جی ایم درانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جی ایم درانی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1919  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پشاور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 ستمبر 1988 (68–69 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ گلو کار،  نغمہ ساز،  اداکار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

غلام محمد مصطفٰی درانی یا جی ایم ایم درانی (1919ء - 8 ستمبر 1988ء) ایک بھارتی ریڈیو ڈراما فنکار، پلے بیک گلوکار، اداکار اور موسیقی ڈائریکٹر تھا۔[1] وہ ریڈیو ڈراما آرٹسٹ اور دہلی اسٹیشن، لاہور اسٹیشن اور بمبئی ایئر ( آکاشوانی ، ریڈیو براڈکاسٹر) کے تمام وقت گلوکار تھے۔ ان کی مادری زبان اگرچہ پشتو تھی مگر اس کی ہندی، پنجابی و اردو پر بھی مضبوط گرفت تھی۔ انہوں نے 1930ء، 1940ء اور 1950ء کی دہائیوں میں اردو، پشتو، پنجابی سمیت بھارت کی کئی فلموں میں گانے گائے۔ 50 کی دہائی کے بعد درانی نے گلوکاری کم کر دی وہ ریڈیو براڈ کاسٹر ذو الفقار علی بخاری کے شاگرد تھے۔ انہوں نے پلے بیک گلوکاری کے ذریعے اپنی شناخت پیدا کرنے کی کوشش کی اور کے ایل سہگل کی گلوکاری کے انداز کو نہیں اپنایا۔ جی ایم درانی کی قرآن خوانی، اداس گانوں، رومانٹک گیت، بھجن، قوالیاں، حب الوطنی پر مبنی گانے قابل ذکر ہیں۔ وہ ان پہلے مسلمان گلوکاروں میں سے ایک تھے جس نے ہندو دیوتاؤں کے بھجن گائے۔[2] اس موقع پر ایم درانی پنجابی کے سب سے سینئیر گلوکار اور اداکار بھی تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

جی ایم درانی 1919ء میں پشاور برطانوی بھارت میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک پشتون تھے۔ محمد زئی درانی کے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک قدامت پسند خاندان تھا جہاں چائے تک نہیں پی جاتی تھی اور دودھ، لسی جیسے مشروبات کو ہی منتخب کیا جاتا تھا ۔ جب انہوں نے سنے ہوئے کچھ گانوں کو گایا تو لوگ ان کے بارے میں یہی کہتے کہ اسے بمبئی جانا چاہئیے کیونکہ اس کی آواز بہت اچھی تھی۔ اس کے دماغ میں اداکار بننے کا خیال پیدا ہوا اور وہ گھر بار چھوڑ کر پیسہ کمانے نکل پڑا۔

خاندان[ترمیم]

اس کی ماں اس کے بچپن میں ہی گزر گئی تھی۔ جب وہ بڑا ہوا تو اس کا والد اس کی تعلیم و تربیت کے معاملے میں بہت سخت مزاج کا حامل تھا۔ اس کے گھر میں صرف اس کی دادی اس کا ساتھ دیتی تھی لیکن اپنے بیٹے کے غصہ کے سامنے وہ بھی اسے نہیں بچا سکتی تھی۔[3]

شادی[ترمیم]

مشہور اداکارہ جیوتی، جس کے ساتھ اس نے گلوکاری کی، اس خوبصورت پٹھان جو شاندار آواز کا مالک بھی تھا، سے بہت متاثر ہوئی۔ اس کا اصل نام ستارہ بیگم تھا۔ وہ اس سے محبت میں مبتلا ہوا اور انہوں نے جلد ہی شادی کر لی۔ جیوتی، وحیدان کی سب سے چھوٹی بہن تھی جس نے علی بابا سمیت کئی فلموں میں کام کیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]