جسونت سنگھ راہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جسونت سنگھ راہی
معلومات شخصیت
پیدائش 16 جنوری 1926  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پنجاب، بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 اپریل 1996 (70 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈیرہ بابا نانک  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان پنجابی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

جسونت سنگھ راہی پنجابی شاعر، مصنف، کمیونسٹ اور مجاہد آزادی تھے۔[1][2] [3] "SINGH BROTHERS". Singhbrothers.com. 12 مارچ 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 جنوری 2014.  [4][5][6][7][8][9][10][11][12][13][14][15] انہوں نے اپنی پوری زندگی ڈیرہ بابا نانک میں گزاردی۔ کالم نگار جوگندر سنگھ کہتے ہیں “ گورداسپور ضلع کے مقدس شہر ڈیرہ بابا نانک میں جنمے شاعر جسونت سنگھ کا پنجابی ادب میں تعاون دھنی رام چترک، موہن سنگھ اور پورن سنگھ سے کم نہیں ہے۔ جسونت سنگھ اپنے مقبول نعرہ جے مترتا کے لئے بھی مشہور ہیں۔“

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ان کی ولادت ایک راجپوت (جسونت) خاندان میں ہوئی تھی۔ نو آبادیاتی نظام سے ہی ان کا خاندان قوم پرستی اور جدوجہد آزادی میں مصروف تھا۔ وہ پنجابی شاعر، فلسفی اور مصنف بابا پیارے لال بیدی کے بیحد قریب تھے۔ انہوں نے ایک سکھ خاتون ستونت کور سے شادی کی۔

انہوں نے شو کمار بٹالوی جیسے شاعروں کی پرورش کی اور انہیں عظیم شاعر بنایا۔

ادبی سفر[ترمیم]

جسونت سنگھ جنگ آزادی سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ انہوں نے کمیونسٹ تحریک سے وابستگی اختیار کرلی اور اپنا نام رہای کرلیا۔ انہوں نے ناول، شاعری اور سوانح میں طبع آزمائی کی۔ انہوں نے اپنی سوانح تین حصوں میں شائع کی۔ انہوں نے پنجاب لکھاری سبھا اعزاز جیتا۔ انہیں پنجابی ساہتیہ شرومنی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

کتب[ترمیم]

  • لہو بھیجی چنانی (1981ء)
  • پونا دی تریہائے (1981ء)
  • کنراب دا گلاب (1982ء)
  • پرچھاویاں دی سچ (1988ء)
  • موئے پھولن دا مندر (1990ء)
  • ادھورا سفر (1991ء)
  • میں کیویں جاوے یا (تین جلدوں میں خود نوشت سوانح)
  • دوہرے راہی دی (1996ء)
  • جسا سنگھ رامگرھیا (شاعری مجموعہ)

سیاسی سفر[ترمیم]

پوری زندگی وہ علاقہ کے اہم اور قدآور شخصیات میں شامل رہے۔ ان کے حلقہ کے ایم ایل اے سنکتوش سنگھ رندھوانا جیسے بڑے نیتا ان سے ذاتی تعلق رکھتے تھے۔ اس وقت کے صدر بھارت جنرل گیانی ذیل سنگھ موجودہ حالات پر ان کے تبصرہ کو اہمیت دیتے تھے اور تبادلہ خیال کرتے تھے۔ راہی کے اہل خانہ نے ان خطوط کو سنبھال کر رکھا ہے۔

اعزازات[ترمیم]

انہیں بطور مجاہد آزادی اور ابی شخصیت کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے:

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Rahi، Jaswant (1990). Moye phulan da Mandar. 
  2. Rahi، Jaswant (1990). Moye phulan da Mandar. 
  3. Rahi، Jaswant. "Jaswant Singh Rahi". Facebook.com. facebook. اخذ شدہ بتاریخ 14 اکتوبر 2014. 
  4. Rahi، Jaswant (1988). Parchhavian da sach. New Delhi: Arsi Publications. 
  5. Rahi، Jaswant (1991). Mein kiven jivia-1. New Delhi: Arsi Publications. 
  6. Rahi، Jaswant (1981). Pauna de trihaye. New Delhi: Nanak Singh Publishers. 
  7. Rahi، Jaswant (1991). Adhura safar. New Delhi: Loksahit. 
  8. Rahi، Jaswant (1982). Kabran da gulab. New Delhi: Navin Publishers. "Kabran da Gulab"]
  9. "inauthor:"Jaswant Singh Rahi" – Google Search". Google.co.in. اخذ شدہ بتاریخ 25 اپریل 2018. 
  10. Rahi، Jaswant Singh (25 اپریل 1991). "Adhura safar". Loksahit. اخذ شدہ بتاریخ 25 اپریل 2018 – Google Books سے. 
  11. "The Tribune, Chandigarh, India – JALANDHAR TRIBUNE". Tribuneindia.com. اخذ شدہ بتاریخ 25 اپریل 2018. 
  12. "Shiv Kumar Batalvi (1936–1973) – Life and Poetry (Presentation – Desh Ratna)". shivkumarbatalvipoetry.blogspot.in. اخذ شدہ بتاریخ 25 اپریل 2018. 
  13. Datta، Amaresh (25 اپریل 1988). "Encyclopaedia of Indian Literature: Devraj to Jyoti". Sahitya Akademi. اخذ شدہ بتاریخ 25 اپریل 2018 – Google Books سے. 
  14. "Shiv Kumar Batalvi_Life_All you ever want 2 know!". Unp.me. 30 جولائی 2009. اخذ شدہ بتاریخ 25 اپریل 2018. 
  15. Kāṅga، Kulabīra Siṅgha (25 اپریل 2018). "Sujan Singh". Sahitya Akademi. اخذ شدہ بتاریخ 25 اپریل 2018 – Google Books سے.