ایچ آئی وی / ایڈز کا تدارک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ایچ آئی وی اب ایک لاعلاج بیماری ہے۔[1] کئی تحقیقات چل رہے ہیں اور اگرچیکہ کوئی مکمل طور پر علاج نہیں پایا گیا ہے، کئی دوائیں ایچ آئی وی مریضوں کے لیے دستیاب ہیں جو جزوی طور پر ان کی تکلیف کو کم کرنے اور صحت مند اور منفعت بخش زندگی کو لمبا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ایک ایسا ہی نتیجہ بھارت میں تیار کی جانے والے تل کی چكي کے طور پر سامنے آیا ہے جو حیرت انگیزطور پر اچھا اثرات کے ساتھ ایچ آئی وی سے لڑنے میں مدد گار ہے۔ حال ہی میں ایک تحقیق کے مطابق، جب تل اور گڑ کو نصف درجن چکیوں کے ساتھ آیورویدی جڑی بوٹیوں میں ملایا جاتا ہے اور اسے ایچ آئی وی پازیٹو خواتین کو 20 گرام چكي دن میں دو بار خوراک دی گئی چار ماہ تک، تو اس سے ایچ آئی وی پازیٹو خواتین میں بہتراندرونی قوت دفاع دیکھی گئی تھی۔ سی ڈی 4 کی گنتی چكي لینے والی خواتین میں 475.6 سے بڑھ کر 543.4 ہو گئی تھی جبکہ ان کی نسبت ان خواتین کو جنہوں نے یہ چكي نہیں لی تھی کافی کم سی ڈی 4 گنتی دیکھی گئی۔ عام طور پر 25 سے 33 فیصد ایچ آئی وی پازیٹو لوگ ایچ آئی وی ادویات کی وجہ سے کم یا لمبی مدت کے منفی اثرات کا شکار ہوتے ہیں۔ مقبول سڑک کے کھانے - چکی میں کچھ آیورویدی جڑی بوٹیوں کے مرکب کی آمیزش سے ایچ آئی وی سے لڑنے میں مدد ملتی ہے اور یہ کسی بھی منفی اثرات سے آزاد ہے۔ اس دریافت سے امید کی جاتی ہے کہ ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریض صرف زندگی بھر ادویات پر منحصر نہیں رہیں گے بلکہ وہ مستقبل میں مرض سے آزاد بھی ہو سکیں گے۔[2]

ایڈز پر عدم توجہی کا نتیجہ[ترمیم]

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سرگودھا علاقے کے ایک چھوٹے گاؤں میں ایڈز پر عدم توجہی کی وجہ سے صورت حال کافی خراب ہو گئی ہے۔ اس گاؤں کا نام کوٹ عمرانہ ہے۔ مقامی افراد اور گاؤں کے چند معززین کی جانب سے حکومتِ پنجاب کی توجہ اس جانب مبذول کروائے جانے پر رواں ماہ اس گاؤں میں ایک تشخیصی کیمپ لگایا گیا۔ ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے اس کیمپ کے دوران پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے حکام نے گاؤں کی تقریباً تمام آبادی کی سکریننگ کرتے ہوئے 2717 نمونے حاصل کیے جنھیں تشخیص کے لیے لاہور بھجوایا گیا۔ 2717 میں سے 35 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے۔[3] یہ شرح ایک چھوٹے سے گاؤں کے لیے بہت زیادہ ہے جہاں لوگ روایتی طرز کی زندگی جیسے ہیں اور خاندانی اقدار زیادہ پھیلے ہیں۔ اس سے حکومتی اداروں اور غیر سرکاری ایجنسیوں کے کام میں زیادہ فعالیت کی ضروررت صاف چھلکتی ہے۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایڈر کسی کو بھی ہو سکتا ہے مگر ہر کوئی اس مہلک مرض یا اس کے وائرس ایچ آئی وی سے بچ سکتا ہے۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Is HIV the Only Incurable Sexually Transmitted Disease?" (web)۔ Thebody ویب سائٹ۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-05-30۔ 
  2. "Til chikkies fight HIV" (html)۔ Deccan Chronicle روزنامہ،حیدرآباد ،بھارت کی ویب سائٹ۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-05-30۔ 
  3. سرگودھا کا ایک گاؤں ایچ آئی وی ایڈز کی لپیٹ میں کیسے آیا؟ - BBC News اردو