جامعہ فریدیہ، ساہیوال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جامعہ فریدیہ ساہیوال عالم اسلام اور اہلسنت کی عظیم دینی درسگاہ ہے

سنگ بنیاد[ترمیم]

دینی مدارس میں کا ایک بہت بڑا دینی ادارہ ہے جو نہ صرف ساہیوال بلکہ پاکستان کے بڑے مدارس میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی دینی خدمات 54 سال پر محیط ہیں۔ اس کا سنگ بنیاد 8 مارچ 1968ء کو عظیم علمی و روحانی شخصیات میاں خواجہ علی محمد خان چشتی ، علامہ نور اللہ نعیمی، علامہ ابو النصر منظور شاہ بانی و مہتم جامعہ ہذا کے ہاتھوں رکھا گیا۔

بانی و مہتمم[ترمیم]

جامعہ فریدیہ کے بانی و مہتمم ابوالنصر منظور احمد شاہ جبکہ نائب مہتمم ڈاکٹر مفتی پیر محمد مظہرفرید شاہ ہیں۔

شعبہ طلبہ[ترمیم]

جامعہ فریدیہ میں دو ہزار کے قریب طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں، جن سے کسی قسم کی کوئی فیس نہیں لی جاتی، رہائش خوراک تعلیم سب کچھ مفت ہے۔ جامعہ فریدیہ میں مفتی کورس، درس نظامی، حفظ القرآن، تجوید و قرأت، فاضل عربی، دورۃ القرآن، دورۃ الحدیث، دورۃ المیراث کے ساتھ ساتھ میٹرک، ایف اے ،بی اے اور کمپیوٹر کورسز فری کروائے جاتے ہیں۔ جامعہ فریدیہ تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان سے ملحق ہے[1]

شعبہ طالبات[ترمیم]

جامعہ فریدیہ میں طالبات کے شعبہ قائم ہے۔جس میں طالبات کی رہائش اور تعلیم و تربیت کے لیے 42 کمرے ہیں۔ جن میں سید فاطمہ الزہریٰ ہال، سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ہال اور سیدہ عائشہ صدیقہ ہال تعمیر ہیں۔اس شعبہ میں 1000 سے زائد اقامتی طالبات زیر تعلیم ہیں۔[2]

لائبریری[ترمیم]

جامعہ کی ایک وسیع ہال میں لائبریری قائم ہے، جہاں تدریسی اور غیر تدریسی کتب نہایت اچھے سلیقہ سے سجائی گئی ہیں۔ اس وقت کتب خانہ میں 8000 کی تعداد میں کتب موجود ہیں جو جامعہ کی عظمت کے پیش نظر انتہائی کم ہیں۔ اس لائبریری میں 10000 کتب کے سما جانے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]