اخگر فیروز پوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اخگر فیروز پوری
معلومات شخصیت
پیدائش 26 اگست 1901  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فیروزپور،  برطانوی پنجاب  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 20 اپریل 1967 (66 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فیروزپور،  ہندوستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg ہندوستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تعلیمی اسناد فاضل القانون  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر،  ادیب،  حاکم فوجداری  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

اخگر فیروز پوری (پیدائش: 26 اگست 1901ء— وفات: 20 اپریل 1967ء) بھارت سے تعلق رکھنے اردو زبان کے نثر نگار، شاعر او ر ادیب تھے۔

سوانح[ترمیم]

نام[ترمیم]

اخگر فیروز پوری کا پیدائشی نام نند کشور تھا۔

پیدائش اور خاندان[ترمیم]

اخگر کی پیدائش26 اگست 1901ء کو فیروزپور، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں ہوئی۔ خاندان متمول قسم کا تھا۔ اخگر کے والدلالہ جگن ناتھ شہر کے سربرآوردہ اشخاص میں شمار ہوتے تھے۔ ابھی وہ بائیس تئیس سال کے تھے کہ انگریزی حکومت نے اُنہیں اعزازی (آنریزی) مجسٹریٹ بنا دیا۔جہاں وہ چالیس سال سے زائد عرصہ تک فائز رہے۔ لکھنے پڑھنے کا بھی شوق تھا۔ اُن کی تصنیف ’’بھگوت گیتا کی شرح‘شائع ہوئی۔ [1]

معاش[ترمیم]

اخگر کے والد لالہ جگن ناتھ کا انتقال 1931ء میں ہوا تو گھر کی ذمہ داری اخگر پر آگئی۔1938ء میں اخگر بھی آنریری (اعزازی) مجسٹریٹ بن گئے اور تقسیم ہند (1947ء) تک امانتداری و تندہی سے فرائض سر انجام دیتے رہے۔اِس سے قبل اخگر نے بی اے اور ایل ایل بی کی اَسناد پانے کے بعد فیروزپور میں وکالت کا پیشہ اِختیار کیا تھا۔ مجسٹریٹ کے زمانہ معاش میں وکالت کا پیشہ ترک کردیا تھا تاکہ دونوں میں کسی جگہ ٹکراؤ نہ ہوجائے۔شہر کے رفاہِ عامہ کے کاموں سے بھی گہری دلچسپی تھی۔’’ انجمن اِمدادِ قیدیان‘‘ کے اعزازی پیشکار بھی تھے جبکہ مقامی اسکول کی مجلس منتظمہ کے نائب صدر بھی تھے۔اواخر عمر میں اپنا کاروبار کرلیا ۔ فیروزپور کا شملہ ٹاکیز نامی سینما ہال اُن کی ملکیت تھا۔ [2]

شعرگوئی[ترمیم]

اخگر کو طالب علمی میں ہی شعر گوئی کا شوق پیدا ہوگیا تھا۔ جب سنجیدگی سے شعر کہنا شروع کیا تو خواجہ عبدالرؤف عشرت لکھنؤی سے اصلاح لینے لگے۔ اِس طرح اخگر کا سلسلہ تلمذ خدائے سخن میر تقی میر تک پہنچ جاتا ہے۔اخگر نے ابتدائے ایام سخن میں بھگوت گیتا کا منظوم ترجمہ شروع کیا تھا اور اِس کا کچھ حصہ ’’درسِ حیات‘‘ کے عنوان سے چھپا تھا۔ مالک رام کے مطابق اخگر نے آخری ایام میں بھگوت گیتاکا یہ منظوم ترجمہ مکمل کرلیا تھا لیکن اِس ترجمہ کا مسودہ شائع نہ ہوسکا۔ [3]

وفات[ترمیم]

اخگر فیروزپوری کا اِنتقال 20 اپریل 1967ء کو فیروز پور، بھارت میں 66 سال کی عمر میں ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مالک رام: تذکرۂ معاصرین ، جلد 1، ص 20، مطبوعہ اپریل 1972ء، دہلی
  2. مالک رام: تذکرۂ معاصرین ، جلد 1، ص 20، مطبوعہ اپریل 1972ء، دہلی
  3. مالک رام: تذکرۂ معاصرین ، جلد 1، ص 21، مطبوعہ اپریل 1972ء، دہلی