جنسی تعلیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جنسی تعلیم اور ایڈز سے بچاؤ کا ایک پوسٹر

جنسی تعلیم سے مراد ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ مباشرتی تعلق کے بارے میں تعلیم دینا۔ مغربی ممالک میں جنسی تعلیم کا اہتمام اسکول اور کالج کی سطح پر کیا جاتا ہے۔ تاہم ترقی پسند دنیا میں رائے منقسم ہے۔ کچھ لوگ اسے نصاب تعلیم میں شامل کرنے حق میں ہے جبکہ کچھ اور لوگوں کی رائے میں یہ ایک فطری عمل ہے جو انسان حسب ضرورت خود سیکھ سکتا ہے۔

پاکستان کے بڑے شہروں کے اسکولوں میں جنسی تعلیم[ترمیم]

پاکستانی معاشرے کے بڑے شہروں میں اسکولی سطح پر جنسی تعلیم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ Life Skilled Based Education کے نام پر سندھ ٹکسٹ بک بورڈ کے منظور شدہ نصاب میں چھٹی سے دسویں تک کے بچوں اور بچیوں کو یہ پڑھایا جا رہا ہے کہ ان کا کسی سے جنسی تعلق کس نوعیت کا ہونا چاہیے۔ اسکولی بچوں کو اختلاط کے دوران احتیاطی تدابیر سے واقف کیا جاتا ہے۔[1]

پاکستان کے دیہی علاقوں میں جنسی تعلیم[ترمیم]

’ویلج شادآباد آرگنائزیشن‘ (وی ایس او) نامی ادارے کی کوششوں سے پچھلے 20 سال سے بچوں کے حقوق اور تعلیم کے میدان میں کئی کام ہوئے ہیں جن میں علاقے کے 33 میں سے آٹھ اسکولوں میں پچھلے ڈیڑھ سال سے بچوں کو جنسی تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔ اس طرح کا نظم کئی اور پاکستانی قصبوں دیگر تنظیموں کی جانب سے کیا گیا ہے۔[2]

مطبوعات[ترمیم]

اس موضوع پر حالیہ عرصے میں کئی کتابیں شائع ہوئی ہیں جن میں اکاسی سالہ ڈاکٹر مبین اختر کی کتاب Sex Education for Muslims پاکستان میں شائع ہوئی تھی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]