حدیث جبریل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حدیث جبریل ایک مشہور حدیث ہے جس کے روایوں میں عمر ابن الخطاب اور ابوہریرہ جیسے بڑے صحابہ شامل ہیں،۔[1] اس روایت کو مسلم و بخاری نے اپنے صحیح میں روایت کیا ہے۔[2] روایت کے مطابق جبریل علیہ السلام (فرشتہ) انسانی صورت میں آئے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایمان کیا ہے؟ اور دیگر سوالات کیے،[3] یہ گفتگو کرنے کے بعد وہ چلے گئے تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اصحاب کو بتایا کہ یہ فرشتہ جبریل تھے، جو تمہیں دین کی تعلیم دینے آئے۔

حدیث

(ایمان یہ ہے) کہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ اور اچھی اور بری تقدیر پر بھی ایمان و یقین رکھو

عربی متن

عَنْ عمر بن الخطاب قَالَ: بينما نحن عند رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ذات يوم إذ طلع علينا رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليہ أثر السفر ولا يعرفہ منا أحد حتى جلس إِلَى النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فأسند ركبتيہ إِلَى ركبتيہ ووضع كفيہ عَلَى فخذيہ وقَالَ: يا محمد أخبرني عَنْ الإسلام؟ فقَالَ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:

"الإسلام ، 1- أن تشهد أن لا إلہ إلا اللَّہ وأن محمدا رَسُول اللَّهِ، 2- وتقيم الصلاة، 3- وتؤتي الزكاة، 4- وتصوم رمضان، 5 وتحج البيت إن استطعت إليہ سبيلا" قَالَ صدقت۔ فعجبنا لہ يسألہ ويصدقہ! قَالَ: فأخبرني عَنْ الإيمان؟ قَالَ: " 1- أن تؤمن باللَّہ، 2- وملائكته- 3- وكتبہ 4- ورسلہ 5- واليوم الآخر؛ 6- وتؤمن بالقدر خيرہ وشرہ" قَالَ صدقت قَالَ: فأخبرني عَنْ الإحسان؟ قَالَ: "أن تعبد اللَّہ كأنك تراہ فإن لم تكن تراہ فإنہ يراك" قَالَ: فأخبرني عَنْ الساعة؟ قَالَ: "ما المسئول عَنْها بأعلم مِنْ السائل" قَالَ: فأخبرني عَنْ أماراتها؟ قَالَ: "أن تلد الأمة ربتها، وأن ترى الحفاة العراة العالة رعاء الشاء يتطاولون في البنيان!" ثم انطلق فلبثت مليا ثم قَالَ: "يا عمر أتدري مِنْ السائل؟" قلت : اللَّہ ورسولہ أعلم۔ قَالَ: "فإنہ جبريل أتاكم يعلمكم دينكم" رَوَاهُ مُسْلِمٌ

اردو ترجمہ

عمر بن خطاب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرتھے کہ اچانک ہمارے روبروایک شخص ظاہرہوا،جس کے کپڑے بے حدسفیداوربال نہایت سیاہ تھے، نہ تو اس پرسفرکے آثارتھے اورنہ ہم میں کوئی اس سے واقف تھا، وہ (شخص) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو بیٹھ گیا اوراپنے دونوں زانوں کونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زانوئے مبارک سے لگادیااوراپنے ہاتھوں کواپنے دونوں زانوؤں پررکھ لیا اورعرض کیا :ائے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )مجھے بتلائے کہ :۔ ارکان اسلام پانچ ہیں﴾ اسلام کیا ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ توگواہی دے کہ اللہ کے سواکوئی معبودنہیں،اوریہ کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں،اور نماز کو اچھی طرح پابندی سے اداکرے،اورزکوۃ دے اوررمضان کے روزے رکھے اورخانۂ کعبہ کاحج کرے بشرطیکہ وہاں تک پہنچنے پرقادرہو،اس شخص نے (یہ سن کر)کہا کے آپ نے سچ فرمایا۔ ہم سب کواس پرحیرت ہوئی کہ آپ سے پوچھتاہے اورساتھ ہی تصدیق بھی کردیتاہے، اس شخص نے کہا کہ مجھے۔ ارکان ایمان چھ ہیں ﴾ ایمان سے آگاہ کیجئے ،آپ نے ارشاد فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پرایمان لائے اوراسکے فرشتوں پر اوراسکی کتابوں پر ،اوراس کے رسولوں پر،اورروزقیامت پر،اوریقین رکھے خیروشرپرکہ وہ قضاء وقدرسے ہیں،اس شخص نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔ پھراس شخص نے پوچھامجھے بتائے کہ :۔ ارکان احسان دوہیں ﴾ احسان کیا ہے؟آپ نے ارشاد فرمایاکہ تواللہ تعالی کی (دل لگاکر)اس طرح عبادت کرے گویاکہ تواس کودیکھ رہا ہے، اگرتواس کواس طرح نہ دیکھ سکے تو(خیراتناتوخیال رکھ)کہہ وہ تجھ کودیکھ رہاہے ،پھراس شخص نے پوچھامجھے :۔ قیامت اوراس کی نشانیاں﴾ قیامت کے بارے میں خبردیجئے؟آپ نے فرمایا :جس سے تم دریافت کر رہے ہووہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا،پھراس نے پوچھاکہ قیامت کی نشانیاں کیا ہیں؟آپ نے فرمایا: جب لونڈی مالک کوجنے اوریہ کہ ننگے پیرچلنے والے‘ ننگے بدن ‘تنگدست اوربکریاں چرانے والوں کوتودیکھے کہ وہ بلندعمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پرفخرکریں گے ،راوی یعنی عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:کہ وہ شخص چلاگیااورمیں دیرتک ٹھیرا رہاپھرآپ نے مجھ سے فرمایا: کہ ائے عمر کیا تم جانتے ہوکہ سائل کون تھا؟میں نے جواب دیاکہ اللہ اوراس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں، آپ نے فرمایا: وہ تو جبرئیل تھے ،تمہارے پاس اس غرض سے آئے تھے کہ تم کوتمہارا دین سکھادیں۔

الفاظ کے اختلافات

(اس حدیث کی مسلم نے روایت کی ہے) اور ابوہریرہ نے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے،اوران کی روایت کے اختلافی الفاظ یہ ہیں،جب تم ننگے پیرچلنے والے،ننگے بدن ،بہروں اورگونگوں کوزمین کے بادشاہ دیکھیں، (قیامت کا آنا)ان پانچ چیزوں میں ہے،جن کواللہ تعالی کے سواکوئی نہیں جانتا۔ پھرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۂ لقمٰن پ 21ع4کی )یہ آیت پڑھی ،ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم مافی الارحام وماتدری نفس ماذاتکسب غداوماتدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم خبیر۔(بے شک اللہ بزرگ وبرت رہی کوقیامت کی خب رہے اوروہی بارش برساتاہے اوروہی جانتاہے جوکچھ رحم میں ہے (یعنی حاملہ کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی )اورکوئی شخص نہیں جانتاکہ وہ کل کیا عمل کرے گااورکوئی شخص نہیں جانتاکہ وہ کس زمین پرمرے گا،بے شک اللہ سب باتوں کاجاننے والاباخب رہے (بخاری) اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)

حوالہ جات

  1. معارج القبول بشرح سلم الوصول إلى علم الأصول المكتبة الإسلامية۔ وصل لهذا المسار في 28 نومبر 2015
  2. حديث جبريل في سؤالہ عن الإيمان وأهميتہ في الإسلام موقع سفر الحوالي۔ وصل لهذا المسار في 28 نومبر 2015
  3. حديث جبريل عليہ السلام إسلام ويب موقع المقالات۔ وصل لهذا المسار في 28 نوفمبر 2015