نیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
style="background:#transparent; text-align:center; border: 1px solid red;;"|Azadirachta indica
Azadirachta indica flowers & leaves
Azadirachta indica flowers & leaves
style="background:#transparent; text-align:center; border: 1px solid red;;" | حیاتیاتی جماعت بندی
مملکت: Plantae
شعبہ: Magnoliophyta
طبقہ: Sapindales
خاندان: Meliaceae
جنس: Azadirachta
نوع: A. indica
Binomial name
Azadirachta indica

بکائن کی طرح کا درخت ۔ بکائن کی طرح گھنا سایہ رکھتا ہے ، تاہم اس پر کرم بہت ہوتے ہیں۔ یہ درخت بکائن کی طرح محض سایہ کی خاطر ہر دلعزیز نہیں ہے بلکہ اس کے فوائد اور بھی ہیں۔ نیم کا پھل بھی بکائن کی طرح ہوتا ہے ۔ اور اس کو نمولی کہتے ہیں۔ جب یہ پکنے پر اآتا ہے تو اس میں قدرے مٹھاس سی آجاتی ہے ۔ اس لیے پرندے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ درخت ، بڑ کی مانند چاروں طرف پھیلتا ہے۔ اس کا تنا بھی موٹا ہوتا ہے ۔ جب یہ درخت پرانا ہو جاتا ہے تو اس میں سے ایک قسم کی رطوبت خارج ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ جو نہایت شیریں ہوتی ہے۔ چنانچہ لوگ اس کو جمع کرکے بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔ اس کے پتے بھی طبی خواص رکھتے ہیں۔ اس کے جوشاندے میں نہانے سے خارش دور ہو جاتی ہے ۔ زخموں پر بھی باندھے جاتے ہیں۔ یہ بہترین جراثیم کش درخت ہے ۔ اور جراثیم کشی میں استعمال ہوتا ہے۔ جوشاندہ معدے کو بھی درست کرتا ہے ۔ خون کو صاف کرتا ہے ۔لیکن کڑوا ضرور ہوتا ہے اس کی لکڑی بکائن سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر تختوں سے صندق بنا کر کپڑے رکھے جائیں تو ان کو کیڑا نہیں لگتا۔

نیم کا درخت۔

اس درخت کے پتے بکائن کی طرح دندانہ دار ہوتے ہیں لیکن ایک رخ سے ذرا پھٹے ہوتے ہیں اور بکائن کے پتوں کے خلاف خوشوں میں نکل آتے ہیں۔ جس سے یہ درخت فوراً پہچانا جاتا ہے۔ یہ درخت طبی خواص کے لحاظ سے بہت مفید ہے اور پاک و ہند میں بخوبی پھلتا پھولتا ہے۔

استعمالات[ترمیم]

روایتی طور پر نیم کا استعمال مختلف بیماریوں سے بچنے اور ان کے علاج کے لیئے بھی کیا جاتا ہے۔ بچوں میں بخار یا چیچک جیسی بیماری کی صورت میں نیم کی پتّیاں ان کے بستر پر بچھائی جاتی ہیں۔

خارش، تیزابیت، اور سورائسس جیسی بیماری میں نیم کو جلد پر لگانے سے آرام ملتا ہے اور ابال کر پینے سے اسہال کے مریض کو فائدہ ہوتا ہے۔

نیم کی چھاؤں کا درجہ حرارت دیگر درختوں کی چھاؤں سے کم ہوتا ہے

گرمیوں میں سردیوں کے کپڑوں کو کیڑوں سے بچانے کے لیے نیم کی پتیوں کو کپڑے میں رکھا جا تا ہے۔ خشک سالی کے سبب جن علاقوں میں چارہ نہیں اگتا وہاں جانور نیم کی پتّیاں کھاتے ہیں اور نمکولی سے عمدہ قدرتی کھاد بنائی جاتی ہے۔

نیم کا سب سے زیادہ اور عام استعمال مسواک کے طور پر کیا جاتا ہے۔

جدید سائنٹفک دریافت کے مطابق نیم کی چھال سے نکلنے والا تیل بہت اہم ہوتا ہے اوراس میں موجود بعض زہریلے مادوں کا استعمال فنگس کے لیے بہت مفید ہوتا ہے۔ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی وہ پہلے سائنسدان ہیں ، جو نیم کے درخت سے کیڑے مار،پھپوندی کش، اور بیکڑیا مارنے والے اجزاءتیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 1942ء میں انھوں نے نیم کے تیل سے تین مرکبات نمب-ین، نمب-نین اور نمب-دین تیار کئے۔ یہ مرکبات نیم میں کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

چند تصاویر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=نیم&oldid=1000200’’ مستعادہ منجانب