچی میں پیدا ہوئی۔ 8 سال کی عمر تک زیمبیا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد بوسٹن ٹیکساس میں جامعہ ٹیکساس میں کچھ عرصہ رہیں پھر وہاں سے میساچوسٹس ادارہ طرزیات (MIT) چلی آئیں اور اس ادارہ سے وراثیات میں علمائی (PhD) کی سند حاصل کی۔

ملازمت اور اغوا[ترمیم]

2002 میں پاکستان واپس آئیں مگر ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے امریکہ ملازمت ڈھونڈنے کے سلسلہ میں دورہ پر گئیں۔ اس دوران میریلینڈ میں ڈاک وصول کرنے کے لیے ڈاک ڈبہ کرائے پر لیا اور 2003 میں کراچی واپس آ گئیں۔ FBI نے شک ظاہر کیا کہ یہ ڈاک ڈبہ دراصل القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کے لیے کرائے پر لیا گیا تھا۔ امریکی ابلاغ میں عافیہ صدیقی کی بطور دہشت گرد تشہیر کی گئی۔ یہ دیکھ کر عافیہ کچھ دیر کراچی میں روپوش ہو گئی۔ 30 مارچ 2003 کو اپنے تین بچوں سمیت راولپنڈی جانے کے لیے ٹیکسی میں ہوائی اڈہ کی طرف روانہ ہوئی مگر راستے میں پاکستانی خفیہ ادارے نے بچوں سمیت عافیہ کو اغوا کرکے امریکی فوجیوں کے حوالے کر دیا۔ اس وقت ان کی عمر 30 سال تھی اور بڑے بچہ کی عمر چار سال اور سب سے چھوٹے کی ایک ماہ۔ مقامی اخباروں میں عافیہ کی گرفتاری کی خبر شائع ہوئی مگر بعد میں وزیروں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور ان والدہ کو دھمکیاں دی گئیں۔

بحالت قید اذیتیں[ترمیم]

عالمی اداروں نے خیال ظاہر کیا کہ افغانستان میں امریکی جیل بگرام میں قیدی نمبر 650 شاید عافیہ صدیقی ہی ہے جو وہاں بےحد بری حالت میں قید تھی۔ پاکستانی اخبارات میں شور مچنے کے بعد امریکیوں نے اچانک اعلان کیا کہ عافیہ کو 27 جولائی 2008 کو افغانستان سے گرفتار کر کے نیویارک پہنچا دیا گیا ہے تاکہ ان پر دہشت گردی کے حوالہ سے مقدمہ چلایا جا سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی کہانی کو ناقابلِ یقین قرار دیا۔[1] افغانستان میں امریکی فوجیوں نے دوران گرفتاری عافیہ کو گولیوں کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا، تب امریکی فوجی معالجین نے عافیہ کی طبی حالت کو گلاسگو غشی میزان پر 3 (یعنی مرنے کے قریب) بتایا۔ تاہم امریکیوں نے الزام لگایا کہ عافیہ نے امریکی فوجی کی بندوق اٹھانے کی کوشش کی تھی جس پر انھوں نے اس پر گولیاں چلا دیں۔[2]

پرویز مشرف اور عافیہ صدیقی[ترمیم]

اسلام‌آباد عدالت میں ایک درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ پرویز مشرف دور میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ڈالروں کے عوض امریکیوں کے ہاتھ فروخت کیا گیا۔[3]

رہائی کی کوشش[ترمیم]

اگست 2009ء میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ حکومت 2 ملین ڈالر تین امریکی وکیلوں کو دے گی جو عافیہ صدیقی کے لیے "امریکی عدالت" میں پیشی کرینگے۔[4] خیال رہے کہ لاہور کی عدالت اعلی نے حکومت کو یہ رقم جاری کرنے سے منع کیا تھا کیونکہ خدشہ تھا کہ رقم خُرد برد کر لی جائے گی۔ عدالت میں درخواست گزار نے کہا تھا کہ امریکی عدالت سے انصاف کی توقع نہیں، اس لیے یہ پیسے عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کر کے خرچ کیے جائیں۔[5]

نامعلوم اغواکنندگان کے خلاف مقدمہ[ترمیم]

دسمبر 2009ء میں بالآخر کراچی پولیس نے عافیہ صدیقی اور ان کے بچوں کے 2003ء میں اغوا کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا۔[6]

حکومت کی جانب سے رہائی کا مطالبہ[ترمیم]

ستمبر 2010ء میں پاکستانی حکومت نے دعوی کیا کہ اس نے امریکی حکام سے عافیہ صدیقی کو باعزت وطن واپس بھیجنے کا مطالبہ بذریعہ خط کیا ہے۔[7]

سزا کا فیصلہ[ترمیم]

23 ستمبر 2010 میں نیویارک امریکی عدالت نے عافیہ صدیقی کو 86 سال قید کی سزا سنائی۔ جون 2013ء میں امریکی فوجی زنداں فورٹ ورتھ میں عافیہ پر حملہ کیا گیا جس سے وہ دو دن بیہوش رہی۔ بالاخر وکیل کی مداخلت پر اسے طبی امداد دی گئی۔[8]

شادیاں اوراولاد[ترمیم]

1995 میں پاک نژاد امجد محمد خان سے نکاح ہوا۔ 1996 میں ایک لڑکا محمد احمد اور 1998 میں ایک لڑکی مریم پیدا ہوئی۔ 2002 میں امجد خان نے طلاق دے دی۔ پھر 2003 میں عمار بلوچی سے نکاح ہوا۔ اپریل 2010ء میں گیارہ سالہ لڑکی جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ عافیہ کے ساتھ لاپتہ ہونے والی ایک بیٹی ہے کو نامعلوم افراد کراچی میں عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی کے گھر چھوڑ گئے۔[9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ روزنامہ نیشن، 6 اگست 2008ء، "Aafia's family receiving threats"
  2. ^ petra bartosiewicz (november 2009). "the intelligence factory". ہارپر جریدہ.
  3. ^ روزنامہ جنگ،10 اگست 2008ء، "بلال مشرف نے عافیہ صدیقی کی حوالگی کے عوض امریکا سے ڈالرز لئے، عدالت میں پٹیشن"
  4. ^ دی نیشن، 14 اگست 2009ء، "Pak govt to foot the bill for Dr. Aafia's new lawyers: report"
  5. ^ بی بی سی، 20 اگست 2009ء، "ڈاکٹر عافیہ کی امداد پر قانونی نوٹس"
  6. ^ روزنامہ جنگ، 14 دسمبر 2009ء، "ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے بچوں کے اغوا کا مقدمہ کراچی میں درج"
  7. ^ دی نیوز، 18 ستمبر 2010ء، "Pakistan seeks deportation of Dr Aafia from US"
  8. ^ "Attack on Aafia, a slap on PML-N govt!". پاکستان ٹوڈے. 10 جون 2013ء. http://www.pakistantoday.com.pk/2013/06/10/city/karachi/attack-on-aafia-a-slap-on-pml-n-govt/.
  9. ^ روزنامہ نیشن، 5 اپریل 2010ء، "'Daughter' of Aafia returns"
  • AHRC, "PAKISTAN/USA: A lady doctor remains missing with her three children five years after her arrest"
  • BBC, "ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید ہیں "
  • گارجین، 24 نومبر 2009ء، "ڈیلکن والش:The mystery of Dr Aafia Siddiqui"

مدونہ[ترمیم]