ثقل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمومی اضافیت
Neutronstar Light Deflection.png
وابستہ موضوعات

ترمیم

ثقل (بھاری پن)یا کشش ثقل (Gravity) بلندی سے گرنے والی چیزیں زمین کی جانب کھنچی چلی آتی ہیں۔ جس کی وجہ کشش ثقل ہے جس کا تعلق جسم کی کمیت سے ہوتا ہے
1666ء میں برطانوی سائنس دان آئزک نیوٹن نے بتایا۔ جو جسم جتنا بڑا ہو گا اس میں یہ کشش بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ یوں کائنات کا ہر جسم دوسرے کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ بڑے اجسام میں یہ قوت باآسانی محسوس کی جا سکتی ہے جبکہ چھوٹے اجسام میں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ سورج کی کشش ثقل نظام شمسی کو باندھے رکھتی ہے۔ فاصلہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ کشش بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ قریب ترین سیارے عطارد پر اس کا اثر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ سورج سے زیادہ دور سیاروں پر کشش ثقل زیادہ اثر انداز نہیں ہوتی۔ جب چیزوں کو اونچائی سے زمین پر گرایا جائے تو کشش ثقل کی قوت کے باعث ان کی رفتار تیز ہوتی جاتی ہے۔ سولہویں صدی میں اٹلی کے مشہور سائنس دان گلیلیو نے بتایا کہ بھاری اور ہلکی چیزیں ایک ہی رفتار سے گرتی ہیں اور ان پر کشش ثقل ایک ہی طرح اثر کرتی ہے، تاہم ہوا کی مزاحمت کے باعث ہم انہیں مختلف وقفوں سے زمین پر گرتا دیکھتے ہیں۔ زمین کے جو حصے چاند کے قریب ہوتے ہیں ان پر چاند کی کشش ثقل کا اثر پڑتا ہے جس کے نتیجے میں سمندر کا پانی اوپر اٹھ جاتا ہے۔ اسی طرح جو حصے چاند سے دور ہوں وہاں سطح سمندر نیچے چلی جاتی ہے۔ اس کیفیت کو مدوجزر کہتے ہیں۔ چونکہ زمین گھوم رہی ہے اس لیے ہر چوبیس گھنٹے میں ایک بار زمین کا ہرحصہ چاند سے قریب اور دور ہوتا ہے۔ یعنی سمندر ہر چوبیس گھنٹے میں دومرتبہ مدوجزر سے گزرتے ہیں۔ زمین کی کشش کے حلقے سے باہر نکلنے کی صورت میں خلاباز بے وزن ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں ان کی کمیت میں کوئی کمی نہیں آتی لیکن کمیت پر کشش ثقل اثر انداز نہ ہونے کے باعث ان کا وزن نہیں رہتا۔ خلائی جہاز سے باہر کام کرتے ہوئے خلاباز خود کو رسی سے باندھ لیتے ہیں۔ خلائی جہاز کے اندر کوئی بھی شے پینے کے لیے نلکی استعمال کرنا پڑتی ہے کیونکہ کشش ثقل نہ ہونے کے باعث کوئی بھی مائع گلاس میں نہیں رہ سکتا۔ سورج بہت بڑا ستارہ ہے، اسی لیے اس کی کشش ثقل بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر آپ زمین پر ایک میٹر چھلانگ لگا سکتے ہیں تو سورج پر تین سینٹی میٹر اونچا اچھلنا بھی ممکن نہیں ہو گا۔ زمین کی کشش ثقل مصنوعی مواصلاتی سیاروں کو اس کے مدار میں باندھے رکھتی ہے۔ ان سیاروں سے ٹکرا کر آنے والی ریڈیائی لہروں کی بدولت ہی ہم ٹیلی فون کالز سنتے، ٹیلی ویژن دیکھتے اور انٹرنیٹ پر کام کرتے ہیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]