اقبال عظیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
پروفیسر اقبال عظیم
پیدائش پروفیسر اقبال عظیم

8 جولائی 1913ء

میرٹھ بھارت
وفات 22 ستمبر 2000ء
کراچی، پاکستان
پیشہ نعت خواں
قومیت پاکستان
موضوع اردو، شاعری، نعت
نمایاں کام مضراب،لبَ کشا، قاب قوسین،مشرقی بنگال میں اردو،حکیم ناطق، بوئے گُل ، نثر وحشت ،زبور حرم ،مضراب و رباب، نادیدہ شاعری،چراغ ِآخری شب،سات ستارے۔

پروفیسر اقبال عظیمبینائی سے محروم محقق، ادیب، شاعرہیں۔

نام[ترمیم]

نام سید اقبال احمد قلمی نام اقبال عظیم والد سید مقبول عظیم عرش ہیں۔

ولادت[ترمیم]

8 جولائی 1913ء میں یہ شاعر اور ادیب میرٹھ بھارت میں پیدا ہوئے۔

مختصر حالات زندگی[ترمیم]

لکھنو یونیورسٹی سے بی اے اور آگرہ یونیورسٹی سے ایم ۔ اے کی ڈگری حاصل کی ۔ ہندی اور بنگلہ کے اعلیٰ امتحانات پاس کیے۔ ساڑھے گیارہ سال یوپی کے سرکاری مدارس میں معلمی کی۔ جولائی 1950ء میں مشرقی پاکستان آئے اور تقریباًً بیس سال سرکاری ڈگری کالجوں میں پروفیسر اور صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے کام کیا۔ اپریل 1970ء میں بینائی زائل ہونے کے سبب اپنے اعزہ کے پاس کراچی آگئے۔

وفات[ترمیم]

اقبال عظیم کی وفات22 ستمبر 2000ء کوکراچی(سندھ) ، پاکستان میں ہوئی

تصانیف[ترمیم]

  • مضراب (1975ء) غزلوں کے مجموعہ
  • لبَ کشا )نعتوں کا مجموعہ
  • قاب قوسین ،کراچی،ایوانِ اُردو،جون 1977ء ، 136 ص نعتوں کا مجموعہ ہے۔
  • مشرقی بنگال میں اردو آپ کی نثری تصنیف ہے۔ جس میں بنگال کی دو سو سالہ لسانی اور ادبی تاریخ کا جائزہ لیاگیا ہے۔
  • حکیم ناطق مرتب کردہ دیوان ہےجوشائع ہو چکا ہے۔
  • بوئے گُل شاعری
  • نثر وحشت
  • زبور حرم کلیات نعت
  • محاصل ناشر،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس۔دہلی ، 1987ء (شعری کلیات)
  • مضراب و رباب شاعری
  • نادیدہ شاعری
  • چراغ ِآخری شب شاعری
  • سات ستارے سوانح [1]

نمونۂ کلام[ترمیم]

روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں
میرے غم خانے میں کچھ ایسا اندھیرا بھی نہیں
پُرسشِ حال کی فرصت تمہیں ممکن ہے نہ ہو
پُرسشِ حال طبیعت کو گوارا بھی نہیں

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://bio-bibliography.com/authors/view/4553