انفرنو (2013)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
انفرنو (2013)
انفرنو (2013)

مصنف ڈین براؤن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مصنف (P50) ویکی ڈیٹا پر
اصل زبان امریکی انگریزی،انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کام یا نام کی زبان (P407) ویکی ڈیٹا پر
ادبی صنف پراسرار فکشن،سراغ رسانی فکشن،سازشی فکشن،سنسنی خیز،جرم پر مبنی ناول،تجسس،ناول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرز (P136) ویکی ڈیٹا پر
ناشر ڈبلڈے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ناشر (P123) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ اشاعت 14 مئی 2013  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ اشاعت (P577) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
او سی ایل سی 824723329  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں او سی ایل سی کنٹرول نمبر (P243) ویکی ڈیٹا پر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
Fleche-defaut-droite-gris-32.png دی لوسٹ سمبل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پچھلا (P155) ویکی ڈیٹا پر
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

انفرنو (معنی= جہنم) معروف امریکی مصنف ڈین براؤن کا لکھا ہوا ایک سنسنی خیز جاسوسی ناول ہے، جو اینجلز اینڈ ڈیمنز، ڈاونچی کوڈ اور دی لوسٹ سنبل کے بعدان کے مشہور کردار رابرٹ لینگڈن سیریز کا چوتھا ناول ہے۔ یہ ناول 14 مئی، 2013 کو شایع ہوا اور اپنی مجلد اشاعت کے پہلے سات ہفتوں میں نیو یارک ٹائمز کے بسٹ سیلر میں پہلے نمبر پر رہا۔ یہی صورت حال غیر مجلد اور ای بک ناول کی بھی رہی۔[1] یہی نہیں ڈان براون کے ناول میں جن مقامات کا ذکر کیا گیا ہے اس کی ایک ماہ کے دوران میں ریکارڈ حد تک سیاحوں نے سیر کی ہے۔ اس کتاب کو یورپ میں بھی بڑا پسند کیا جا رہا ہے اور وہاں پر بھی اس کی فروخت میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔[2]

مرکزی خیال[ترمیم]

ناول کا مرکزی خیال لینگڈن سیریز کے باقی حصوں سے کچھ مختلف ہے۔ اس ناول میں بھی مختلف سمبلز یعنی نشانیوں کی مدد سے رابرٹ لینگڈن کو ایک انجان جگہ کے بارے میں سراغ لگانے ہیں۔ مگر پچھلے ناولوں کے برعکس یہ سمبلز آرٹ، مجسموں اور عمارتوں کی بجائے اٹلی کے مشہور شاعر دانتے کی ادبی تحریوں میں چھپے ہوئے ہیں۔
اس بار لینگڈن کی خدمات ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یعنی ڈبلیو ایچ او نے حاصل کی ہیں۔ انہیں ایک جنونی لیکن ذہین سائنس دان کا سامنا ہے جس کے نزدیک دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی ایک کینسر کی طرح ہے اور اس کینسر سے بچاؤ کا حل یہی ہے کہ دنیا کی آبادی کم کی جائے۔ اس مقصد کے لیے اس سائنس دان نے ایک پلیگ ایجاد کیا ہے جو ایک مقررہ تاریخ کو دنیا میں پھیل جائے گا اور آبادی میں کمی لانے کا موجب بنے گا۔ ڈبلیو ایچ او اس پلیگ کو اس کے پھیلنے کی تاریخ سے پہلے تلاش کرکے روکنا چاہتی تھی لیکن بدقسمتی سے انہیں اس جگہ کا علم نہیں تھا جہاں یہ پلیگ رکھا گیا تھا۔ اتفاق سے یہ جنونی سائنس دان مشہور شاعر دانتے کا ایک بہت بڑا فین تھا اور اس نے دانتے کی شاعری میں ایسے نشان اور سراغ چھوڑے جو اس پلیگ کی جگہ تلاش کرنے میں مددگار ہو سکتے تھے اور یہی وہ کام تھا جس کے لیے ڈبلیو ایچ او نے رابرٹ لینگڈن کی خدمات حاصل کی تھیں۔ ناول کا آغاز سست رفتاری سے ہوتا ہے تاہم ہر پلٹتے صفحے کے ساتھ اس کی رفتار تیز ہوتی جاتی ہے اور قاری کب کہانی کی گرفت میں آتا ہے وہ جان ہی نہیں پاتا۔ ناول کی سیٹنگ اٹلی اور ترکی کے پس منظر میں کی گئی ہے۔ جہاں براؤن کے قلم سے اٹلی کی خوبصورت منظر کشی دکھائی دیتی ہے وہیں ترکی کے مذہبی مقامات کی تفصیل دل کھینچ لیتی ہے۔[3]

اس ناول کی کہانی میں گلوبل اوور پاپولیشن یعنی دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ جس رفتار سے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے، مستقبل قریب میں غذائی قلت کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس کتاب کا دوسرا اہم موضوع ٹرانس ہیومنزم فوق البشر انسانوں کی تخلیق ہے جو جنیٹک انجیرنگ کی ایک فیلڈ ہے۔ جس کے ذریعے مستقبل میں بہت سی بیماریوں کا علاج اور انسانی عمر کو بڑھانے یا موت پر قابو پانے کے طریقوں پر ریسرچ شامل ہے۔ ٹرانس ہیومنزم کی ریسرچ گو اچھے مقاصد کے تحت کی جا رہی ہے لیکن کتاب کے مصنف کے مطابق اس کا استمال بعض حکومتوں یا بعض عناصر کے خاص مقاصد کو پورا کرنے کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب میں ٹرانس ہیومنزم کی فیلڈ کا استمال ایک ایسا مہلک وائرس بنانے کے لیے کیا گیا ہے جس سے دنیا کی آبادی کو کم کیا جا سکے۔

جہاں ایک طرف ٹرانس ہیومنزم ٹیکنالوجی کا استمال وائرس بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے وہیں دوسری طرف اس ٹیکنالوجی کی مدد سے انسان کی عمر اور اس کی ذہانت کو بھی سپیشل چپس کی مدد سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ اچھی بات ہے وہیں دوسری طرف اس کے نقصانات بھی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان معاشرے کے مختلف لوگوں کے درمیان میں پہلے سے موجود فاصلے کا اور زیادہ بڑھنا ہو گا۔ ظاہر ہے یہ ٹیکنالوجی اگر منظر عام پر آتی ہے تو سب سے پہلے اسے امیر اور صاحب حثیت لوگ اور ملک ہی استمال کریں گے اور یہ فیصلہ بھی کریں گے کہ اسے کون استمال کر سکتا ہے اور کون نہیں۔ تو ذرہ اندازہ لگائیں کہ جو دنیا پہلے ہی امیر اور غریب کے درمیان میں بٹی ہوئی ہے وہ مزید ذہین اور کم ذہین اور شاید اعلیٰ انسان اور نچلے انسانوں جیسی مزید تقسیم کا شکار ہو جائے۔ اس طرح آنے والے مستقبل میں ہم آگے جانے کی بجائے ڈارک ایجز کے ایک نئے دور میں داخل ہو جایئں گے جو ہم سے ہماری بچی کچھی انسانیت اور انسانی تہذیب اور ولیوز بھی چھین لے گا۔[4]

کہانی کا خلاصہ[ترمیم]

ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ لینگڈن ہوش میں آنے کے بعد خود کو زخمی حالت میں ایک اسپتال میں پاتے ہیں، سر پر زخم اور گزشتہ چند روز کی کوئی بات انہیں یاد نہیں۔ انہیں آخری بات جو یاد ہے کہ وہ ہارورڈ یونیورسٹی کے کیمپس میں چل رہے ہیں، لیکن اب وہ فلورنس (اٹلی)کے ایک اسپتال میں داخل ہیں۔ سینا بروکس، جو ان کی دیکھ بھال کرنے والے ڈاکٹروں میں سے ایک ہے، انہیں بتاتی ہے کہ وہ جب ایمرجنسی وارڈ میں لائے گئے تو انہیں گولی لگی تھی۔ اچانک، وَینتھا نامی ایک قاتلہ عورت اسپتال میں گھس آتی ہے اور رابرٹ کی نگہداشت کرنے والے ڈاکٹروں کو گولی مار دیتی ہے، اس سے قبل کہ وہ رابرٹ کے کمرے میں پہنچے، لیڈی ڈاکٹر سِینا، رابرٹ کو لے کر وہاں فرار ہوجاتی ہے اور اسے اہنے اپارٹمنٹ میں لے آتی ہے۔

سِینا ہسپتال میں ان کے داخلے کی تفصیلات دوبارہ تفصیل سے بیان کرتی ہے، اس کے بعد، رابرٹ کو اپنی جیکٹ میں ایک چھوٹا سلنڈر ملتا ہے جس پر بائیو ہیزرڈ BIOHAZARD کا نشان ہوتا ہے، (جو عموماً ایسی اشیاؤں پر لگایا جاتا ہے جس سے حیاتی بقا کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو)۔ اور وہ امریکی قونصل خانے کو فون کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ قونصل والے بتاتے ہیں کہ وہ اسی کی تلاش میں ہیں اور اس کا محل وقوع جاننا چاہتے ہیں، رابرٹ انہیں، سِینا کی ہدایت کے مطابق ایک جگہ کا پتہ دیتا ہے جو سِینا کے اپارٹمنٹ کے قریب سڑک پار واقع ہے، وہ سِینا کو اس پراسرار حالات میں ملوث نہیں کرنا چاہتا تھا جس میں وہ پھنسا ہوا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ہی، رابرٹ اسی مسلح قاتل عورت ویَنتھا کو اسی مقام پر موجود دیکھتا ہے جس کا پتہ اس نے قونصل خانے کو دیا۔ اس مرحلے پر رابرٹ سمجھ جاتا ہے کہ امریکی حکومت ہی اسے قتل کرنا چاہتی ہے۔

رابرٹ کنٹینر کھولنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ جس میں وہ ایک قرون وسطی کے عہد کا ہڈی سے بنا سلنڈر ملتا ہے، اس کے ساتھ ایک ہائی ٹیک پروجیکٹر نصب ہوتا ہے جس میں اٹلی کے مشہور مصورساندرو بوتیچلی کی بنائی ہوئی جہنم کے نقشہ کی تصویر کچھ ترمیم کے ساتھ بنی ہوئی تھی اور اس کے نیچے یہ الفاظ لکھے تھے ’’سچ صرف موت کی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے ‘‘ اچانک، سِینا کے اپارٹمنٹ کی عمارت پر فوجی دستہ چھاپہ مارتا ہے لیکن سِینا اور رابرٹ بال بال بچ کر نکل جاتے ہیں۔

رابرٹ اور سِینا پرانے شہر کی طرف جاتے ہیں، رابرٹ کو یقین ہوتا ہے کہ عہد وسطیٰ کے اس سیلنڈر کا دانتے سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے۔ تاہم، وہ پہنچ کر پتہ چلتا ہے کہ فلورنس پولیس اور کیریبینری افسران نے انہیں کھوجتے کے لیے برج کو بند کر دیا ہے اور وہ ان کی تصویر لیے لوگوں سے پوچھتے پھر رہے ہیں۔ وہ چھپتے چھپاتے ایک زیرِ تعمیرعمارت میں پہنچ جاتے ہیں۔ جو بابولی باغات کے قریب ہوتی ہے، یہاں رابرٹ دوبارہ"جہنم کے نقشہ" پر نظر ثانی کرتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ نقشہ میں بنے مبولجی کی دس تہوں میں انگریزی حرف شامل کیے گئے ہیں۔ (مبولجی Malebolge، دانتے کی کتاب انفرنو کے مطابق جہنم کے دائرے ہیں جنہیں وہ شیطانی خندق کہتا ہے)۔ رابرٹ جب ان الفاظوں کو ایک جگہ کرتا ہے تو ایک لفظ "CERCA TROVA" بنتا ہے۔ رابرٹ بتاتا ہے کہ یہ وہی الفاظ ہیں جو اطالوی مصور ’’جورجیو وزاری ‘‘کی مشہور پینٹنگ ’’مارشیانو کی لڑائی‘‘ میں لکھے ہیں جو پلازو ویکچو میں واقع ہے۔ رابرٹ اور سِینا فوجیوں سے بچ کر وزاری راہگزر کا استعمال کرتے ہوئے پرانے شہر سے نکل جاتے ہیں۔ مکمل خلاصہ ابھی (جاری ہے)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "ڈین براؤن کا ناول انفیرنو بدستور سرفہرست"۔ ڈوئچے ویلے۔ جرمنی۔ 19 جون 2013ء۔ 
  2. "استنبول زیر زمین پانی کے حوض کی سیر"۔ ٹی آت ٹی اردو۔ ترکی۔ 11 جون 2013ء۔ 
  3. "کتابستان ۔ Inferno(انفرنو)"۔ 27 مارچ 2015ء۔ 
  4. "کتاب نگر ۔ Inferno(انفرنو)"۔ 27 جون 2013ء۔ 

بیرونی روابط[ترمیم]