ایاز سومرو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایاز سومرو
رکن قومی اسمبلی پاکستان
مدت منصب
1 جون 2013 – 20 مارچ 2018
Fleche-defaut-droite-gris-32.png شاہد حسین بھٹو
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ووٹ 50,118
رکن سندھ صوبائی اسمبلی
مدت منصب
2008 – 2013
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Himself
محمد علی خان بھٹو Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ووٹ 40,770
مدت منصب
2002 – 2007
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حلقہ شروع ہوا
خود Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ووٹ 29,187
معلومات شخصیت
پیدائش 31 دسمبر 1958  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاڑکانہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 20 مارچ 2018 (60 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مینہیٹن  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

محمد ایاز سومرو (31 دسمبر 1958 – 20 مارچ 2018) ایک پاکستانی سیاست دان اور وکیل تھے، جو قومی اسمبلی پاکستان کے جون 2013 تا مارچ 2017ء تک رکن رہے۔ اس سے قبل وہ سندھ صوبائی اسمبلی کے 2002ء تا 2007ء اور دوبارہ 2008ء تا 2013ء تک رکن رہے۔ اپنی دوسری مدت کے دوران میں انہوں نے سندھ کی کابینہ میں کئی وزارتوں میں کام کیا۔

پیدائش و تعلیم[ترمیم]

ان کی ولادت 31 دسمبر 1958[1][2] لاڑکانہ میں سائیں خدا بخش کے گھر ہوئی، جو ایک مقامی اسکول میں معلم تھے۔[3]

انہوں نے بیچلر آف آرٹس، قانون اور سائنس، کی اسناد جامعہ سندھ سے حاصل کیں۔[4][5]

وکالت[ترمیم]

سومرو پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل تھے[1]۔ وہ سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کے لاڑکانہ سے رکن بنے اور دس سال تک لاڑکانہ ڈسٹرکٹ بار کے صدر کے طور پر کام کیا۔[6]

سیاسی دور[ترمیم]

ایاز سومرو نے طالب علمی کے زمانے میں پیپلز اسٹوڈنٹ فیڈریشن میں شمولیت اختیار کی[6] اور 1987ء میں بلدیہ کمیٹی لاڑکانہ کے کونسلر کے طور پر سیاسی زندگی کا آغاز کیا[4][5]

انہوں نے 2002ء کے عام انتخابات میں سندھ کی صوبائی اسمبلی کے رکن پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی طرف سے حلفہ پی ایس-37 (لاڑکانہ-3) منتخب ہوئے۔[1] انھوں نے 29,187 ووٹ حاصل کر کے اور قومی اتحاد، کے امیدوار امیر بخش بھٹو کو شکست دی۔[7]

انہوں نے سندھ صوبائی اسمبلی کے رکن 2008ء میں منتخب ہوئے۔ انھوں نے دوبارہ پی ایس-37 (لاڑکانہ-3) سے پاکستان عام انتخابات 20081008ء کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے 40,770 ووٹ لے کر امیر بخش سومرو کو شکست دی۔[8] In اپریل 2008,ء میں ایاز سومرو قائم علی شاہ کی سندھ صوبائی کابینہ میں شامل ہوئے[5] اور سندھ کے وزیر قانون، مع پارلیمانی معاملات کے وزیر خارجہ، کھیل اور یوتھ افیئرز کے وزیر رہے۔[9][10] In مارچ 2011,ء میں سندھ کے وزیر قانون، مع پارلیمانی معاملات کے وزیر بنے۔[11] In نومبر 2011ء میں وہ جیلوں کے صوبائی وزیر بنائے گئے۔[12] In نومبر 2012, ان کو ہاؤسنگ اور مویشیوں کی اضافی وزاتیں دی گئیں۔[13]

وہ 2013ء کے عام انتخابات میں پی پی پی کی طرف سے حلقہ این اے۔204 سے قومی اسمبلی پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔[14][15][16][17] انہوں نے 50,118 ووٹ لے کر پاکستان مسلم لیگ ف کے امیدوار کو شکست دی۔[18]

وفیات[ترمیم]

ایاز سومرو کی وفات 20 مارچ 2018 کو مینہیٹن، ریاست ہائے متحدہ میں ہوئی۔[1][19]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت "PPP MNA Ayaz Soomro breathes his last in New York – The Express Tribune"۔ The Express Tribune۔ 20 مارچ 2018۔ مورخہ 20 مارچ 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  2. "Detail Information"۔ 21 اپریل 2014۔ Archived from the original on 21 اپریل 2014۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جولائی 2017۔
  3. Imtiaz Ali (20 مارچ 2018)۔ "MNA Ayaz Soomro passes away at 59"۔ DAWN.COM۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  4. ^ ا ب "Welcome to the Website of Provincial Assembly of Sindh"۔ www.pas.gov.pk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  5. ^ ا ب پ Habib Khan Ghori (12 اپریل 2008)۔ "KARACHI: Thumbnail sketches of cabinet ministers"۔ DAWN.COM۔ مورخہ 20 مارچ 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  6. ^ ا ب "PPP MNA Ayaz Soomro passes away"۔ Dunya News۔ 20 مارچ 2018۔ مورخہ 20 مارچ 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  7. "2002 election result" (پی‌ڈی‌ایف)۔ ECP۔ مورخہ 26 جنوری 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ (پی‌ڈی‌ایف)۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  8. "2008 election result" (پی‌ڈی‌ایف)۔ ECP۔ مورخہ 5 جنوری 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  9. "Governor notifies cabinet portfolios"۔ www.thenews.com.pk (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 29 جنوری 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  10. "21-member Sindh cabinet sworn in"۔ DAWN.COM۔ 12 اپریل 2008۔ مورخہ 29 جنوری 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  11. "2 new PPP ministers join Sindh govt"۔ The Nation۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  12. Imran Ayub (19 نومبر 2011)۔ "Information minister of Sindh resigns"۔ DAWN.COM۔ مورخہ 20 مارچ 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  13. "Resignations of four Sindh ministers accepted"۔ DAWN.COM۔ 29 نومبر 2012۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  14. "Discussions held on Bilawal's election as MNA"۔ DAWN.COM (انگریزی زبان میں)۔ 18 اکتوبر 2013۔ مورخہ 7 مارچ 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 مارچ 2017۔
  15. "Wait till 2018 or start now: PPP divided on Bilawal's NA debut"۔ DAWN.COM (انگریزی زبان میں)۔ 6 جنوری 2014۔ مورخہ 7 مارچ 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 مارچ 2017۔
  16. "Bilawal yet to choose constituency"۔ DAWN.COM (انگریزی زبان میں)۔ 28 نومبر 2016۔ مورخہ 7 مارچ 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 مارچ 2017۔
  17. "PTI to field candidates against Zardari, Bilawal in by-polls"۔ DAWN.COM (انگریزی زبان میں)۔ 31 دسمبر 2016۔ مورخہ 7 مارچ 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 مارچ 2017۔
  18. "2013 election result" (پی‌ڈی‌ایف)۔ ECP۔ مورخہ 1 فروری 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔
  19. "PPP MNA Ayaz Soomro passes away in New York"۔ www.thenews.com.pk (انگریزی زبان میں)۔ 20 مارچ 2018۔ مورخہ 20 مارچ 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2018۔