اکبر الدین اویسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اکبر الدین اویسی
معلومات شخصیت
پیدائش 14 جون 1970 (51 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حیدرآباد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد 1 صاحبزادی
1 صاحبزادہ نور الدین اویسی
والد سلطان صلاح الدین اویسی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
رشتے دار سلطان صلاح الدین اویسی (والد)
اسد الدین اویسی (بھائی)
برہان الدین اویسی(بھائی)
عملی زندگی
تعليم حیدر آباد پبلک اسکول
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اکبر الدین اویسی ایک بھارتی سیاست دان ہیں جو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رکن ہیں۔ آپ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی ہیں۔ اکبر الدین کا تعلق حیدرآباد کے مشہور خاندان اویسی سے، سلطان صلاح الدین اویسی ان کے والد اور اسد الدین اویسی ان کے بڑے بھائی ہیں۔ جماعت کے فلور لیڈر بھی ہے۔

ابتدائی زندگی اور پس منظر[ترمیم]

اویسی 14 جون 1970 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مسلم خاندان میں سلطان صلاح الدین اویسی اور ناظمہ بیگم کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ اکبر الدین اویسی اور اس کے والد نے 1998 میں صلح کی۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

اویسی کی شادی سبینا فرزانہ سے ہوئی ہے ، جن کے ساتھ ان کی ایک بیٹی ، کنیز فاطمہ اویسی اور ایک بیٹا نورالدین اویسی ہے۔[1][2][3]

ان کی صاحبزادی ، کنیز فاطمہ اویسی ، لندن ، یونیورسٹی ، سٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔[4][5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

  1. Pillalamarri Srinivas (19 January 2013). "Akbar's wife, kids meet him in jail". Deccan Chronicle. 05 جون 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2014. 
  2. "MANAGING DIRECTOR'S MESSAGE". Owaisi Hospital official website. اخذ شدہ بتاریخ 31 مئی 2014. 
  3. "Owaisi 2019 poll affidavit" (PDF). suvidha.eci.gov.in. اخذ شدہ بتاریخ 18 دسمبر 2020. 
  4. "Akbaruddin Owaisi says 'My daughter topped university exam in London'". 7 July 2019. 
  5. "Religious Symbols, Clothing and Human Rights". اخذ شدہ بتاریخ 18 دسمبر 2020.