بیلیاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بیلیاں گاؤں مانسہرہ شہر وادی اگرور میں سواتی پختون قوم کا ایک بہت ہی مؤثر گروہ جو پختون قبیلے یوسفزئی سے تعلق رکھتے ہیں اور سواتی نام سے جانے جاتے ہیں انکی تاریخ کچھ 223 سال پر مبنی ہے

یہاں پر تین یوسفزئی قبیلے کی ذیلی شاخیں خیل آباد ہیں آباد ہیں جن میں :- خواجہ خیل خواجگان غازی خیل اور خان خیل

آمد

وادی اگرور میں پشتون کہ آنے کا سلسہ تقریباً اپنے (مشر) بڑے ملک احمد خان یوسفزئی کہ سوات پر حملہ کرنے کہ بعد جب وہ سوات اور پختون خواہ پر قابض ہو گئے تو اپنی فوجی قوت کو بڑھنے کے لیے اپنے پختون یوسفزئی قبیلے کہ لوگوں کو سید جلال خان سواتی جو سواتی قبیلے کہ مشر تھے ان کے ساتھ روانہ کیا کہ اس پاس کے علاقوں کو فتح کیا جائے اور سواتی اپنی آزاد حکومت قیام کریں ۔ جس کہ بعد سید جلال بابا کی سربراہی میں پختون سواتی یوسفزئی قبیلے نے نواب اور ترک کہ خلاف لڑ کہ وادی اگرور میں اپنا پڑاؤ ڈالا

[بیلیاں کی تاریخ]

بیلیاں کی تاریخ میں دو بڑی جنگیں شامل ہیں۔ جو نواب آف تنول اور کالا ڈھاکہ علاقہ غیر کی پختون قوم اکازئی کے ساتھ لڑی گئیں۔ (نواب کہ ساتھ تین جنگیں لڑی گئی ) ان جنگوں کی دو وجوہات تھیں ایک انگریزوں کہ ساتھ وفاداری کا ثبوت اور دوسرا اپنی زمین واپس حاصل کرنا کیوں کہ یہ قبیلے جہاں آباد تھے یعنی سر زمین بیلیاں پر یہ نواب آف تنول کہ ساتھ لڑ کر حاصل کی گئی تھی نواب اپنی زمین واپس حاصل کرنے اور انگریزوں کے ساتھ وفاداری ثابت کرنے کے لیے بار بار کوشش کرتے لیکن انکو ہمیشہ ہار کا سامنا کرنا پڑا سواتی یوسفزئی جو بیلیاں میں آباد ہیں انکی سب سے بڑی طاقت انکا آپس میں اتحاد اور اتفاق رہا ہے جو آج بھی لوگوں کہ لیے ایک بہت بڑی مثال ہے نوابوں کہ ساتھ لڑائی کی وجہ سے بیلیاں کہ لوگوں نے دفاع کہ لیے اپنے گاؤں کو پہاڑ کہ دامن میں بسا لیا

(دوسری جنگ) دوسری جنگ کی بڑی وجہ سرسبز وادی اور زرخیز زمین تھی ۔ یہ جنگ بیلیاں کے یوسفزئی سواتیوں اور علاقہ غیر کہ پشتون قبیلے اکا زئی کہ درمیان لڑی گئی جو کافی عرصے تک چلتی رہی جو بہت سی شہادتوں کہ بعد بیلیاں کے یوسفزئی سواتیوں کی جیت بن کر سامنے آئی اور اس کے بعد جرگہ ڈاب میں دونوں علاقوں کہ لوگوں نے معاہدات کیے اور لڑائی کو خیر آباد کہہ دیا

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]