الطاف فاطمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
الطاف فاطمہ
معلومات شخصیت
پیدائش 10 جون 1927[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لکھنؤ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 29 نومبر 2018 (91 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عرفیت الطاف فاطمہ
عملی زندگی
صنف ناول نگاری ، ترجمہ نگاری ، افسانہ نگاری
تعليم ایم اے (اردو)
پیشہ ادب، تدریس
P literature.svg باب ادب

الطاف فاطمہ (1927ء-2018ء) کا شمار پاکستان کی نامور ناول نگار، افسانہ نگار، مترجم اور معلم خواتین میں ہوتا ہے ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

الطاف فاطمہ کا تعلق ریاست پٹیالہ سے ہے۔ ان کے والد کا نام فضل امین تھا۔ ۔[2] الطاف فاطمہ لکھنوء میں 1929میں پیداہوئیں۔ اسی جگہ انہوں نے ہوش سنبھالا اورلکھنؤ کی تہذیبی روایات کا اثران کی شخصیت پر پڑا۔ تقسیم ملک کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھلاہور آگئیں۔ یہاں لیڈی میکلیگن کالج سے بی ایڈ کیا۔ اس کے بعد پنجاب ئونئورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کرنے کے بعد اسلامیہ کالج برائے خواتین لاہور میں اردو کی استاد مقرر ہوئیں۔ اور اسی کالج سے شعبہِ اردو کی سربراہ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئیں۔ آج کل گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہی ہیں

تخلیقی سفر[ترمیم]

الطاف فاطمہ کا پہلا افسانہ انيس سو باسٹھ ميں لاہور کے موقر ادبي جريدے ’ادب لطيف‘ ميں شائع ہواتھا۔[3]الطاف فاطمہ کے افسانے ملک کے مشہور جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ دوناول (نشان محفل) (دستک نہ دو) (دستک نہ دو) چھپ چکے ہیں۔ (اردو میں سوانح نگاری) ایک اچھی تنقیدی کتاب ہے۔ افسانوں کاایک مجموعہ وہ جسے چاہا گیا بھی شائع ہو چکا ہے۔ الطاف فاطمہ نے ہمیشہ ناول اور افسانے اس قدر فن کی گہرائی میں ڈوب کر لکھے کہ بقول ان کے سقوط ڈھاکہ پر انہوں نے اپنا ناول چلتا مسافر دس برس ميں مکمل کيا تھا الطاف فاطمہ 29نومبر 2018 کو وفات پا گئیں ۔[4]

تصنیفات[ترمیم]

  1. جاپانی افسانہ نگار خواتین (ترجمہ) نوریکو مینرو ٹالپٹ،کیو کواربے سیلڈن،الطاف فاطمہ،مترجم،لاہور،گورا پبلشرز، 1994ء
  2. سچ کہانیاں : بنگالی، گجراتی،مراٹھی،تامل اور ہندی افسانے (تراجم - افسانے) لاہور۔ 2000ء
  3. اُردو میں فن ِ سوانح نگاری اور اس کا ارتقا (تحقیق و تنقید ) کراچی،اُردو اکیڈمی سندھ۔ اپریل 1961ء
  4. روزمرہ آداب (1963ء)
  5. بڑے آدمی اور ان کے نظریات (ترجمہ)
  6. نغمے کا قتل (ترجمہ) ترجمہ
  7. خواب گر (ناول)
  8. چلتا مسافر (ناول) 1965ء
  9. دستک نہ دو (ناول) 1965ء
  10. نشان ِ محفل (ناول) 1975ء
  11. تار ِ عنکبوت (افسانے) 1990ء
  12. جب دیواریں گریۂ کرتی ہیں (10 افسانے) 1988
  13. وہ جسے چاہا (افسانے) مکتبۂ اُردو ڈائجسٹ۔ لاہور

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Writer Altaf Fatima passes away
  2. Bio-bibliography.com – Authors
  3. عالمی اخبار http://aalmiakhbar.com/archives/29185
  4. الطاف فاطمہ سے مہ پارہ صفدر کا انٹرویوhttps://www.youtube.com/watch?v=BtQebjrHn1U