مینار میلاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(برج میلاد سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مینار میلاد
برج میلاد
Milad Tower location in Tehran.JPG
Location within تہران (dark blue)
متبادل نام برج تہران
عمومی معلومات
حیثیت مکمل
قسم کنکریٹ, commercial, telecommunication, observation, restaurant, hotel
مقام تہران، Flag of Iran.svg ایران
تعمیر شروع 2000
تکمیل 2009
افتتاح 2009
انتظامیہ بولینڈ پائی کو۔
اونچائی
انٹینا ٹاور 435.0 m (1,427 فٹ)
چھت 315.0 m (1,033 فٹ)
اوپر کی منزل 312.0 m (1,024 فٹ)
تکنیکی تفصیلات
منزلوں کی تعداد 12
منزل رقبہ 154,000 m2 (1,660,000 sq ft)
لفٹیں 7
ڈیزائن اور تعمیر
معمار محمد رضا حفیظی
اہم ٹھیکیدار یولینڈ پائی کو۔
حوالہ جات
[1][2][3]

برج میلاد یا مینار میلاد ایران کا سب سے بلند بُرج ہے جو دارالحکومت تہران میں واقع ہے۔ یہ سی این ٹاور، ٹورنٹو؛ اوسٹانکینو ٹاور، ماسکو؛ اور اوریئنٹل پرل ٹاور، شنگھائی کے بعد دنیا کا بلند ترین برج ہے۔ اس برج کی کل بلندی 435 میٹر (1427 فٹ) ہے اور اس کی کل 12 منزلیں ہیں۔

برج میلاد کو ماہر تعمیرات ڈاکٹر محمد رضا حافظی اور یادمان سازہ کمپنی نے تیار کیا۔ یہ جنوب مغربی ش ایشیا کا بلند ترین برج ہونے کا اعزاز بھی رکھتا ہے۔ اس برج کا سنگ بنیاد 1999ء میں رکھا گیا اور 2007ء میں یہ تکمیل کو پہنچا۔ اسے مواصلاتی برج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

برج میلاد تہران بین الاقوامی تجارتی و ثقافتی مرکز کا حصہ ہے۔ 2007ء کے اواخر میں مکمل ہونے والے اس منصوبے میں میلاد دور مواصلاتی برج بھی شامل تھا جس میں بلند ترین منزل پر ریستوران، ایک پانچ ستارہ ہوٹل، ایک مرکزِ اجتماع، ایک عالمی تجارتی مرکز اور ایک اطلاعاتی طرزیات کا پارک (آئی ٹی پارک) شامل تھا۔ اس منصوبے کا مقصد 21 ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق تجارت، اطلاعات، مواصلات، اجتماعات اور رہائش جیسی سہولیات کو ایک جگہ اکٹھا کر کے پیش کرنا تھا۔

اس مختلط (Complex) میں 27 ہزار مربع میٹر کا پارکنگ علاقہ، ایک بڑا شمارندی اور دور مواصلات مرکز، ایک ثقافتی و سائنسی مرکز، ایک تجارتی حسابات کا مرکز، اشیاء کی نمائش کے لیے ایک عارضی نمائش گاہ، ایک خصوصی کتب خانہ، ایک نمائش گاہ اور ایک انتظامی مرکز شامل ہیں۔ برج میلاد کی بنیاد ہشت پہلو ہے جو فارسی طرز تعمیر کی روایات کا امین ہے۔

نگار خانہ[ترمیم]

  1. "Borj-e Milad, Tehran – SkyscraperPage.com". Skyscraperpage.com. اخذ کردہ بتاریخ 2012-12-29. 
  2. Zafarani، H. "Seismic Response Analysis of Milad Tower in Tehran, Iran, UNDER SITE-SPECIFIC SIMULATED GROUND MOTIONS". Iitk.ac.in. اخذ کردہ بتاریخ 2012. 
  3. خطا در حوالہ: حوالہ بنام emporis کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().