الیاس بابر اعوان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
الیاس بابر اعوان
پیدائش الیاس بابر
28 نومبر 1976(1976-11-28)ء
راولپنڈی، موجودہ پاکستان
پیشہ شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد، محقق، کالم نگار
زبان اردو
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
نسل پنجابی
تعلیم ایم اے (اردوپی ایچ ڈی
مادر علمی جامعہ پنجاب
اصناف شاعری، تنقید، افسانہ، ناول، تحقیق, ترجمہ
نمایاں کام خواب دگر
نووارد
ایک ادھوری سرگذشت
معاصر متن کی دریافت
جدید تنقیدی تصورات
منحرف

الیاس بابر اعوان راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر اور افسانہ نگار ہیں ۔

ولادت[ترمیم]

الیاس بابر اعوان کی پیدائش 28 مئی 1976ء ، راولپنڈی ، صوبہ پنجاب، پاکستان میں ہوئی۔ان کے والد کا نام محمد افضل اعوان ہے۔

تعلیم[ترمیم]

  • مادرِ علمی: فیڈرل گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول نمبر ا صدر لاہور
  • فیڈرل گورنمنٹ ڈگری کالج، لاہور کینٹ
  • گورنمنٹ شالیمار ڈگری کالج باغبانپورہ لاہور
  • نیشنل یونیورسٹی آف مارڈرن لینگوئجز اسلام آباد
  • رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، اسلام آباد
  • بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
  • تعلیم: پی ایچ ڈی اسکالر (انگریزی ادب)
  • پی جی ڈی ( پروفیشنل ایتھکس اینڈ ٹیچنگ میتھڈولجیز)
  • ایم فل (انگریزی ادب)
  • ایم اے انگریزی ادب و لسانیات
  • ایم اے اردو ادب و لسانیات
  • ایم ایڈ

شاعری[ترمیم]

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں شعر و ادب کی دنیا میں وارد ہوئے۔ اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز میں انگریزی ادب کے لیکچرر ہیں۔ اردو، انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ حلقہ ارباب ِ ذوق راولپنڈی کے چار سال تک سیکرٹری رہے اور جدیدادبی تنقیدی فورم کے بانی ہیں۔اردو میں تنقید، نظم، غزل اور افسانے کے ساتھ ساتھ انگریزی میں ض شاعری اور افسانے بھی لکھتے ہیں۔

مجموعہ کلام[ترمیم]

  • خوابِ دِگر (شعری مجموعہ)2012ء، پبلشر: رمیل پبلیشرز راولپنڈی
  • نووارد ( نظمیہ مجموعہ) 2016ء : سانجھ پبلشرز لاہور نے شائع کیا

زیر طباعت[ترمیم]

  • معاصر متن کی دریافت: (تنقیدی مضامین)پبلشر: کتاب محل لاہور
  • جدید تنقیدی تصورات ۔مترجم: الیاس بابر اعوان ،پبلشر: کتاب محل لاہور
  • منحرف۔ ان کی نظموں کا مجموعہ زیر ـ اشاعت ہے۔[1][2]

نمونہ کلام[ترمیم]

آنکھ کھلے گی بات ادھوری رہ جائے گی ورنہ آج مری مزدوری رہ جائے گی
جی بھر جائے گا بس اُس کو تکتے تکتے کچی لسی میٹھی چُوری رہ جائے گی
اُس سے ملنے مجھ کو پھر سے جانا ہوگا دیکھنا پھر سے بات ضروری رہ جائے گی
تھوڑی دیر میں خواب پرندہ بن جائے گا میرے ہاتھوں پر کستوری رہ جائے گی
تم تصویر کے ساتھ مکمل ہو جاؤ گے لیکن میری عمر ادھوری رہ جائے گی

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اردوپوائنٹ
  2. ریختہ