آسیہ بی بی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آسیہ بی بی
علاقائی نام آسیہ بی بی
پیدائش آسیہ نورین
عیسوی 1971
قومیت پاکستانی
وجۂ شہرت توہینِ رسالت کیس
مذہب کیتھولک عیسائی

آسیہ بی بی پاکستان کی ایک مسیحی عورت، جس نے حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے نبی موت سے ایک ماہ قبل سخت بیمار پڑے رہے۔ حتی کہ تمہارے نبی کے منہ اور کانوں میں (نعوذ باﷲ) کیڑے پڑگئے تھے۔ تمہارے نبی نے مال و دولت کے لالچ میں خدیجہ سے شادی کی اور مال و دولت بٹورنے کے بعد اسے گھر سے نکال دیا۔ قرآن اﷲ کا کلام نہیں بلکہ خود سے بنائی گئی کتاب ہےاور اپنا جرم عدالت میں قبول کیا۔ [1] پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے اس کی حمایت میں قانون توہین رسالت میں ترمیم کرانے کی کوشش کی اور اسے کالا قانوں کہا۔حوالہ درکار؟ اس گورنر کو ملک ممتاز حسین قادری نے قتل کردیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]