مروہ الشربینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مروہ الشربینی، مصری خاتون (1977-2009)، جسے روسی نژاد نسل پرست نے جرمنی کی بھری عدالت میں اٹھارہ دفعہ چھری کے وار کر کے شہید کر دیا۔ جرمنی کی پولیس منہ دیکھتی رہی، جب مروہ کا خاوند اسے بچانے کے لیے آگے بڑھا تو پولیس نے خاوند کو گولی مار دی۔ مروہ کا تین سالہ بیٹے نے یہ تمام منظر دیکھا۔ واقعات کے مطابق روسی ایلکس نے مروہ کو "دہشت گرد" کہا تھا اور دشنام طرازی کی تھی جب وہ اپنے بچے کے ساتھ پارک میں تھی۔ مروہ کی شکایت پر ایلکس کو جرمانہ کیا گیا اور دونوں کا آمنا سامنا عدالت میں اسی مقدمہ میں ہوا۔ مصر میں اس نسل پرستی کے واقعہ پر شدید ردعمل ہوا ہے جبکہ جرمنی نے اسے ایک عام واقعہ گردانا ہے۔[1]


  1. ^ گارجین، 7 جولائی 2009، "The headscarf martyr: murder in German court sparks Egyptian fury"