انڈیا آفس ریکارڈز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بمبئی ایسٹ انڈیا کمپنی، انگلینڈ کے زیر ملکیت مالابار ساحل پر از جان وان رائن (1754ء) ریکارڈز کے انتخاب میں شامل ہے۔

انڈیا آفس ریکارڈز دستاویزات کا ایک خاصا بڑا ذخیرہ جو سنہ 1600ء سے 1947ء تک کمپنی راج اور برطانوی راج کے ادوار پر مشتمل ہندوستان کے دور حکومت سے متعلق ہے۔ یہ ذخیرہ لندن کی برٹش لائبریری میں موجود اور عوامی دسترس میں ہے۔

ان ریکارڈز کے چار اہم مآخذ ہیں : انگریزی اور بعد ازاں ایسٹ انڈیا کمپنی (1600ء–1858ء)، بورڈ آف کنٹرول (1784ء–1858ء)، انڈیا آفس (1858ء–1947ء) اور برما آفس (1937ء–1948ء)۔ دستاویزات کے اس انتخاب میں ایسے ریکارڈز بھی شامل ہیں جو بہت چھوٹے متعلقہ اداروں کے ہیں۔ مجموعی طور سے اس انتخاب میں 175,000 چیزیں موجود ہیں، جن میں سرکاری کتابچے اور ریکارڈز، مخطوطات، تصاویر، مطبوعہ نقشے اور نجی کاغذات بھی شامل ہیں۔ دستاویزات کا اتنا بڑا ذخیرہ نو میل کے وسیع رقبہ پر محیط ہے۔

تاریخی پس منظر[ترمیم]

ان ریکارڈ کی تاریخ 1600ء سے شروع ہوتی ہے جب ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایشیا کے بیشتر خطوں بشمول مکمل برصغیر میں خصوصی تجارتی حقوق حاصل ہوئے۔ پہلے سو سالوں میں کمپنی کی زیادہ توانائی اپنے تجارتی مراعات کے انتظام میں صرف ہوتی رہی، کیونکہ اسے دیگر مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں سے مسابقت کا سامنا تھا۔

اٹھارویں صدی میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی تجارتی طور پر مستحکم ہوئی، تو وہ ہندوستان کے مقامی امور میں زیادہ سے زیادہ شامل ہونے لگی اور بالآخر کمپنی نے برصغیر کے بہت بڑے علاقہ پر قبضہ کر لیا۔ اٹھاویں صدی کے وسط میں کمپنی نے برصغیر کے بڑے علاقے پر حکومت قائم کر لی تاکہ ابتدائی استعمار کو زیادہ بہتر تجارتی شکل دی جا سکے۔

ہندوستان کے انتظامی و حکومتی امور میں اپنی مداخلت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے برطانوی حکومت نے 1784ء میں پٹس انڈیا ایکٹ منظور کیا، اسی کے نتیجہ میں بورڈ آف کنڑول قائم ہوا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کو حکومتی معاملات میں رہنمائی کرتا تھا۔

جنگ آزادی ہند 1857ء کے بعد 1858ء میں برطانوی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی کا حق حکومت منسوخ کر کے برصغیر کو براہ راست سلطنت برطانیہ کے زیر نگین کر لیا۔ سیکریٹری آف سٹیٹ برائے ہندوستان کے زیر نگرانی انڈیا آفس قائم ہوا جو انتظامی معاملات کا ذمہ دار تھا۔ 1937ء میں الگ برما آفس قائم کیا گیا تاکہ انڈیا آفس کے انتظامی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

دستاویزات کی تاریخ[ترمیم]

اس طویل عرصہ میں ان ریکارڈز کی نگہداشت کے لیے مختلف طریقے استعمال ہوتے رہے، تاہم انھیں محفوظ کرنے اور رکھنے کا خیال بالکل ابتدا ہی میں سامنے آگیا تھا، 1771ء میں ایک ریکارڈ کیپر کا اس مقصد کے تحت تقرر ہوا کہ وہ موجودہ ریکارڈز کو مرتب اور دیگر تاریخی ریکارڈز کو محفوظ کرے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کے ختم ہونے تک روز بروز بڑھتی ہوئی ان دستاویزات کو لندن بھیجا جاتا رہا جہاں انھیں محفوظ کر لیا جاتا۔ جب حکومت کی باگ ڈور انڈیا آفس کے پاس آئی تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے فراہم کردہ دستاویزات پر نظر ثانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی کی دیگر سفارشات میں یہ سفارش بھی شامل تھی کہ تین سو ٹن سے زائد دستاویزات کو ردی میں بیچ دیا جائے۔ دستاویزات کے ضمن میں بلا شبہ یہ ایک عظیم نقصان تھا، تاہم ایسی شہادت ملتی ہے کہ ان ضائع شدہ دستاویزات کی نقول موجود تھیں یا ان میں متعلقہ مواد بہت کم تھا۔

ان دستاویزات کو مرتب کر کے پیش کرنے کی سب سے پہلی کوشش 1879ء میں ہوئی، جب جارج برڈووڈ نے رپورٹ آن دی اولڈ ریکارڈز آف دی انڈیا آفس کے نام سے اپنی روداد شائع کی۔

1947ء میں آزادی ہند کے بعد ان دستاویزات کی ملکیت برطانوی حکومت کے محکمہ خارجہ ودولت مشترکہ برطانیہ کو منتقل ہو گئی، 1967ء میں مذکورہ محکمہ نے فیصلہ کیا کہ ان دستاویزات کو بلیک فرائرز سڑک پر واقع نئے شعبہ میں منتقل کر دیا جائے، جہاں ان سب کو انڈیا آفس لائبریری کے ساتھ ضم کر دیا گیا۔ اسی وقت دستاویزات کی جدید طرز پر درجہ بندی کی گئی، جن میں سے بیشتر اب بھی زیر استعمال ہے۔

1982ء میں مکمل دستاویزات کو برٹش لائبریری میں منتقل کر دیا گیا۔ اب یہ دستاویزات بڑٹش لائبریری کے ایشائی و افریقی انتخابات کا ایک حصہ ہیں، جہاں انھیں عوامی ریکارڈز کے طور پر رکھا جاتا ہے، یعنی یہ تمام دستاویزات عوامی دسترس میں ہے اور انھیں نکال کر دار المطالعہ میں پڑھا جا سکتا ہے۔

دستاویزات کی ترتیب[ترمیم]

ان دستاویزات کی درجہ بندی کے دو مقاصد تھے : حتی الامکان دستاویزات کی اصل ترتیب کو محفوظ رکھا جا سکے اور ان کی انتظامی تاریخ واضح رہے۔ دستاویز کے ہر سلسلہ کو A سے Z تک ایک حرف تفویض کیا گیا ہے، نیز کچھ مخصوص سلسلوں کی مزید توضیحی درجہ بندیاں بھی موجود ہیں۔ دستاویزات کی درجہ بندیاں ذیل میں درج ہیں :

2
The unnamed parameter 2= is no longer supported. Please see the documentation for {{columns-list}}.
  • A: East India Company: Charters, Deeds, Statutes and Treaties c1550-c1950
  • B: East India Company: Minutes of the Court of Directors and Court of Proprietors 1599-1858
  • C: Council of India Minutes and Memoranda 1858-1947
  • D: East India Company: Minutes and Memoranda of General Committees 1700-1858
  • E: East India Company: General Correspondence 1602-1859
  • F: Board of Control Records 1784-1858
  • G: East India Company Factory Records c1595-1858
  • H: India Office Home Miscellaneous Series c1600-1900
  • I: Records relating to other Europeans in India 1475-1824
  • J&K: East India College, Haileybury, Records, and Records of other institutions 1749-1925
  • L: India Office Departmental Records
  • L/AG: India Office: Accountant-General's Records c1601-1974
  • L/E: India Office: Economic Department Records c1876-1950
  • L/F: India Office: Financial Department Records c1800-1948
  • L/I: India Office: Information Department Records 1921-1949
  • L/L: India Office: Legal Adviser's Records c1550-c1950
  • L/MAR: India Office: Marine Records c1600-1879
  • L/MED: India Office: Medical Board Records c1920-1960
  • L/MIL: India Office: Military Department Records 1708-1959
  • L/PARL: India Office: Parliamentary Branch Records c1772-1952
  • L/PO: Secretary of State for India: Private Office Papers 1858-1948
  • L/PWD: India Office: Public Works Department 1839-1931
  • L/P&J: India Office: Public and Judicial Department Records 1795-1950
  • L/P&S: India Office: Political and Secret Department Records 1756-c1950
  • L/R: India Office: Record Department Papers 1859-1959
  • L/SUR: India Office: Surveyor's Office Records 1837-1934
  • L/S&G: India Office: Services and General Department Records c1920-c1970
  • L/WS: India Office: War Staff Papers 1921-1951
  • M: Burma Office Records 1932-1948
  • N: Returns of Baptisms, Marriages and Burials 1698-1969
  • O: Biographical Series 1702-1948
  • P: Proceedings and Consultations 1702-1945
  • Q: Commission, Committee and Conference Records c1895-1947
  • R: Records received in London and incorporated in India Office Records
  • R/1: India: Crown Representative: Political Department Indian States Records 1880-1947
  • R/2: India: Crown Representative: Indian States Residencies Records c1789-1947
  • R/3: India: Viceroy's Private Office Papers and other Government Records 1899-1948
  • R/4: India: British High Commission Cemetery Records c1870-1967
  • R/5: Nepal: Kathmandu Residency Records c1792-1872
  • R/8: Burma: Records of the Governor's Office 1942-1947
  • R/9: Malaya: Malacca Orphan Chamber and Council of Justice Records c1685-1835
  • R/10: China: Canton Factory Records 1623-1841
  • R/12: Afghanistan: Kabul Legation Records 1923-1948
  • R/15: Gulf States: Records of the Bushire, Bahrain, Kuwait, Muscat and Trucial States Agencies 1763-1951
  • R/19: Egypt: Records of the Cairo, Alexandria and Suez Agencies 1832-1870
  • R/20: Aden: Records of the British Administrations in Aden 1837-1967
  • S: Linguistic Survey of India c1900-c1930
  • V: India Office Records Official Publications Series c1760-1957
  • W, X & Y: India Office Records Map Collections c1700-c1960
  • Z: Original Registers and Indexes to Records Series c1700-1950

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  • India Office Records. British Library, London.
  • Moir, Martin. A General Guide to the India Office Records. London: The British Library, 1988.
  • Seton, Rosemary. The Indian "Mutiny" 1857-58: A Guide to Source Material in the India Office Library and Records. London: The British Library, 1986.
  • Singh, Amar Kaur Jasbir. Gandhi and Civil Disobedience: Documents in the India Office Records 1922-1946. London: India Office Library and Records, 1980.

بیرونی روابط[ترمیم]

متناسقات: 51°31′47″N 0°07′37″W / 51.5297°N 0.1269°W / 51.5297; -0.1269