آمنہ بنت الہدی صدر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آمنہ بنت الہدی صدر
معلومات شخصیت
پیدائش 23 فروری 1937  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کاظمین  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 اپریل 1980 (43 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن وادی السلام  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل تشیع
فقہی مسلک جعفریہ
عملی زندگی
پیشہ مصنفہ،  معلمہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

آمنہ بنت الہدی صدر عراق کی عالمہ، شاعرہ، مؤلف اور علم فقہ اور اخلاق کی معلم خواتین میں سے ایک تھی۔ بنت‌الہدی 1356 ہجری کو عراق کے شہر کاظمین میں پیدا ہوئی[1] آپ عراق کے شیعہ مفکر محمد باقر الصدر کی بہن تھی جسے صدام حسین نے دونوں بہن بھائیوں کو قتل کر دیا۔

شہیدہ آمنہ بنت الہدیٰ نے 1937ء عراق کے شہر کاظمین میں سید حیدر صدر کے گھر آنکھ کھولی. آپ ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں ابتدائی تعلیم ( نحو،فقہ،منطق،فقہ اصول) جیسے علوم اپنے بڑے بھائی اسماعیل صدراور شہید باقر الصدر سے حاصل کیے۔ ۴ آپ نے جس زمانے میں آنکھ کھولی وہ صدام کا زمانہ تھا جس میں شعیوں پر مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔ جو کوئی اس کے خلاف تحریک پیدا کرتا اس کی سزا موت ہوتی۔ اس زمانے میں آپ باقی خواتین کی طرح خاموش گھر میں نہیں بیٹھی۔ بلکہ اپنے بھائی شہید باقر الصدر کے ہمراہ ایسی راہ کا انتخاب کیا جوحسین بن علی ع کی راہ تھی اس راہ کا انتخاب کوئی آسان نہ تھا

5 اپریل 1980 کو آپ کو اور اپنے بھائی شہید باقر الصدر کو صدام کے حکم پر گرفتار کر لیا گیا اور جیل میں آپ کو اور آپکی بہن کو مختلف اذیتیں دی گئی صدام کے سامنے بھی آپ مزاحمت کرتے رہے آپ کو مزید اذیت دینے کے لیے صدام کے حکم دیا کہ آمنہ بنت الہدیٰ کو میرے سامنے لایا جائے اور شہید باقر الصدر کے سامنے لوہے کی سلاخ سے آمنہ بنت الہدیٰ پر تشدد کیا گیا آپ نے للکار کر صدام ملعون سے کیا کہ اگر تم واقعی مرد ہو تو آؤ مردوں کی طرح مجھ سے مقابلہ کرو آپ کے اس جرات مندانہ جملے کو سننے کے بعد صدام غصب ناک ہوا اور اپ کو اور آپکی بہن کو گولی مار کر شہید کر دیا اور ایک جملہ کہا "میں یزید کی طرح کام نہیں کروں گا کہ اس نے حسین کو تو مار دیا مگر زینب س کو چھوڑ دیا اور زینب س نے اپنے حصے کا کام کر کے یزید کا تختہ الٹ دیا"

متعلقہ مضامین[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حسینی حائری، سید کاظم؛ زندگی و افکار شهید صدر، ترجمہ فارسی حسن طارمی، تهران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی ایران، 1375، چاپ اول، ص 31و32.

مآخذ[ترمیم]

  • زندگی و افکار شهید صدر؛ سید کاظم حسینی حائری، ترجمہ فارسی؛ حسن طارمی، تهران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، چاپ اول 1375.