اجیت کور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
اجیت کور
Ajeet Caur.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 16 نومبر 1934 (88 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور،  برطانوی پنجاب  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات راجندر سنگھ (شادی۔ 1952ء)
عملی زندگی
صنف ناول، مختصر کہانی، یادداشت
تعلیمی اسناد ایم اے  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنفہ،  شاعرہ،  مصنفہ،  ناول نگار،  افسانہ نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان پنجابی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں خانہ بدوش
اعزازات
ساہتیہ اکیڈمی انعام برائے پنجابی ادب  (برائے:Khana Badosh) (1985)[1]
Padma Shri Ribbon.svg پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

اجیت کور (پیدائش: 16 نومبر 1934ء) آزادی کے بعد کی پنجابی ادیبہ ہیں۔ وہ پنجابی فکشن خاص کر کہانی کی ایک بہت عمدہ اور منفرد لکھاری ہیں۔ جنہوں نے "عورت مرد کے رشتوں کو بڑی بے باکی اور گہرائی سے پیش کیا ہے۔ [2] اور انسانی زندگی کے احساسات، مرد عورت کے رشتے کی خوبصورتی اور جذباتی کشمکش، تنہائی کا دکھ، انسانی رشتوں کی پیچیدگیاں، پنجاب کی عورت کےکرب کو بہت بے باکی سے بیان کیا ہے۔[3] کامریڈ لدھیانوی کے بقول ’’دہلی کی بدحالی اور بدعنوانی اور ملک کے بڑھتے ہوئے مصائب سے لے کر اسی کی دہائی میں پنجاب کے سانحات تک ان کے قلم نے بڑی شدت سے مضامین اور کہانیاں لکھی ہیں۔[4] ان کی تحریریں نہ صرف خواتین کی جدوجہد کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں سماجی اور سیاسی انتشار اور بے شرمی کی بدعنوانی کے خلاف بھی ایک بھرپور مہم چلاتی ہیں۔ اجیت کور کا ماننا ہے کہ حقوق نسواں کا مطلب خود کو مضبوط کرنا ہے۔ آپ کو کرنا پڑے گا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

اجیت کور 16 نومبر 1934 کو لاہور، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مکھن سنگھ اور والدہ کا نام جسونت کور تھا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم سیکرڈ ہارٹ اسکول اور خالصہ ہائی سکول، لاہور سےحاصل کی۔ وہ جب دسویں جماعت میں زیر تعلیم تھیں کہ ملک کی تقسیم ہو گئی اور ان کا خاندان شملہ منتقل ہوگیا۔ 1948 میں دلی سے اجیت کور نے ایم اے اکنامکس اور بی ایڈّ کے امتحانات پاس کیے۔ انہوں نے اردو، انگریزی اور پنجابی ادب کا مطالعہ بھی کیا۔

تخلیقات پر کام[ترمیم]

ان کی آپ بیتی خانہ بدوش کا کئی ملکی و غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ وہ اب بھی خود کو خانہ بدوش ہی کہتی ہیں۔انگریزی میں ان کی کہانیوں کا مجموعہ ڈیڈّ اینڈ بہت مقبول ہوا۔ ان کی کچھ مقبول تصانیف جیسے پوسٹمارٹم، خانہ بدوش، غوری، قصائی باڑا، کوڑا کباڑا، اور کالے کھوہ ہندی ترجمے میں دستیاب ہیں۔ ان کی سات کتابیں پاکستان میں شائع ہوئی ہیں۔ ۔ نا مارو اور ٹیوی دھاراواہک پر ڈرامہ بنا ہے۔ گلبانو، چوکھٹ اور مامی پر ٹیلی فلمیں بنی ہیں۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#PUNJABI — اخذ شدہ بتاریخ: 7 مارچ 2019
  2. http://www.loc.gov/acq/ovop/delhi/salrp/ajeetcour.html
  3. اجیت کور دیاں برتانتک جگتاں-جگبیرں کور [مردہ ربط]
  4. پرسدھ لیخکا اجیت کور نال اک انٹرویو/گفتگو ڈاکٹر.ساتھی لدھیانوی-لنڈنانوی
  5. "Archived copy". 04 فروری 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 جنوری 2014.