الیاس کشمیری گروپ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

الیاس کشمیری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے سماھنی سیکٹر میں جنم لیا اور B.sc Engineering تک تعلیم حاصل کی۔ پاک فوج کا سابق کمانڈو بھی رہا 1980 میں پاک فوج نے اس کو افعان مجہادین کی تربیت پر معمور کیا۔ بعد میں مولوی نبی محمدی کی حرکتہ الجہاد الاسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ افعان جہاد کے اختتام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بریگیڈ 313 کے نام سے اپنا گروپ تشکیل دیا ،چیچنیا، بوسنیا، افغانستان اور پاکستان میں بھی سرگرم ہے۔ اس کے جنگجوؤں کی تعداد تین ہزار بتائی جاتی ہے۔ پاک فوج اس کا خصوصی ہدف رہی ہے۔ یہ گروپ منصوبہ بندی میں ماہر سمجھا جاتا ہے۔ محاصرے توڑ کر اپنے ساتھیوں کو بحفاظت واپس لانے مین اپنا ثانی نہیں رکھتا . مولانا مسعود اظہر کو بھارت کی تہاڑ جیل سے چھڑوانے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی مگر کامیابی نہ ملی۔ .کوٹلی سے 17 کلو ميٹر دور فگوش بستی کے قریب معسکر محمود غزنوی کا مایہ ناز کمانڈر تھا۔ آزاد کشمیر لنجوٹ کے واقعہ نے اس کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔

25 فروری 2000 کی ایک رات آزاد کشمیر میں لنجوٹ کے مقام پر بھارتی فوج کے خصوصی کمانڈو گروپ بلیک کیٹ نے سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہو‌ئے ایک پاکستانی گاؤں کے بے خبر سوتے ہو‌ئے نہتے افراد پر بزدلانہ حملہ کر دیا۔ اس آپریشن میں بھارتی کمانڈو نے ساری رات پاکستان کے اس گاؤں میں گزاری اور اگلی صبح واپس چلے گئے۔ انہوں نے تین لڑکیوں کے گلے کاٹے اور ان کے سراپنے ساتھ لے گئے۔ وہ دو مقامی لڑکیوں کو بھی اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ اگلی صبح بھارتی فوج نے اغوا کی گئی لڑکیوں کے سرپاکستانی فوجیوں کی جانب پھینک دیے .۔ اس ظالمانہ قتل عام کے اگلے ہی دن 26 فروری 2000 کو الیاس کشمیر ی نے نکیال سیکٹر میں بھارتی فوج کے خلاف گوریلا آپریشن کیا، اس نے اپنے 313 بریگیڈ کے 25 سرفروشوں کے ساتھ لائن آف کنٹرول پارکی۔ اس نے بھارتی فوج کے ایک بنکر کا محاصرہ کر لیا او ر اس کے اندر گرینیڈ پھینکے۔ اپنے ایک ساتھی کے نقصان پر وہ ایک ذخمی بھارتی فوجی افسر کو حراست میں لینے میں کامیاب رہا،لیکن یہ اس کہانی کا اختتام نہیں تھا، اس نے گرفتار شدہ بھارتی افسر کا گلاکاٹ دیا۔ اور اپنے بیگ میں بھارتی فوجی افسر کا سرلے کرواپس آیا اور اس نے یہ سر اعلیٰ فوجی عہدیداروں کے حوالے کیا اور بعد ازاں یہ سر آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو پیش کیا گیا جنہوں نے اس پر اسے ایک لاکھ روپے کا نقد انعام دیا۔ بھارتی فوجی افسر کا سراپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے اس کی تصاویر اس وقت کے بہت سے پاکستانی اخبارات میں چھپیں اور وہ یکایک کشمیر ی جنگجوؤں میں بہت اہمیت اختیار کرگیا