بیلیاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بیلیاں گاؤں ضلع مانسہرہ تحصیل اوگی وادی اگرور میں واقع ہیں سواتی پختون قوم کا ایک بہت ہی مؤثر گروہ جو پختون قبیلے سواتی کےمتراوی بیگال سے تعلق رکھتے ہیں اور سواتی گیلال بھی یہاں موجود ہے اور سواتی نام سے جانے جاتے ہیں انکی تاریخ مانسہرہ میں 350 سال پر مبنی ہے

یہاں پر رہنے والے قبیلوں کے نام ١امیرخان خیل ٢حواجہ خیل ٣دریا خان خیل سے مراد غاذیکوٹی ٤الال خیل یا غاذی خیل ٥کاگوڑ ٦شمھوڑی ٧ملا خیل اور ان سات خیلوں کو تین ٹلوں میں تقسیم کیا ہے ١امیر خانخیل ٢حواجہ خیل ٣غاذیکوٹی اور ان تینوں خیلوں کے اپنے جھنڈے تھے امیر خان خیل کے جھنڈے کا رنگ کالا خواجہ خیل کے جھنڈے کا رنگ سرخ اور غاذیکوٹی کے جھنڈے کا رنگ سبذ تھا جب یہ تینوں قبیلے لشکر نکالتے تو اپنے جھنڈے ساتھ لے جاتے وادی اگرور میں سواتی پشتونوں کے آنے کا سلسہ تقریباً سولوی صدی کے أحر اور سترا صدی کے شروع میں ہوا لیکن سواتی بیگال اور سواتی علی شیری قبیلہ پشتونوں کے پرانے روایات کے مطابق علاقوں کا تبادلہ کرتے اس زمانے کے مطابق کچھ سال بیگال پکھلی میں رہتے اور کچھ سال علی شیری اگرور میں رہتے اس طرح ان دونوں قبیلوں میں لڑای ہوی جسکے نتیجھے میں علی شیری قبیلے کے کافی جوان شھید ہوے پھر سواتی قباٸل نے ملکر دونوں قبیلوں کے درمیان نمکی ویش یعنی تقسیم کیا اسطرح دونوں قباٸل کے درمیان ہمیشہ کے لۓ صلح کرایا بیگال کے حصے میں اگرور اور علی شیری کے حصے میں اپر پکھلی ایا

[بیلیاں کی تاریخ]

بیلیاں کی تاریخ میں کافی ساری جنگیں شامل ہیں۔ جو نواب آف تنول کالا ڈھاکہ علاقہ غیر کی پختون قوم اکازئی اور سکھوں کے ساتھ لڑی گئیں۔ (نواب کہ ساتھ تین جنگیں لڑی گئی ) ان جنگوں کی دو وجوہات تھیں ایک نوابوں کی انگریزوں کہ ساتھ وفاداری کا ثبوت اور دوسرا اپنی زمین واپس حاصل کرنا کیوں کہ یہ قبیلے جہاں آباد تھے یعنی سر زمین بیلیاں پر یہ نواب آف تنول کہ ساتھ لڑ کر حاصل کی گئی تھی نواب اپنی زمین واپس حاصل کرنے اور انگریزوں کے ساتھ وفاداری ثابت کرنے کے لیے بار بار کوشش کرتے لیکن انکو ہمیشہ ہار کا سامنا کرنا پڑا نوابوں کے ساتھ جھنگوں میں ایک مشھور قصہ ہے کہ جب وہ تناول سے اپنے لشکر نکالتے اور اگرور کے قریب اتے تو کولکہ کے سواتی خانان اپنے جھنڈے ہوا میں لھراتے جس سے بیلیاں کے سواتی اپنے دفاع کیلۓ تیار ہوتے اور تنولیوں کے ساتھ گاوں بیلیاں کے کھیتوں ونڈ میں پانی چھوڑ کر جسمیں نواب کے لشکر کے گھوڑے پھنس کر سواتیوں نے ایک ذوردار حملہ کیا اسمیں نواب اف تناول کے کافی سارے سپاہی شھید ہوے جس کے بعد نوابوں نے کبھی حملے کرنے کی جرأت نھی کی سواتی جو بیلیاں میں آباد ہیں انکی سب سے بڑی طاقت انکا آپس میں اتحاد اور اتفاق رہا ہے جو آج بھی لوگوں کہ لیے ایک بہت بڑی مثال ہے نوابوں کہ ساتھ لڑائی کی وجہ سے بیلیاں کہ لوگوں نے دفاع کہ لیے اپنے گاؤں کو پہاڑ کہ دامن میں بسا لیا

(دوسری جنگ) دوسری جنگ کی بڑی وجہ سرسبز وادی اور زرخیز زمین تھی ۔ یہ جنگ بیلیاں کے سواتیوں اور علاقہ غیر کہ پشتون قبیلے اکا زئی کہ درمیان لڑی گئی جو کافی عرصے تک چلتی رہی جو بہت سی شہادتوں کہ بعد بیلیاں کے سواتیوں کی جیت بن کر سامنے آئی اور اس کے بعد جرگہ ڈب میں دونوں علاقوں کہ لوگوں نے معاہدات کیے اور لڑائی کو خیر آباد کہہ دیا اکاذٸ کیساتھ لڑای کا ایک مشھور قصہ ہے اکاذی نے یبیلیاں پر کافی حملے کۓ لیکین ہمیشہ کیطرح نا کام رہے احر کار ان لوگوں نے رات کے وقت بیلیاں گاوں پر حملے کرنے کی کوشش کی لیکن گاوں میں بذرگ شخصیت الله کا ولی حضرت سید باباجی بحتور موجود تھے جب اسکو حملے کا پتہ چلا تو باباجی نے اربوڑہ کیطرف اشارہ کیا اور اکاذی قبیلے نے اربوڑہ گاوں کو جلا ڈالا (سکھوں کے ساتھ جھنگ) سواتیوں اور سکھوں کی گاوں کولکہ کے مقام پر ایک ذوردار لڑاٸ ہوٸ جسمیں سکھوں کی طرف سے توفوں کا استعمال ہوا اور سواتی قوم کے چار سو کے قریب سپاہی شھید ہوے ایک بڑی جھنگ کے بعد سواتی قبیلہ سکھوں کے قلعے تک پہچ گٸ سکھوں کو جب پتہ چلا کہ سواتی قلعے کے اندر أ رہے ہیں تو انہوں نے قلعے میں بم رکھ کر قلعے کو تباہ کیا اور وہاں سے بھاگھ نکلے اور کچھ سپاہی سکھوں کے مارے گۓ اسی طرح قلعہ کولکہ کو سواتی قبیلہ نے فتح کر کے جیت اپنے نام کر دیا (بیلیاں گاوں کی کلچر,)

اگر بیلیاں کی باتھ کی جاۓ اور یہاں کے لوگوں کی                                     

کلچر کے بارے نہ بتاۓ تو یہاں کے لوگوں کے ساتھ نہ انصافی ہے کیو کہ یہاں کے لوگوں نے

پشتونوں کے پرانے کلچر کو ابھی تک ذندہ رکھا ہے اور اسی کیساتھ اپنی مادری زبان پشتو کو  بھی ذندہ رکھا ہے جو اپنے اباو اجداد کے سواتی لہجے میں بولتے ہیں
(محتصر تاریخ سواتی)                                 

مٶریحین لکھتے ہیکہ سواتی اور دلاذاک قوم گیارویں صدی عیسوی میں محمود غذنوی کے ساتھ افغانستان سے جہاد کے لۓ اۓ تھے اور کچھ مٶریحین کا حیال ہیکہ شہاب الدین غوری کے ساتھ اۓ اور چار سو سال تک سواتی قبیلے نے سوات پر حکمرانی کی لیکن بعد میں جب افغانستان میں مرذا الغ بیگ جو ایک ترک حکمران تھے یوسفذٸ قبیلے کو بے دے دخل کیا تو یہ قبیلہ پشاور کےراستے پختونحوا میں داحل ہوۓ پشتون روایات کے مطابق سواتی اور دلاراک قبیلے نے ان کی مدد کی لیکن جب بعد میں یوسفذٸ مضبوط ہوۓ تو انہوں نے سواتی قبیلہ پر حملے کرنے کا سوچا اور اپس میں مشورہ کیا کہ انکا اپس میں اتحادد کو دیکھتے ھے تو یوسفذیوں نے اپنا ایک گھوڑا سواتی قبیلہ کے کھیتوں میں چھوڑا تو سواتی لوگ گھوڑے کو ایک دوسرے کے کھیتوں میں بھگاتا رہا تو اسکو معلوم کہ انکا اپس میں کوٸ اتحاد نھی تو یوسفذیوں نے اپنے حملے اپنے اتحادی قباٸل خٹک اورمڑ جدون اور باقی قباٸل اتمانحیل گجر وغیرہ کے ساتھ حملے شروع کۓ اس

وقت یوسفذٸ کی فوج کی تعداد تقریبأ دو لاکھ تھی جبکہ تاریخ ھذارہ میں شیر بہادر خان پنی لکھتے ہیکہ ھذارہ میں سواتیوں کے امد کے دوران انکی کل تعداد بارہ ھذار کے قریب تھی اس وقت یوسفذٸ کے سردار ملک احمد خان تھے اور سواتی قبیلے کے سردار سلطان ملک اویس سواتی تھے ملک احمد خان نے اپنی بہن کی شادی سلطان اویس سواتی سے کراٸ تھی بعض مٶرٸحین لکھتے ہیکہ سلطان اویس کی بیگم سواتیوں کی راض کی باتیں یوسفذیوں کو بتاتی اسی وجہ سے سے سلطان اویس بے اپنے بیوی کا قتل کیا جسے دونوں قبیلوں میں بہت بڑی جنگ ہوٸ اس جنگ میں جیسے میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ یوسفذٸ تعداد میں ذیادہ تھے اور سواتی قبیلہ نے أس پاس سواتی قباٸیل سے مدد طلب کی تو انہوں نے انکار کیا اس وقت سواتی قبیلہ کی أپس میں کوٸ اتفاق نہیں تھی                       
(راٸیٹر)                                                             شکیل احمد سواتی امیر خان خیل گاوں بیلیاں

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]