آفتاب پانی پتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آفتاب پانی پتی
معلومات شخصیت
پیدائش 13 اپریل 1896  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پانی پت،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 فروری 1968 (72 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پانی پت،  ہندوستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (13 اپریل 1896–14 اگست 1947)
Flag of India.svg ہندوستان (15 اگست 1947–9 فروری 1968)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

لالہ انوپ چند آفتاب پانی پتی (پیدائش: 13 اپریل 1896ء9 فروری 1968ء) اردو زبان کے شاعر تھے۔

سوانح[ترمیم]

نام و پیدائش[ترمیم]

آفتاب پانی پتی کا پیدائشی نام انوپ چند تھا جبکہ بعد ازاں لالہ آفتاب پانی پتی اور لالہ انوپ چند کے نام سے بھی پکارے گئے۔آفتاب پانی پتی کی پیدائش عین بیساکھی کے تہوار کے دن یعنی 13 اپریل 1896ء کو پانی پت میں ہوئی۔ خوشحال جین خاندان میں پیدا ہوئے جو کہ علم کی تحصیل میں نمایاں خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔

تعلیم و سخن گوئی[ترمیم]

آفتاب پانی پتی نے جب تعلیم مکمل کی تو اُس وقت ملک بھر میں برج نرائن چکبست اور سرور جہاں آبادی کی قومی شاعری کا غلغلہ ہر طرف بلند ہو رہا تھا۔ اِس لیے آفتاب پانی پتی کو بھی شعرگوئی سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ اِتفاق سے اُنہیں ایام میں مولانا وحید الدین سلیم پانی پتی روزنامہ زمیندار (لاہور) کی ملازمت ترک کر کےپانی پت چلے آئے تو آفتاب نے مولانا وحید الدین سلیم پانی پتی سے شعر گوئی میں اصلاح کی درخواست کی جو اُنہوں نے قبول کرلی۔ یہ سلسلہ مولانا سلیم پانی پتی کی وفات یعنی 1927ء تک جاری رہا۔ آفتاب کو غزل سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ اُنہوں نے زیادہ تر نظمیں کہی ہیں اور بھی بیشتر قومی اور سیاسی نظمیں ہیں۔ ان کے منظومات کے چھ مجموعے شائع ہوئے جن میں جلوۂ آفتاب، آفتاب وطن، جذباتِ وطن، جذبات کی دنیا، حبِ وطن اور شمشیر وطن شامل ہیں۔ آفتاب کی شاعری میں زبان سلیس اور بیان جذبات سے بھرپور ہیں۔ منظومات کے علاوہ اُنہوں نے بعض ڈرامے بھی لکھے تھے جن میں من موہنی، قومی آن، شریمتی انجنا دیوی، ہندوستانی سورما، ویر چھترانی قابل ذکر ہیں۔ آفتاب پانی پتی کی قومی و ادبی جذبات کے پیش نظر حکومت ہریانہ نے 28 مارچ 1967ء کو ’’راج کوی‘‘ کا اعزاز عطاء کیا تھا۔ [1]

وفات[ترمیم]

9 فروری 1968ء کو اچانک حرکتِ قلب بند ہوجانے کے باعث آفتاب پانی پتی پانی پت میں وفات پاگئے۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مالک رام: تذکرۂ معاصرین ، جلد 1، ص 48/49، مطبوعہ اپریل 1972ء، دہلی