مندرجات کا رخ کریں

افروز عالم ساحل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
افروز عالم ساحل
افروز عالم ساحل نئی دہلی میں

معلومات شخصیت
پیدائش 1987 (عمر 3839 سال)
بتیہا, بہار
قومیت بھارت کا پرچم بھارتی
عملی زندگی
تعليم جامعہ ملیہ اسلامیہ
مادر علمی جامعہ ملیہ اسلامیہ   ویکی ڈیٹا پر  (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ صحافی، مصنف
پیشہ ورانہ زبان انگریزی ،  اردو ،  ہندی   ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

افروز عالم ساحل (پیدائش: 1987) ایک بھارتی صحافی، مصنف اور حق اطلاعات (RTI) کے کارکن ہیں۔ وہ آزاد آن لائن نیوز پورٹل بیانڈ ہیڈلائنز (Beyond Headlines) کے بانی اور ایڈیٹر ہیں، جو پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور سماجی مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ساحل اپنی تحقیقاتی صحافت کے لیے جانے جاتے ہیں، خاص طور پر انھوں نے آر ٹی آئی کے ذریعے حکومتی پالیسیوں، بدعنوانی اور سماجی ناانصافیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

[ترمیم]

افروز کی پیدائش بتیا ضلع مغربی چمپارن، بہار میں 28 فروری 1987 مطابق 29 جمادی الثانی 1407 جمعہ کے دن ہوئی۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم راج انٹر کالج اور گلاب میموریل کالج، بتیاہ سے مکمل کی۔[1] اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ دہلی منتقل ہو گئے، جہاں انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن کیا۔[2] بعد ازاں انھوں نے اے جے کے ماس کمیونیکیشن ریسرچ سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔[3]

صحافتی کیریئر

[ترمیم]

افروز نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز ہندوستان ایکسپریس اور ہندوستان اخبار میں بطور فری لانس رپورٹر کیا۔ بعد میں انھوں نے TV9 ممبئی اور UNI TV میں بطور اسپیشل کورسپونڈنٹ اور RTI ڈیسک انچارج کے طور پر خدمات انجام دیں۔[4] وہ Two Circles میں روونگ رپورٹر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے بعد وہ BeyondHeadlines میں بطور مدیر (تحقیقات) شامل ہوئے۔[2] افروز عالم تقریباً دس سال تک انقلاب میں کالم لکھ چکے ہیں، [3] ان کے مضامین متعدد مشہور میڈیا اداروں میں شائع ہو چکے ہیں، جن میں شامل ہیں: بی بی سی ہندی، ڈیلی صباح، اناضول ایجنسی، دی وائر، دی ٹائمز گروپ، مڈل ایسٹ مانیٹر، ہندوستان ٹائمز، نیشنل ہیرالڈ، دی کوئنٹ، دی پرنٹ، اے بی پی نیوز، نو جیون، امریکن کہانی، پراوکٹا۔[4][حوالہ درکار]

آر ٹی آئی جدوجہد

[ترمیم]

افروز عالم ساحل کو رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) کے ذریعے کئی اہم معلومات حاصل کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔​[2] انھوں نے 3000 سے زیادہ آر آئی درخواستیں دائر کیں۔ [3] ان کی ایک بڑی کامیابی بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کیس میں سامنے آئی، جب انھوں نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (NHRC) سے آر ٹی آئی کے ذریعے آتیف امین اور محمد ساجد کے پوسٹ مارٹم رپورٹس حاصل کیں، جنھیں دہلی پولیس نے 19 ستمبر 2008 کو انکاؤنٹر میں ہلاک کیا تھا۔[1] افروز عالم ساحل نے انکاؤنٹر کے ایک ہفتے کے اندر دہلی پولیس، AIIMS، NHRC اور سپریم کورٹ کو آر ٹی آئی درخواستیں بھیجیں۔[1] انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے خلاف بھی آر ٹی آئی دائر کی، جس سے پتہ چلا کہ پارٹی نے ڈاؤ کیمیکلز سے $2500 کا عطیہ قبول کیا تھا، جو بھوپال گیس سانحہ کے لیے بدنام زمانہ کمپنی یونین کاربائیڈ کو خرید چکی تھی۔[1]

اعزازات اور فیلو شپ

[ترمیم]

افروز عالم ساحل کو 20 سے زائد ایوارڈز، اعزازات اور فیلوشپ سے نوازا جا چکا ہے، جن میں شامل ہیں: [4]

  • عالمی ادارہ صحت (WHO) کی روڈ سیفٹی جرنلزم فیلوشپ
  • بھارتی وزارت ثقافت کی جونیئر ریسرچ فیلوشپ
  • وزارت عملہ، عوامی شکایات و پنشن کی RTI فیلوشپ

تصانیف

[ترمیم]

افروز عالم ساحل نے چھ کتابیں تصنیف کی ہیں اور ایک کتاب کا ترجمہ کیا ہے:

لاک ڈاؤن ڈائری: کورونا کال کے 68 دن (ہندی)

جامعہ اور گاندھی (ہندی)[5]

پروفیسر عبد الباری: آزادی کی لڑائی کا ایک انقلابی یودھا (ہندی)

شیخ گلاب: نیل اندولن کے ایک نایک (ہندی)

پیر محمد مونس (ہندی)

جاننے کا حق: سُوچنا کا ادھیکار - ایک مارگ درشکا (ہندی) انھوں نے مسلم خواتین کے مسلم پرسنل لا میں حقوق پر مبنی ایک کتاب کا بھی ہندی میں ترجمہ کیا ہے، جسے سروجنی نائیڈو سنٹر فار ویمن اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے شائع کیا تھا۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 "ناقابلِ روک آر ٹی آئی ماورک"۔ 8 اپریل 2010
  2. 1 2 3 "متبادل میڈیا کھیل کے اصول بدل رہا ہے، لیکن کیا یہ کافی ہے؟"۔ 25 اپریل 2016
  3. 1 2 3 عبد الوہاب حبیب (30 مارچ 2014)۔ "افروز عالم ساحل کے ساتھ عبد الوہاب حبیب کی بات چیت"۔ ایشیا ایکسپریس روزنامہ۔ ص 6
  4. 1 2 3 "معاونین"
  5. نایاب حسن قاسمی (نومبر 2019)۔ "جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ میں گاندھی کی حصے داری افروز عالم ساحل کی کتاب "گاندھی اور جامعہ" کے حوالے سے"۔ ایس کیو نیوز۔ اخذ شدہ بتاریخ سانچہ:تاریخ رسائی {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |تاریخ رسائی= (معاونت)[مردہ ربط]