منسا موسیٰ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
1395ء کے ایک افریقہ و یورپ کے نقشے میں منسا موسیٰ کو دکھایا گیا ہے

منسا موسیٰ سلطنت مالی کا سب سے مشہور اور نیک نام حکمران رہا ہے جس نے 1312ء سے 1337ء تک حکومت کی۔ اس کے عہد میں مالی کی سلطنت اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ گئی۔ ٹمبکٹو اور گاد کے مشہور شہر فتح ہوئے اور سلطنت کی حدود مشرق میں گاد سے مغرب میں بحر اوقیانوس اور شمال میں تفازہ کی نمک کی کانوں سے جنوب میں ساحلی جنگلات تک پھیل گئی۔ منسا کو سب سے زیادہ شہرت اس کے سفرِ حج کی وجہ سے ہوئی جو اس نے 1324ء میں کی تھا۔ یہ سفر اتنا پرشکوہ تھا کہ اس کی وجہ سے منسا موسیٰ کی شہرت نہ صرف اسلامی دنیا کے ایک بڑے حصے میں پھیل گئی بلکہ تاجروں کے ذریعے یورپ تک اس کا نام پہنچ گیا۔ اس سفر میں منسا موسیٰ نے اس کثرت سے سونا خرچ کیا کہ مصر میں سونے کی قیمتیں کئی سال تک گری رہیں۔ منسا موسیٰ مکہ معظمہ میں ایک اندلسی معمار ابو اسحاق ابراہیم الساحلی کو اپنے ساتھ لایا جس نے بادشاہ کے حکم سے گاد اور ٹمبکٹو میں پختہ اینٹوں کی دو مساجد اور ٹمبکٹو میں ایک محل تعمیر کیا۔ مالی کے علاقے میں اس وقت پختہ اینٹوں کا رواج نہیں ہوا تھا۔ منسا موسیٰ کے زمانے میں مالی کے پہلے مرتبہ بیرونی ممالک سے تعلقات قائم ہوئے چنانچہ مراکش کے مرینی سلطان ابو الحسن سے اس کے اچھے تعلقات تھے۔ منسا موسیٰ درویش صفت اور نیک حکمران تھا۔ اس کے عدل و انصاف کے متعدد قصے تاریخوں میں درج ہیں۔ منسا موسیٰ کے بعد مالی کی سلطنت کا زوال شروع ہوگیا۔ ایک ایک کرکے تمام علاقے ہاتھ سے نکل گئے اور 1854ء میں شہر گاد کے سونگھائی حکمران نے مالی کی سلطنت کا خاتمہ کردیا۔ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے اسی منسا موسیٰ کے بھائی سلیمان بن ابو بکر کی حکومت کے دوران مالی کی مملکت ایک سال سے زیادہ قیام کیا اور ٹمبکٹو کی بھی سیر کی اور علاقے کی مالی خوشحالی اور امن و امان کی تعریف کی۔

پیشرو:
ابو بکر ثانی
سلطنت مالی
حکمران

1312–1337
جانشیں:
مگھن اول


بیرونی روابط[ترمیم]

ہسٹری چینل- منسا موسیٰ کا سفر حج