علامہ مشرقی عنایت اللہ خاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
علامہ مشرقی، خاکسار کے روپ میں

• عالم اسلام کے فرزند....جنہوں نے ۱۸سال کی عمر میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ریاضی اول پوزیشن (۱۹۰۶)میں کلیئر کر کے دنیا کو محو حیرت کردیا....(یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے)

• عالم اسلام کے فرزند....جنہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے (۱۹۱۲-۱۳)میں بیک وقت چار ٹرائی پوز آنرز رینگلر سکالر، بیچلر سکالر، فاﺅنڈیشن سکالر اورمکینیکل انجینئرنگ میں اعلیٰ پوزیشن بمعہ وظائف حاصل کر کے دنیا کے طالب علموں کو حیران کردیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کوبرملا اعتراف کرنا پڑا کہ آٹھ سو سالہ یورپی تاریخ میں ایسا ذہین طالب علم پیدا نہیں ہوا۔ (یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے)۔

• عالم اسلام کے فرزند....جنہوں نے دنیا کی قوموں کو اجتماعی موت و حیات کے متعلق پیغام اخیر اور تسخیر کائنات کا پروگرام اپنی شہرہ آفاق کتاب”تذکرہ“ (۱۹۲۴) کے ذریعے دیاتو دنیا بھر کے عالم دنگ رہ گئے۔ جس پر ۱۹۲۵ءمیں مشروط طور پر ادب کا ”نوبل پرائز“ پیش ہوا کہ اردو ہماری تسلیم شدہ زبان نہیں، کسی یورپی زبان میں اس کا ترجمہ کیا جائے مگر شہرت و دولت سے بے نیاز مصنف نے لینے سے انکار کر دیا۔

• عالم اسلام کے فرزند....جنہوں نے مصر میں مسئلہ خلافت پر عالم اسلام کی عالم آراءہستیوں کی کانفرنس کی صدارت کرنے کے ساتھ ساتھ جب ان ہستیوں سے پُر مغز خطاب(خطابِ مصر ۱۹۲۶) کیا تو ان ہستیوں اور جامعہ ازہرمصر سے متفقہ طورپر ”علامہ مشرقی“ یعنی ”مشرق کے عالم“ کا خطاب دے کر آپ کی علمی صلاحیتوں کا اعتراف کیاگیا۔

• عالم اسلام کے فرزند....جنہوں نے۱۳سو برس کے بعدذاتی لالچ کی بجائے فرض کی ادائیگی قوم سازی و کردار سازی کی بنیاد پر ”خاکسار تحریک“(۱۹۳۱ء) کے ذریعے قرن اول کا سماں باندھ کر ہندوستان کے مسلمانوں میں حقیقی مومنانہ کرداراور خلق خدا کی خدمت کا بے لوث جذبہ پیدا کر دیا۔

• عالم اسلام کے پہلے مسلم سائنس دان....جنہوں نے ۱۹۵۲ءمیں دنیا کے بیس ہزار سائنسدانوں کو ”انسانی مسئلہ“ کے عنوان سے خط لکھ کر دنیاوی ترقی کو بے جان مشینوں کے چنگل سے نکال کر کائنات کو مسخر کرنے ، انسانی زندگی اور اس کی روح کو کنٹرول کرنے اور دیگر کروں میں زندگی کی موجودگی کے آثار کے راز ازروئے قرآن افشاں کر دئیے ۔

• عالم اسلام کے فرزند....جنہوں نے اپنے حسابی اندازوں سے ہندوستان میں تین سو سال سے بننے والی مسجدوں کے قبلے غلط ثابت کرتے ہوئے قبلہ کا صحیح رخ معلوم کرنے کا فارمولا پیش کیا۔

• عالم اسلام کے پہلے فرزند....جنہوں نے ۱۹۴۵ءمیں مروجہ مغربی جمہوریت کو زرپرست مافیا کی سازش ثابت کرتے ہوئے حقیقی اسلامی فطری جمہوریت کا فارمولا ”طبقاتی طریقِ انتخاب“ کی صورت میں پیش کیا جس میں زر پرست مافیا کا دنیا کے وسائل پر سے قبضہ ختم کروانے کا فطرتی حل موجود ہے۔ (جس کی صحت کو آج تک کوئی چیلنج نہ کر سکا)۔

• عالم اسلام کے فرزند....جنہوں نے خاکسارتحریک میں ”روزانہ عمل اور محلہ وار نظام“ کے ذریعے مسلم وغیر مسلم میں اخوت یعنی بھائی چارہ کا جذبہ اور ایک ہی صف میں کھڑا کر کے اونچ نیچ کا خاتمہ اور عملاً مساوات پیداکر کے ”برطانوی سامراج سے نجات، حصولِ آزادی اور قیام پاکستان“میں اہم کردار ادا کیا۔ جس کا واضح ثبوت ۱۹ مارچ ۱۹۴۰ءکو لاہور میں ۳۱۳خاکسارغازیوں اورشہداءنے اپنے لہو سے ۲۳ مارچ کی قرارداد تحریر کر کے اس کی راہ ہموار کی جس میں ان کے فرزند احسان اﷲ خان اسلمؒ بھی شہید ہوئے۔

• عالم اسلام کے فرزند....جنہوں نے ۱۹۲ءمیں نوبل انعام، ۱۹۱۹ء میں کابل کی سفارت، چار ہزار روپے ماہانہ وظیفہ اورسرکے خطاب کی پیشکش، ۱۹۳۶ءمیں ہندوستان کی ریاست کی وزارت عظمیٰ اور انگریز کی جانب سے دیگر پُر کشش پیش کشوں اورمراعات کو ٹھکرا کر اپنی خودداری ثابت کر دی۔

• پاکستان کے پہلے سیاسی رہنما....جنہوں نے دریاﺅں کے رخ موڑنے، دریاﺅں پر ڈیم تعمیر کرنے، مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ کھٹائی میں ڈالنے، معاشی و اقتصادی بدحالی، امریکی و برطانوی و بھارتی سازشوں، سول و فوجی حکومتوں اور قومی رہنماﺅں کی وعدہ خلافیوں کا پردہ چاک کرنے کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان کے (۱۹۷۰-۷۱) میں جدا ہونے کی سازشوں کو بے نقاب کرنے اور اٹک کے دریا سے لے کر چین کی سرحدوں تک کے علاقوں کو غیر مستحکم کر کے پاکستانی قوم پر جغرافیائی، معاشی، معاشرتی، مذہبی، سماجی زندگی محدود کرنے کی پیش گوئیاں ۱۹۴۶ء تا ۱۹۵۰، ۱۹۵۲ء اور ۱۹۵۶ء تا ۱۹۶۳ء میں مینارِ پاکستان و کراچی کے جلسہ ہائے عام میں کیں تاکہ اصلاح احوال ممکن ہو سکے۔

• پاکستان کے پہلے رہنما.... جنہوں نے اپنی ۳۶ دیہاتوں پر مشتمل وراثتی زمینوں کو اپنے کسانوں میں تقسیم کرتے ہوئے ہندوستان میں باقی ماندہ آبائی گھروں اور زمینوں کے کلیم سے دستبرداری اختیار کر کے میدانِ سیاست میں ایک نئی بے مثال اور لازوال روایت کی بنیاد رکھی کہ سیاست در حقیقت خدمت خلق اور عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔

• پاکستان کے پہلے رہنما.... جنہیں۳۳ سالہ سیاسی جدوجہد میں سے انگریز سامراج اور قیام پاکستان کے بعد کے حکمرانوں اور اپنوں و غیروں نے مل کر۱۸سال تک قید و بند کی پُر تشدد صعوبتوں میں گذارنے پر مجبور کر دیا ۔


• پاکستان کے پہلے رہنما....جنہوں نے سب سے پہلے ”کشمیر بزور شمشیر“ حاصل کرنے کی آواز بلند کی، اپنے ہزاروں جانثاروں کے ہمراہ کشمیر کی سرحدوں پر”جہادی کیمپ“ لگائے اور ۱۹۴۸ء میں آزادی کشمیر کےلئے عملاً جہاد میں حصہ لیا اور بہ نفس نفیس خود بھی زخمی ہوئے۔

• پاکستان کے پہلے رہنما.... جنہوں نے شاہانہ زندگی چھوڑ کر مجاہدانہ زندگی اپنا کر تا حیات اے سی گاڑی، بجلی کے پنکھوں کا استعمال نہ کرتے ہوئے ہندوستان بھر کے دوروں کے دوران اپنے کھانے پینے کے اخراجات خود سے برداشت کر کے قوم سے کچھ نہ لےنے کی اپنی ادنیٰ سے خواہش سے بھی بے نیازی ثابت کر دی۔

• پاکستان کے وہ رہنما....جن کی نماز جنازہ میں دس لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کر کے ان کے عمل و کردارکی صداقت پر اپنی مہرثبت کی۔ • پاکستان کے پہلے رہنما....جن کو بعد از مرگ حضوری باغ (بادشاہی مسجد لاہور) کے وسیع و عریض مقام پر قائدین خاکسار تحریک کوحکومت کی جانب سے تدفین کی پیش کش کی گئی تو انہوں نے اپنے عظیم المرتبت قائد کی وصیت منظر عام پر لاکر امت مسلمہ اور ملت پاکستانیہ کو حیرت زدہ کر دیا کہ”مرحوم کی تدفین، ان کی اپنی زرخرید زمین ذیلدار روڈ، اچھرہ لاہور میں ہو اور اس پر گھنٹہ گھر تعمیر کر کے تحریر کیا جائے کہ "جو قوم وقت کی قدر نہیں کرتی تباہ ہو جاتی ہے“ ۔ جہاں پر چھولداری میں بیٹھ کرآپ نے ”خاکسارتحریک“ کو عا لمگیر سطح پر چلایا اور اسی مقام پر ہی پیوند خاک ہوکر اپنی خودداری ثابت کر دی۔

• مقام غور و فکر ہے کہ ایسی عظیم المرتبت شخصیت کے ساتھ ۱۹۴۷ءسے لے کر اب تک حکمرانوں ، ارباب تعلیم و صحافت، تاریخ نویسوں، کالم نگاروں، محققوں، قومی رہنماﺅں اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کا متعصبانہ رویہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر نوجوان نسل سے انہیں کیوں بے خبر رکھا جا رہا ہے؟ جس کا واضح ثبوت یہی ہے کہ ابھی تک ”باقیات فرنگی سامراج“ کاخاتمہ نہیں ہو سکا؟ جو ہم سب کےلئے لمحہ فکریہ ہے!



ادبی خدمات[ترمیم]

علامہ مشرقی بلند پایہ انشاپرداز، فلسفی ، مورخ تھے۔ تذکرہ، خریطہ، اشارات قول فیصل، مولوی کا غلط مذہب، حدیث القران، تین شعری مجموعے، حریم غیب، دہ الباب اور ارمغان حکیم آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔ انتقال کے بعد ادارہ علیہ ہندیہ، اچھرہ لاہور میں دفن ہوئے۔ 1925ء میں جو انھوں کے قرآن کی تفسیر لکھی تھی اس کی بنا پر انھیں نوبل انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔

بیرونی روابط[ترمیم]