بلقیس ایدھی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بلقیس ایدھی
بلقیس بانو ایدھی
پیدائش 14 اگست، 1947ءکراچی
تعلیم پیشہ ورانہ
پیشہ نرس اور خلق دوست
شریک حیات عبد الستار ایدھی
بچے دو بیٹے، دو بیٹیاں
والدین معلوم نہیں

بلقیس بانو ایدھی عبد الستار ایدھی کی بیوی، ایک نرس اور پاکستان میں سب سے زیادہ فعال مخیر حضرات میں سے ایک ہیں۔ ان کی عرفیت مادر پاکستان ہے۔ وہ 1947ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ وہ بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سربراہ ہیں اور اپنے شوہر کے ساتھ انہوں نے خدمات عامہ کے لئے 1986ء رومن میگسیسی اعزار (Ramon Magsaysay Award) حاصل کیا۔[1] حکومت پاکستان نے انہیں ہلال امتياز سے نوازا ہے۔ بھارتی لڑکی گیتا کی دیکھ بھال کرنے پر بھارت نے انہیں مدر ٹریسا ایوارڈ 2015ء سے نوازا ہے۔

زندگی[ترمیم]

ایک نیوز ویب سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بلقیس ایدھی کا کہنا تھا کہ انہوں نے محض 16 سال کی عمر میں ایدھی صاحب کے قائم کردہ نرسنگ ٹریننگ اسکول میں داخلہ لیا اور نرسنگ کی باقاعدہ پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی۔ ان کی محنت، لگن اور جوش وجذبے کو دیکھتے ہوئے ایدھی صاحب نے نرسنگ کے اس ادارے کی ذمہ داریاں انہیں سونپ دیں۔ بلقیس ایدھی کے مطابق، ”اس دور میں نرسنگ کے شعبے کی طرف خواتین کا رجحان بہت کم تھا۔‘‘ انہوں نے اس ادارے میں دو برس تک جانفشانی اور انتہائی لگن کے ساتھ کام کیا اور یہی محنت اور جذبہ ہی عبدالستار ایدھی کے دل میں بھی گھر کر گیا۔ یوں 1966ء میں بلقیس بانو، عبدالستار ایدھی کی رفیق حیات بن گئیں۔ شادی کے بعد ان دونوں سماجی شخصیات نے بہت سے نئے فلاحی کاموں کا آغاز کیا۔ بے گھر ہونے والی خواتین کو ادارے میں جگہ دینا ہو یا ایدھی میٹرنٹی ہوم میں زچہ وبچہ کی دیکھ بھال کرنا ہو، اس طرح کے خواتین سے متعلق تمام فلاحی کاموں کی نگرانی بلقیس ایدھی کرنے لگیں۔

بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن[ترمیم]

ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں سے متعلق فلاحی کاموں کے لیے بلقیس ایدھی نے بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی بھی بنیاد رکھی۔ یہ فاؤنڈیشن لاوارث بچوں کی دیکھ بھال سے لے کر لاوارث اور بے گھر لڑکیوں کی شادیاں کروانے کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس فاؤنڈیشن کا کام بلقیس ایدھی اپنی دو بیٹیوں اور الگ عملے کے ساتھ دیکھتی ہیں۔ ’ناجائز بچوں‘ کو قتل سے بچانے کے لیے جھولا پراجیکٹ بلقیس ایدھی کے نمایاں ترین فلاحی کاموں میں سے ایک ’ناجائز‘ بچوں کی زندگی بچانے کے لیے شروع کیا جانے والا جھولا پراجیکٹ ہے۔ پاکستان بھر میں قائم ایدھی فاؤنڈیشن کے ہر مرکز کے باہر ایک جھولا رکھا ہے جس پر لکھا ہے ‘بچوں کو قتل نہ کریں، جھولے میں ڈال دیں‘۔ ان جھولوں میں لوگ ایسے بچوں کو خاموشی سے ڈال جاتے ہیں جو کسی بھی وجہ سے خاندان کے لیے قابل قبول نہیں ہوتے۔ ان بچوں کو ایدھی سینٹر میں پالا پوسا جاتا ہے۔ پھر ایسے بچوں کو بے اولاد والدین کو دینے کے کام کی نگرانی بھی بلقیس ایدھی کی ذمہ داری ہے۔ بلقیس ایدھی کے مطابق، ”اب تک تقریبا 16000لاوارث بچوں کو بے اولاد والدین کے حوالے کیا جا چکا ہے۔‘‘ bilquis-edhi-awarded-mother-teresa-award-in-india-1448268316-1414صرف یہی نہیں بلکہ کئی ہزار خواتین کو پناہ دینے، انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور کسی وجہ سے اپنے گھر سے ناراض ہو کر آنے والی خواتین کی ان کے خاندان کے ساتھ صلح کرا کے انہیں ان کے گھروں تک پہنچانے جیسے کام بھی بلقیس ایدھی انجام دیتی ہیں۔ مدر ٹریسا ایوارڈ 2015ء بلقیس ایدھی نے پڑوسی ملک بھارت سے تعلق رکھنے والی سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم لڑکی گیتا کی 15 برس تک دیکھ بھال کی۔ گیتا 10برس کی عمر میں غلطی سے پاکستان پہنچ گئی تھی، جسے ایدھی سینٹر کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ بلقیس ایدھی کی طرف سے گیتا کا مذہبی تشخص برقرار رکھنے اور اسے اُس کے ملک واپس بھیجنے کے لیے انتھک کوششوں کا اعتراف بھارت کی طرف سے بھی کیا گیا ہے۔ اسی اعتراف کے طور پر بھارت نے بلقیس ایدھی کو مدر ٹریسا ایوارڈ 2015ء سے نوازہ ہے۔

مزيد دیکھیں[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Ramon Magsaysay Award Citation accessed June 30, 2008