ابو الطیب متنبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Al-Mutanabbi Statue in Baghdad

ابو الطیب متنبی دیوان متنبی کا مصنف اورمشہورعربی شاعر

نام[ترمیم]

ابو الطیب احمد بن الحسین بن الحسن بن عبدالصمد الجعفی الکندی الکوفی المعروف متنبی

ولادت[ترمیم]

ابو الطیب متنبی کی پیدائش 303ھ بمطابق 915ء میں کوفہ کے محلہ کندہ میں ہوئی اور وہ اسی کی طرف منسوب ہوا ۔لیکن قبیلہ کے لحاظ سے جعفی ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ متنبی کا باپ کوفہ میں سفیر تھا۔ پھر وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ شام منتقل ہوگیا اور اس کے بیٹوں نے شام میں پرورش پائی۔

متنبی وجہ تسمیہ[ترمیم]

اسے متنبی اس لیے کہا گیا ہے کہ اس نے بادیہ سماوہ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور بعض نے بیان کیا ہے کہ اس نے کہا میں پہلا شخص ہوں جس نے شعر سے دعویٰ نبوت کیا ہے۔ اور بنو کلب وغیرہ میں سے بہت سے لوگوں نے اس کی پیروی کی ۔ تو اخشیدیہ کا نائب امیر حمص لؤ لؤ اس کے مقابلے میں گیا تو اس نے اسے او ر اس کے اصحاب کو گرفتار کر لیا اور لمبا زمانہ قید رکھا۔ پھر اس سے توبہ کا مطالبہ کیا اور اسے رہا کر دیا ۔ پھر وہ 337ھ میں امیر سیف الدولہ بن حمدان کے پاس چلا گیا۔ پھر اس کو چھوڑ کر 346ھ میں مصر آگیا اور کافور اخشیدی اور انو جوربن الاخشید کی مدح کی۔ اور وہ کافور کے سامنے کھڑا ہوتا اور اس کے پاؤں میں موزے ہوتے اور اس کی کمر میں تلواروں اور پیٹیوں سے لیس ہوتے۔ اور جب وہ اس سے راضی نہ ہوا تو اس نے اس کی ہجو کی اور عید قربان کی رات کو 350ھ میں اسے چھوڑ گیا۔ اور کافور نے اس کے پیچھے مختلف جہات میں اونٹ روانہ کیے مگر وہ نہ ملا ۔ کافور نے اس سے اپنی عملداری کی حکومت کا وعدہ کیا تھا مگر جب اس نے اس کے اشعار میں اس کے بلند و بانگ دعوؤں اور اس کے فخر کو دیکھا تو وہ اس سے ڈر گیا اور اسے اس بارے میں ملامت کی گئی۔تو اس نے کہا اے لوگو! جو محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے کیا وہ کافور کے ساتھ مملکت کا دعویٰ نہ کرے گا؟ تمہارے لیے یہی کافی ہے۔

ماہر لغت[ترمیم]

متنبی بہت لغت نقل کرنے والوں اور اس کے غریب اور مبہم الفاظ کے جاننے والوں میں سے تھا۔ اوراس سے جو بات بھی پوچھی جاتی اس پر عربوں کے منظوم و منثور کلام سے بطور پیش کرتا۔ اس اشعارانتہا ء کو پہنچے ہوئے ہیں۔اس کے اشعار کے بارے میں لوگوں کے کئی طبقے ہیں ان میں سے کچھ تو اسے ابو تمام پر اور اس کے بعد شعراء پر ترجیح دیتے ہیں اور بعض ابو تما کو اس پر ترجیح دیتے ہیں۔

دیوان متنبی[ترمیم]

علماء نے اس کے دیوان کی طرف توجہ کی ہے اور اس کی شرحیں لکھی ہیں۔ ان کی چالیس چھوٹی بڑی شروح کا پتہ چلا ہے۔ اور ایسا کسی دوسرے دیوان کے ساتھ نہیں ہوا۔

وفات[ترمیم]

سیف الدولہ کی ایک مجلس میں ہر شب کو علماء حاضر ہوا کرتے تھے اور اس کی موجودگی میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ پس متنبی اور ابن خالویہ نحوی کے درمیان جھگڑا ہو گیا تو ابن خالویہ نے متنبی پر حملہ کر دیا اور اس کے چہرے پر وہ چابی مار کرسر کو زخمی کر دیا۔ وہ ناراض ہو کر مصر چلا گیا اور کافور کی مدح کی۔ پھر اسے چھوڑ کر اسے بلاد فارس کا قصد کیا اور عضدالدولہ بن بویہ دیلمی کی مدح کی تو اس نے بہت انعام دیا پھر 8 شعبان کو کوفہ آیا تو فاتک بن ابی الجہل اسدی اپنے کئی اصحاب کے ساتھ اسے ملا اور متنبی کے ساتھ بھی اپنے اصحاب کی ایک جماعت تھی۔پس انہوں نے اس کے ساتھ جنگ کی تو متنبی اور اس کا بیٹا محمد اور اس کا غلام مفلح نعمانیہ کے نزدیک ایک جگہ پر جسے الصافیہ کہا جاتا ہے 28 رمضان 354ھ 965ء قتل ہوگئے۔ بعض نے کہا ہے جبال الصافیہ ، بغداد کے مضافات سے غربی جانب دیر العاقول کے پاس ہیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. وفيات الأعيان (تاریخ ابن خلکان) تالیف : احمد بن محمد بن ابراہیم بن خلکان قاضی القضاۃ شمس الدین ابو العباس