آرٹ بکوالڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آرٹ بکوالڈ
Art-Buchwald-1953.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 20 اکتوبر 1925[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ماؤنٹ ورنن، نیو یارک  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 17 جنوری 2007 (82 سال)[8][1][2][3][4][5][6]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
واشنگٹن ڈی سی[9]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات گردے فیل  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد 3   ویکی ڈیٹا پر تعداد اولاد (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ کالم نگار، مضمون نگار، مصنف، منظر نویس، صحافی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں دوسری جنگ عظیم  ویکی ڈیٹا پر لڑائی (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ہوریٹیو ایلگر اعزاز (1989)[10]  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آرٹ بکوالڈ

مشہور امریکی کالم نگار اور مزاح نگار۔ 1925 میں نیویارک میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد کا کاروبار ناکام ہونے کے بعد کئی برس یتیم خانے میں گزارے۔ چالیس سال تک کالم نگاری سے وابستہ رہے اور تینتیس کتابیں تصنیف کیں۔ ان کا پہلا کالم 1949 میں اس وقت شائع ہوا جب وہ پیرس میں رہائش پزیر تھے۔ انہوں نے امریکا واپس آنے کے بعد ہزاروں کالم لکھے اور خاص طور امریکا کے اعلیٰ طبقے کو اپنے طنز کا نشانہ بنایا۔ بکوالڈ نے واشنگٹن کی زندگی اور وہاں کے حالات کے بارے میں اتنی خوبصورتی سے لکھا کہ لاکھوں پڑھنے والے ان کے مداح بن گئے اور ان کا نام سیاسی طنز کے مترادف سمجھا جانے لگا۔

آرٹ بکوالڈ نے اپنا عروج 1970 کی دہائی کے آغاز میں دیکھا جب ان کے کالم پانچ سو سے زائد امریکی اور غیر ملکی اخبارات میں شائع ہوئے۔

ان کا یہ جملہ بہت زیادہ مشہور ہوا ’اگر آپ کسی انتظامیہ کو طویل عرصے تک نشانہ بنائے رکھیں تو وہ آپ کو اپنا رکن منتخب کر لے گی‘

بکوالڈ کو 1982 میں ان کے نمایاں تبصرے پر پولٹزر انعام بھی دیا گیا۔ 1990 کے آغاز میں انہوں نے پیراماؤنٹ پیکچرز پر مقدمہ دائر کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکا میں آنے والی ایڈی مرفی کی فلم ’کمنگ ٹو امریکا‘ کا مرکزی خیال ان کی تحریروں سے لیا گیا تھا۔ انہوں نے اس مقدمے میں نو لاکھ ڈالر جیتے۔ ان کی اس جیت کے بعد فلم بنانے والے کمپنیوں نے اس قانون کو تبدیل کیا کہ انہیں کسی کہانی کا بنیادی خیال پیش کرنے والے مصنف کو معاوضہ نہیں دینا ہو گا۔

اس نئے بنے والی قانونی شق کو غیر سرکاری طور پر بکدلڈ شق کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0 نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "e3f7e60fd57a19a620f403bcf0bc3c7519ed92fc" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12593798c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Art-Buchwald — بنام: Art Buchwald — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6rw2q59 — بنام: Art Buchwald — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب انٹرنیٹ بروڈوے ڈیٹا بیس پرسن آئی ڈی: https://www.ibdb.com/broadway-cast-staff/4260 — بنام: Art Buchwald — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=17557831 — بنام: Art Buchwald — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ISFDB author ID: http://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?11685 — بنام: Art Buchwald — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. http://www.nytimes.com/2007/01/18/washington/17cnd-buchwald.html
  9. اجازت نامہ: CC0
  10. https://horatioalger.org/members/member-detail/art-buchwald/