محمد رفیع خاور(ننھا)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ننھا پاکستانی فلموں میں ایک بہترین مزاحیہ اداکار کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ لیکن کئی مواقعوں پر انھوں نے اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کو بہت متاثر کیا۔ ان کا اصلی نام رفیع خاور تھا۔

انیس سو چونسٹھ میں ننھا نے ریڈیو پاکستان کے پروگرام کے زریعے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو اس بھرپور انداز میں پیش کیا کہ۔ فلمسازوں کی نظریں ان کی طرف اٹھ گئیں، اور انیسو پینسٹھ سے ان کے فلمی کیریئر کا ایسا آغاز ہوا، جس نے انھیں فلموں کی ضرورت بنا دیا، ان کے کریڈٹ پر یوں تو بے شمار فلمیں ہیں،لیکن۔۔ پردے میں رہنے دو، آس ۔ نوکر،دبئی چلو،سالا صاحب اور آخری جنگ بہت مشہور ہوئیں۔

ہردلعزیز ننھا کے گول مٹول چہرے پر معصومیت کھیلا کرتی تھی وہ اپنی فربہ جسمانی ہیت سے مزاح تخلیق کرتا ، وہ ا سٹیج پر چڑھتا تو دیکھنے والے ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتے ، ٹی وی اسکرین پر نمودار ہوتا تو’الف نون‘جیسے معیاری کھیل وجود پاتے اور فلم کے پردے پر اس کے انداز سب سے جداگانہ ہوتے۔

ننھے اور علی اعجاز نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ایک ساتھ کیا، تھیٹر اور ٹی وی کے ادوار گزار کر دونوں ایک ساتھ پردہ سکرین پر نمودار ہوئے ، ان دونوں کا ساتھ ننھے کی وفات تک قائم رہا۔ عین عروج میں وہ ایک اداکارہ کی زلف کا اسیر ہو کر دل ہار بیٹھا، محبت اسے راس نہ آ سکی ، وہ بے وفائی کی چوٹ کو نہ برداشت کر سکا اور جان وار بیٹھا۔ رفیع خاور ’ننھا‘ نے تمام عمر لوگوں میں مسکراہٹیں بانٹیں لیکن اس کی زندگی کا ڈراپ سین بہت پردرد تھا جسے لوگ آج تک نہیں بھلا سکے۔

آخری جنگ ان کی زندگی کی بھی آخری فلم ثابت ہوئی، جس سال انیسو چھیاسی میں یہ فلم ریلیز ہوئی اسی برس یہ یہ فنکار بھی دنیا چھوڑ گیا۔ ننھا کی اداکاری آج بھی پاکستانی فلموں کے عروج کا دور یاد دلاتی ہے ۔