جیدیو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جیدیو
Idol of Jayadeba at Jayadeba Pitha, Kendubilwa, Odisha.jpg
جیدیو مورتی، کینڈبلوا، اڑیسہ
ذاتی
پیدائش ت 1170[1]
وفات ت 1245[1]
اوڑیسہ، بھارت
مذہب ہندومت
شریک حہات پدماوتی
فلسفہ ویشنو مت
مرتبہ
ادبی کام گیت گوند

جیدیو سنسکرت کے مشہور شاعر تھے جو بارہویں صدی میں گزرے۔ ان کی نظم گیت گوند[2] سے انہیں لافانی شہرت ملی۔ اس نظم میں کرشن کی رادھا سے محبت دکھائی گئی ہے۔ اس نظم میں رادھا کے لیے کرشن کی محبت کو سب سے زیادہ دکھایا گیا ہے[3] اور بھکتی تحریک میں اسے بہت اہمیت حاصل ہے۔[4]

ان کی زندگی کے بارے زیادہ معلومات نہیں۔ بس اتنا تذکرہ ملتا ہے کہ وہ تنہائی پسند شاعر تھے جو مشرقی ہندوستان میں مشہور تھے۔ جئے دیو گرو گرنتھ میں شامل سب سے قدیم شاعر ہیں۔ یاد رہے کہ گرو گرنتھ سکھ مت کی مقدس کتاب ہے۔ سکھ مت برصغیر کا ایک مذہب ہے جو جیدیو کی وفات سے کئی صدیاں بعد شروع ہوا۔[2][1]

سوانح[ترمیم]

ذات کے اعتبار سے براہمن تھے اور ان کی پیدائش کی تاریخ اور مقام کے بارے ہمیں یقینی معلومات نہیں ملتیں۔ ان کی تحاریر کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ یا تو اوڑیسہ کے دیہات کندولی ساسن یا پھر بنگال میں جیدیو کنڈولی میں پیدا ہوئے۔[5] جیدیو ایک جہاں گرد تھے اور شاید پوری سے بھی گزرے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے پدماوتی نامی ایک رقاصہ سے شادی کر لی تھی تاہم موجودہ دور کے عالم اسے نہیں مانتے۔[5] ان کے والد کا نام بھوج دیو اور والدہ کا رام دیوی تھا۔ مندر میں موجود تحاریر سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے سنسکرت شاعری میں کُرما پٹکا میں تعلیم پائی تھی۔[6][7]

ادبی تخلیقات[ترمیم]

وشنو کے دس اوتاروں دشواترا کو مقبولِ عام بنانے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ کرشن کو مرلی بجائے ہوئے تری بھنگی انداز جو دکھایا گیا ہے، وہ بھی ان کے مرہونِ منت ہے۔

ان کی دو حمدیں گرو گرنتھ صاحب کا حصہ ہیں جو سکھ مت کی مقدس کتاب ہے۔[2][1] یہ حمدیں سنسکرت اور مشرقی اپابھرمشا کے اختلاط سے لکھی گئی ہیں۔[8] کہا جاتا ہے کہ پوری کے دورے میں جیدیو کے کام سے بابا گرو نانک بہت متاثر ہوئے تھے۔[9][10][11]

حواشی[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت Pashaura Singh۔ The Bhagats of the Guru Granth Sahib: Sikh Self-definition and the Bhagat Bani۔ Oxford University Press۔ صفحات 9, 116–123۔ آئی ایس بی این 978-0-19-566269-6۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. ^ ا ب پ Max Arthur Macauliffe۔ The Sikh Religion: Its Gurus, Sacred Writings and Authors۔ Cambridge University Press۔ صفحات 4–9۔ آئی ایس بی این 978-1-108-05548-2۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. Miller 1977, preface ix.
  4. http://orissa.gov.in/e-magazine/Orissareview/2008/May-2008/engpdf/Poet39-40.pdf
  5. ^ ا ب Miller 1977.
  6. The Orissa Historical Research Journal۔ Superintendent of Research and Museum۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. Harish Chandra Das؛ State Level Vyasakabi Fakir Mohan Smruti Samsad۔ The cultural heritage of Khurda۔ State Level Vyasakabi Fakir Mohan Smruti Samsad۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. Nirmal Dass۔ Songs of the Saints from the Adi Granth۔ State University of New York Press۔ صفحہ 130۔ آئی ایس بی این 978-0791446836۔
  9. Encyclopaedia of Education, Culture and Children's Literature: v. 3. Indian culture and education۔ Deep & Deep Publications۔ صفحات 49–۔ آئی ایس بی این 978-81-8450-150-6۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. Harish Dhillon (1 جنوری 2010)۔ Guru Nanak۔ Indus Source۔ صفحات 88–۔ آئی ایس بی این 978-81-88569-02-1۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. Navtej Sarna (1 اپریل 2009)۔ THE BOOK OF NANAK۔ Penguin Books Limited۔ صفحات 33–۔ آئی ایس بی این 978-81-8475-022-5۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

حوالہ جات[ترمیم]