ابو العلاء المعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابوالعلاء المعری سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو العلاء المعری

ابوالعلا احمد المعریعرب شاعر اور فلسفی

پورا نام[ترمیم]

ابوالعلاء معری کا پورا نام احمد بن عبد الله بن سليمان، التنوخی المعری تھا

ولادت[ترمیم]

ابو العلاء معری کی پیدائش 363ھ بمطابق973ء معرۃ النعمان میں ہوئی۔ 4 سال کی عمر میں چیچک نکل آئی اور اسی سے بینائی جاتی رہی۔

حالات زندگی[ترمیم]

ابو العلاء معری کاحافظہ باکمال تھا ۔ حلب ، طرابلس ، انطاکیہ میں تعلیم پائی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد 398ھ میں بغداد گیا۔ مگر یہاں کی فضا پسند نہ آئی۔ اس لیے اپنے وطن معرہ واپس آگیا۔ اور باقی زندگی دنیا سے الگ تھلگ یہیں گزار دی۔ روشن دماغ اور ترقی پسند شاعر تھے۔ لب و لہجہ کا تند اور مردم بیزار تھا۔ عربی زبان میں محاکاتی شاعری کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ سینکڑوں کتب کا مصنف اور مولف ہے۔ اس کی علمی خدمات کا بیشتر حصہ صلیبی جنگوں کی نذر ہوگیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آواگون کا قائل تھا۔ بعض کا خیال ہے کہ لاادری (ایگناسٹک) تھا۔ اس کے مشہور شعر کا ترجمہ ہے:

"لوگ امام برحق کا انتظار کر رہے ہیں جو ان کے لشکر کی قیادت کرے گا۔ یہ ان کی خام خیالی ہے۔ عقل کے سوا کوئی امام نہیں جو ہر لمحہ انسان کو صحیح مشورہ دے اور اس کو راہ دکھائے۔"

اپنی غذا میں دال اور سبزیوں پر گزارا کرتے تھا۔ گوشت اور انڈا سے مکمل پرہیز تھا۔ علامہ اقبال نے بھی اپنی شاعری میں ان کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معری
پھل پھول پہ کرتا تھا ہمیشہ گزر اوقات

تصنیفات[ترمیم]

علامہ اقبال نے نظم میں معری کی دو تصانیف

  • ’’رسالہ غفران‘‘ اور
  • ’’لزومات‘‘ کا ذکر کیا ہے۔
  • الأيك والغصون ۔ادب میں 100 سے زیادہ جزء
  • تاج الحرۃ ۔عورتوں کے اخلاق او عادات پر، 400کتابچے
  • عبث الويد- ديوان البحتری کی شرح
  • رسالہ الملائكۃ
  • الفصول والغايات
  • رسالہ الصاهل والشاحج

وفات[ترمیم]

ابو العلاء معری کا انتقال 449ھ 1057ء میں ہوا۔وفات کے وقت اس کے 84 شاگرد شعراء موجود تھے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فہرس شعراء الموسوعہ الشعریہ : http://www.cultural.org.ae